سکیورٹی ذرائع کے مطابق، بارود سے بھری گاڑی کو خودکش حملے سے قبل ہی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جس سے علاقے میں بڑے پیمانے پر ممکنہ جانی و مالی نقصان ٹل گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے ایک گاڑی اور موٹر سائیکل کو دھماکا خیز مواد سے لیس کر کے بڑے حملے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ سکیورٹی اداروں نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس گاڑی کی مسلسل 3 روز تک نگرانی (سرویلنس) کی۔
جیسے ہی بارود سے بھری یہ گاڑی عام شہری کی آبادی سے دور ایک کھلے علاقے میں پہنچی، سکیورٹی فورسز نے اسے نشانہ بنایا۔ کارروائی کے نتیجے میں بارود سے بھری گاڑی اور موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ گاڑی میں موجود ایک خارجی دہشتگرد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے، آبادی سے دور کارروائی کرنے کے باعث معصوم شہریوں کی جان و مال کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وانا میں دہشتگردی کی اس بڑی کوشش کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیر داخلہ نے کہا، کہ سکیورٹی فورسز نے کمال مہارت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وانا اور اس کے گرد و نواح کی آبادی کو ایک ممکنہ بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ خودکش حملے کا یہ ناپاک منصوبہ وقت سے پہلے ناکام بنانے پر میں اپنی فورسز کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے ہمیشہ کی طرح اپنی جانوں پر کھیل کر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔”
اس حالیہ کارروائی کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے وانا اور گرد و نواح کے سکیورٹی پس منظر کو دیکھنا انتہائی ضروری ہے۔ جنوبی وزیرستان کا علاقہ وانا، تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی حساس رہا ہے۔
ماضی میں وانا اور جنوبی وزیرستان کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر غیر ملکی عسکریت پسندوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ یہاں سے پورے ملک میں دہشتگردانہ کارروائیاں آپریٹ کی جاتی تھیں۔ پاک فوج نے 2009ء میں یہاں آپریشن راہِ نجات شروع کیا، جس کے بعد علاقے کو دہشتگردوں کے قبضے سے چھڑایا گیا اور امن بحال کیا گیا۔
فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد جہاں ایک طرف ترقیاتی کام شروع ہوئے، وہیں دوسری طرف افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس سرحدی پٹی پر دہشتگردوں کے سلیپر سیلز (Sleeper Cells) دوبارہ متحرک ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں وانا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور مقامی امن کمیٹیوں کے ارکان پر ٹارگٹ کلنگ، آئی ای ڈی (IED) دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
وانا میں بدامنی کی اس حالیہ لہر کے خلاف مقامی محسود اور وزیر قبائل سمیت عام شہری بھی شدید سراپا احتجاج رہے ہیں۔ امن کی بحالی اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئیے وانا میں متعدد بڑے اولسی پاسون (عوامی بیداری) مارچ اور دھرنے بھی دئے جا چکے ہیں، جہاں مقامی لوگ حکومت اور سکیورٹی اداروں سے امن و امان کے سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔
موجودہ حالات میں سکیورٹی فورسز کی یہ انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کیلئے انتہائی الرٹ ہیں۔ بارود سے بھری گاڑی کی بروقت تباہی نے وانا کو ایک خونریز المئے سے بچا لیا ہے جو خطے میں امن قائم رکھنے کی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
Major Terror Plot Foiled in Wana: Summary
The Incident
Security forces successfully averted a massive terrorist attack in Wana, South Waziristan, by destroying a vehicle and a motorcycle packed with explosives before they could be used in a planned suicide attack.
Key Highlights of the Operation
-
Intelligence-Based Action: Security agencies closely monitored the explosive-laden vehicle for three consecutive days.
-
Civilian Safety: The vehicle was deliberately targeted in an isolated area, away from residential zones, ensuring zero civilian casualties.
-
Casualties: One terrorist (Khariji) was killed and five others were injured during the operation.
-
Official Praise: Interior Minister Mohsin Naqvi highly commended the security forces for their exceptional professionalism and for saving Wana and its surrounding areas from a major catastrophe.
Background & Context
-
Historical Conflict: Wana was historically a stronghold for the banned Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP) until major military operations (like Operation Rah-e-Nijat in 2009) cleared the region.
-
Recent Resurgence: Following geopolitical shifts in Afghanistan, militant “sleeper cells” have recently tried to regroup, leading to a spike in targeted attacks on security personnel and peace committees.
-
Public Outcry: In response to the recent wave of unrest, the local tribes of Wana have repeatedly staged massive peaceful rallies (Olasi Pasoon) demanding stricter law enforcement and permanent peace in the region.




