Taliban fighters holding weapons inside the presidential palace in Kabul Afghanistan

کابل کا زوال اور مٹھی بھر جنگجوؤں کا قبضہ: افغان فورسز کی ناکامی کا وہ تلخ سچ جو کوئی نہیں بتاتا!

تحریر: عمر دراز وزیر
کچھ عرصہ قبل افغانستان میں طالبان نے جس طرح بندوق کی نوک پر کابل کا کنٹرول سنبھالا، وہ ایک تاریخی موڑ تھا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ یہ سب کیسے ہوا اور اس کے پیچھے کس کی حمایت کارفرما تھی، لیکن 20 سال تک افغانستان میں رہنے کے بعد امریکہ نے جس طرح راہِ فرار اختیار کی، وہ دنیا نے دیکھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے خطاب میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ جب افغان فورسز خود لڑنے کیلئے تیار نہ ہوں، تو امریکی فوج کب تک ان کی جنگ لڑتی؟ خیر، یہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن اس صورتحال نے دنیا کے سامنے چند تلخ حقائق ضرور عیاں کر دئے۔
آج ہر صاحبِ شعور اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اگر افغانستان کا دفاعی نظام پاکستان، روس یا امریکہ کی طرح مضبوط ہوتا، اور ان کے پاس ایک منظم فوج اور فعال انٹیلی جنس ادارے ہوتے، تو حالات مختلف ہوتے۔ یہ خود امریکہ کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے 3 لاکھ کے قریب افغان فورسز تیار کی ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان فورسز کی تعداد کا نہیں بلکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت، ایک مرکزی کمانڈ (Central Command) اور ان تمام ناگزیر وسائل کا نہ ہونا تھا جو کسی بھی آزاد ملک کے دفاع کیلئے لازم ہوتے ہیں۔ اگر یہ سب موجود ہوتا، تو آج مٹھی بھر مسلح گروہ پورے افغانستان کو بغیر کسی قابلِ ذکر مزاحمت کے اپنی گرفت میں نہ لے پاتے، اور نہ ہی منتخب صدر اشرف غنی کو یوں ملک سے فرار ہونا پڑتا۔ اگرچہ اشرف غنی کا موقف ہے کہ انہوں نے یہ قدم ملک کو خونریزی سے بچانے کیلئے اٹھایا، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر ان کے پاس مضبوط فوج اور دفاعی ادارے ہوتے، تو انہیں اور افغان عوام کو ایسے دن کبھی نہ دیکھنے پڑتے۔
تزویراتی طور پر دیکھا جائے تو مختلف علاقوں میں تعینات افغان فورسز کا پورا دارومدار ہوائی لاجسٹک سپورٹ پر تھا، اور جیسے ہی امریکی افواج نے یہ فضائی مدد واپس لی، افغان دفاع تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ روس کے خلاف افغان جہاد کے دوران بھی، جب تک روسی افواج کو فضائی برتری حاصل تھی، مجاہدین چھپ کر کارروائیاں کرتے رہے، لیکن جیسے ہی امریکہ نے انہیں طیارہ شکن ‘اسٹنگر میزائل’ فراہم کئے، فضائی برتری ختم ہو گئی اور مجاہدین کی فتح یقینی ہو گئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاعی ٹیکنالوجی اور نظام ہی کسی بھی جنگ کا رخ بدلتے ہیں۔
پاکستان، روس، امریکہ اور چین جیسے ممالک اگر آج دنیا کے نقشے پر باوقار ہیں، تو اس کی وجہ ان کا ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام، مضبوط افواج اور طاقتور انٹیلی جنس ادارے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی دشمن یا مٹھی بھر مسلح گروہ ان ممالک کی سالمیت کو چیلنج کرنے یا نظام کا تختہ الٹنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہم اکثر اوقات اپنی فوج پر تنقید کرتے ہیں بلا شبہ، اصلاح کی نیت سے کی جانے والی مثبت تنقید جمہوریت کا حسن ہوتی ہے، لیکن یہ تنقید صرف تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ خدا نہ کرے کہ ہمیں کبھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے جن سے افغانستان دہائیوں سے گزر رہا ہے، لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی نازک اور ہنگامی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے افواجِ پاکستان پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کی عملی مثال ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ اور خصوصاً کامیاب سوات آپریشن کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔
اب جبکہ طالبان افغانستان کو اپنی گرفت میں لے چکے ہیں، انہیں مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا۔ انہیں عوامی رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے ایک ایسی منتخب اور ہمہ جہت حکومت تشکیل دینی ہوگی جو بنیادی انسانی حقوق کی ضامن ہو۔ ملک کے معطل اداروں کو بحال کرنا، تمام سیاسی رہنماؤں کو واپس بلا کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا مستقل حل نکالنا، اور معیشت کی مضبوطی کیلئے عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنا اب ان کی اولین ذمہ داری ہے۔
اس کے ساتھ ہی، افغان قومی جھنڈے پر جو کشمکش شروع کی گئی ہے، اسے فوری ترک کرنا چاہئے۔ پرانے قومی جھنڈے پر بھی، موجودہ جھنڈے کی طرح، کلمہ طیبہ تحریف ہے، لہذا اس کا احترام برقرار رکھا جائے کیونکہ اس معاملے سے افغان عوام کے احساسات بری طرح مجروح ہو رہے ہیں۔ طالبان کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بندوق کے زور پر حکومت حاصل تو کی جا سکتی ہے، لیکن عوامی تائید اور مضبوط اداروں کے بغیر اسے دیرپا چلانا ناممکن ہوتا ہے۔ اگر اب بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا، تو یہی چند کوتاہیاں انہیں بہت مہنگی پڑ سکتی ہیں۔

  :یہ بھی ملاحظہ کیجئے

طالبان کا دوسرا دور: کیا کابل کے نئے حکمران ماضی کی متشدد غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں؟


Executive Summary: The Collapse of Kabul and Lessons in National Defense

  • The Sudden Fall: The Taliban’s swift takeover of Afghanistan exposed critical structural flaws rather than just a lack of military personnel. Despite U.S. claims of building a 300,000-strong Afghan National Army, the force collapsed due to the absence of a unified central command, tactical self-sufficiency, and emergency management capabilities.

  • The Air Support Vulnerability: A key strategic failure was the Afghan forces’ absolute reliance on U.S. aerial logistical support. The moment American forces withdrew this air cover, the domestic defense system folded. This mirrors the Soviet-Afghan war era, where the introduction of U.S. Stinger missiles stripped Russia of its air superiority, shifting the entire momentum of the conflict.

  • The Power of Institutional Defense: The survival of nations like Pakistan, China, Russia, and the U.S. relies heavily on their modern, highly organized military and intelligence infrastructure. While constructive criticism is vital for democracy, blind institutional degradation ignores the reality that a strong central defense is the only barrier preventing armed factions from subverting state sovereignty a lesson proven during Pakistan’s successful anti-terror operations in Swat.

  • The Road Ahead for the Taliban: Acquiring power through force is entirely different from sustaining it. To avoid state failure, the new regime in Kabul must shift toward inclusive governance based on public consensus, protect human rights, and restore state institutions.

  • Avoiding Internal Friction: Winning global recognition and rebuilding a shattered economy requires international trust. The regime must also avoid alienation over symbolic issues such as the controversy surrounding the historic national flag, which carries deeply rooted public sentiments—as heavy-handed enforcement will ultimately make long-term governance impossible.

اپنا تبصرہ بھیجیں