ارومچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں نئی سفارتی پیش رفت چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور دہشتگردی کے الزامات نے تعلقات کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ چین کی میزبانی میں ہونے والی یہ بات چیت ایک ایسے سفارتی عمل کا حصہ ہے جو ماضی کے دوحہ اور استنبول مذاکرات سے آگے بڑھ کر اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان کے درمیان ابتدائی مگر نسبتاً مثبت ماحول میں ہونے والی سفارتی نشست سمجھے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات مارچ 2026 کے آغاز میں ایک مختصر نشست کی صورت میں منعقد ہوئے۔ اس ملاقات کو ابتدائی اعتماد سازی کا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگلے دور کی باضابطہ تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی۔ یہ پہلی بار ہے کہ چین کی فعال ثالثی میں دونوں ممالک کو ایک نسبتاً منظم اور سنجیدہ سفارتی فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چین اس پورے عمل میں ایک اہم اور اثرانداز ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان یو شیا یونگ مسلسل اسلام آباد اور کابل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ چین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ خطے میں استحکام ناگزیر ہے، سرحدی کشیدگی تجارت اور علاقائی منصوبوں کے لئے نقصان دہ ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست رابطہ ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں ارومچی کو ایک غیر جانبدار اور محفوظ سفارتی مقام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ارومچی مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سب سے اہم نکتہ سیکیورٹی صورتحال رہا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان مخالف شدت پسند گروہ، خصوصاً ٹی ٹی پی، افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ دہشتگردوں کے حوالے سے ایک واضح قانونی اور عملی میکانزم ہونا چاہئے۔ سرحدی علاقوں میں ان عناصر کی نقل و حرکت روکی جائے۔ پاکستان یہ بھی مؤقف رکھتا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی کو مضبوط کئے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ ارومچی مذاکرات کے بعد افغان فریق کی جانب سے نسبتاً نرم اور مثبت بیانات سامنے آئے ہیں۔ یہ رویہ ماضی کے سخت اور الزام تراشی پر مبنی بیانات کے مقابلے میں ایک واضح تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کے اندرونی سیکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، مختلف گروہوں پر مکمل کنٹرول ایک بڑا مسئلہ ہے اور سرحدی انتظام ابھی بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔ ارومچی مذاکرات کو سمجھنے کے لئے ماضی کے سفارتی رابطوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ دوحہ، استنبول اور سعودی عرب میں ہونے والے پاک افغان امن مذاکرات، جو کئی نشستوں پر مشتمل رہے، ان کے مقابلے میں ارومچی مذاکرات سے دونوں ممالک کی توقعات زیادہ ہیں، کیونکہ یہ مذاکرات امن، تجارت اور اعتماد سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحدی تمام اہم بارڈرز بند ہیں۔ طورخم بارڈر کو وقفے وقفے سے صرف پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی واپسی کے لئے کھولا جاتا ہے، جبکہ تجارت اور دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کے لئے یہ بارڈر مستقل طور پر بند ہے۔ سرحدی کشیدگی اور بارڈر بندش نے دونوں ممالک کی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سرحدی تجارت متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں اربوں روپے کے مجموعی معاشی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے چھوٹے تاجروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ افغانستان میں خوراک اور ادویات کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ارومچی مذاکرات کی اہمیت اس لئے زیادہ سمجھی جا رہی ہے کہ یہ دیگر سفارتی کوششوں کے مقابلے میں کئی حوالوں سے مختلف ہیں۔ یہ مذاکرات چین کی براہ راست اور فعال ثالثی میں ہوئے جہاں ماحول نسبتاً زیادہ مثبت اور تعمیری رہا۔ دونوں فریق پہلی بار زیادہ منظم انداز میں آمنے سامنے بیٹھے جس سے سیکیورٹی اور سیاسی سطح پر ایک نئے میکانزم کی بنیاد پڑنے کا امکان پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ ان مذاکرات کے دوران فریقین پہلی بار ایک ہی میز پر ڈنر اور لنچ کے لئے بھی اکٹھے ہوئے جو اعتماد سازی کے حوالے سے ایک اہم علامتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے اگرچہ امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے تاہم اصل چیلنجز اب بھی برقرار ہیں جن میں دہشتگردی کا مسئلہ، سرحدی اعتماد کی کمی، سیاسی بیانیوں میں فرق اور سیکیورٹی خدشات شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مستقبل کے مذاکراتی عمل کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ ارومچی مذاکرات کو نہ تو مکمل کامیابی کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ناکامی۔ یہ دراصل ایک ابتدائی مگر اہم سفارتی قدم ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان، افغانستان اور چین تینوں اس نتیجے پر پہنچتے نظر آتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن صرف مسلسل رابطے، اعتماد سازی اور عملی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ ابتدائی کوشش ایک مستقل سفارتی میکانزم میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔ آنے والے مہینے اس سوال کا جواب واضح کریں گے۔

ارومچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں نئی سفارتی پیش رفت

چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات: اعتماد سازی، سیکیورٹی تعاون اور خطے میں پائیدار امن کی نئی سفارتی کوشش

چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور دہشتگردی کے الزامات نے تعلقات کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ چین کی میزبانی میں ہونے والی یہ بات چیت ایک ایسے سفارتی عمل کا حصہ ہے جو ماضی کے دوحہ اور استنبول مذاکرات سے آگے بڑھ کر اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
ارومچی میں ہونے والے یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان کے درمیان ابتدائی مگر نسبتاً مثبت ماحول میں ہونے والی سفارتی نشست سمجھے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات مارچ 2026 کے آغاز میں ایک مختصر نشست کی صورت میں منعقد ہوئے۔ اس ملاقات کو ابتدائی اعتماد سازی کا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگلے دور کی باضابطہ تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی۔ یہ پہلی بار ہے کہ چین کی فعال ثالثی میں دونوں ممالک کو ایک نسبتاً منظم اور سنجیدہ سفارتی فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
چین اس پورے عمل میں ایک اہم اور اثرانداز ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان یو شیا یونگ مسلسل اسلام آباد اور کابل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ چین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ خطے میں استحکام ناگزیر ہے، سرحدی کشیدگی تجارت اور علاقائی منصوبوں کے لئے نقصان دہ ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست رابطہ ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں ارومچی کو ایک غیر جانبدار اور محفوظ سفارتی مقام کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ارومچی مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سب سے اہم نکتہ سیکیورٹی صورتحال رہا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان مخالف شدت پسند گروہ، خصوصاً ٹی ٹی پی، افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ دہشتگردوں کے حوالے سے ایک واضح قانونی اور عملی میکانزم ہونا چاہئے۔ سرحدی علاقوں میں ان عناصر کی نقل و حرکت روکی جائے۔ پاکستان یہ بھی مؤقف رکھتا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی کو مضبوط کئے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔
ارومچی مذاکرات کے بعد افغان فریق کی جانب سے نسبتاً نرم اور مثبت بیانات سامنے آئے ہیں۔ یہ رویہ ماضی کے سخت اور الزام تراشی پر مبنی بیانات کے مقابلے میں ایک واضح تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کے اندرونی سیکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، مختلف گروہوں پر مکمل کنٹرول ایک بڑا مسئلہ ہے اور سرحدی انتظام ابھی بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔
ارومچی مذاکرات کو سمجھنے کے لئے ماضی کے سفارتی رابطوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ دوحہ، استنبول اور سعودی عرب میں ہونے والے پاک افغان امن مذاکرات، جو کئی نشستوں پر مشتمل رہے، ان کے مقابلے میں ارومچی مذاکرات سے دونوں ممالک کی توقعات زیادہ ہیں، کیونکہ یہ مذاکرات امن، تجارت اور اعتماد سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحدی تمام اہم بارڈرز بند ہیں۔ طورخم بارڈر کو وقفے وقفے سے صرف پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی واپسی کے لئے کھولا جاتا ہے، جبکہ تجارت اور دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کے لئے یہ بارڈر مستقل طور پر بند ہے۔
سرحدی کشیدگی اور بارڈر بندش نے دونوں ممالک کی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سرحدی تجارت متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں اربوں روپے کے مجموعی معاشی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے چھوٹے تاجروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ افغانستان میں خوراک اور ادویات کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔
ارومچی مذاکرات کی اہمیت اس لئے زیادہ سمجھی جا رہی ہے کہ یہ دیگر سفارتی کوششوں کے مقابلے میں کئی حوالوں سے مختلف ہیں۔ یہ مذاکرات چین کی براہ راست اور فعال ثالثی میں ہوئے جہاں ماحول نسبتاً زیادہ مثبت اور تعمیری رہا۔ دونوں فریق پہلی بار زیادہ منظم انداز میں آمنے سامنے بیٹھے جس سے سیکیورٹی اور سیاسی سطح پر ایک نئے میکانزم کی بنیاد پڑنے کا امکان پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ ان مذاکرات کے دوران فریقین پہلی بار ایک ہی میز پر ڈنر اور لنچ کے لئے بھی اکٹھے ہوئے جو اعتماد سازی کے حوالے سے ایک اہم علامتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ارومچی مذاکرات نے اگرچہ امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے تاہم اصل چیلنجز اب بھی برقرار ہیں جن میں دہشتگردی کا مسئلہ، سرحدی اعتماد کی کمی، سیاسی بیانیوں میں فرق اور سیکیورٹی خدشات شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مستقبل کے مذاکراتی عمل کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔
ارومچی مذاکرات کو نہ تو مکمل کامیابی کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ناکامی۔ یہ دراصل ایک ابتدائی مگر اہم سفارتی قدم ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان، افغانستان اور چین تینوں اس نتیجے پر پہنچتے نظر آتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن صرف مسلسل رابطے، اعتماد سازی اور عملی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ ابتدائی کوشش ایک مستقل سفارتی میکانزم میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔ آنے والے مہینے اس سوال کا جواب واضح کریں گے