دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ویب ڈیسک
بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے کیچ مانگی میں پولیس پوسٹ پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں کم از کم 9 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ 7 اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔ حملے میں شہید ہونے والوں میں دو اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (SHOs) بھی شامل ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، نامعلوم مسلح افراد نے زیارت کے علاقے کیچ مانگی میں پولیس پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آوروں نے وہاں تعینات اہلکاروں کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
واقعے کے فوری بعد مقامی آبادی اور لواحقین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین نے لاپتہ اہلکاروں کی فوری بازیابی کیلئے زیارت کراسنگ شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے لاپتہ اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔
اگرچہ سرکاری سطح پر لاپتہ ہونے والوں کی تعداد 7 بتائی جا رہی ہے، تاہم مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اغوا کئے جانے والے اہلکاروں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس پوسٹ پر حملے کے دوران بڑی تعداد میں اہلکاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
حکومتی عہدیداروں کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور “دی خیبر ٹائمز” اس حساس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھئے:
حنا اوڑک دھرنا: آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات، لاپتہ افراد کی بازیابی اور سکیورٹی صورتحال پر تشویش
——————————————————————
EXCLUSIVE | Balochistan: 9 Police Personnel Martyred, 7 Missing in Ziarat Attack
Ziarat: In a tragic escalation of violence in Balochistan, at least 9 police personnel, including two Station House Officers (SHOs), were killed when gunmen stormed a police facility in the Kach Mangi area of Ziarat.
Seven officers remain missing and are feared to have been abducted. In response, local protesters have blocked the Ziarat crossing, demanding the safe recovery of the missing personnel. While authorities have confirmed 7 missing, local sources suggest the number of abducted personnel may be significantly higher.
The Khyber Times is monitoring the situation closely as the search for the missing continues.




