Image collage showing attack damage at Miranshah Press Club, North Waziristan. Top inset: Photo of PTI MPA Naik Muhammad. Main image background: Damaged entrance gate of Press Club Miranshah with Urdu sign. Side insets: broken window glass; overturned motorcycle in garden. Two police officers reported injured.

پی ٹی آئی ایم پی اے کا میرانشاہ پریس کلب پر مسلح حملہ: 15 سے زائد غنڈوں کے حملے سے دو پولیس اہلکار زخمی

میرانشاہ ( دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) شمالی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر میرانشاہ میں صحافت کی آزادانہ آواز کو دبانے اور پریس کلب کی حرمت پامال کرنے کا انتہائی سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ صوبائی اسمبلی نیک محمد المعروف (نیک مامتی) کی ایما پر ان کے بھائی نور محمد المعروف (نور مامتی) نے 15 سے زائد ڈنڈا بردار مسلح غنڈوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب میرانشاہ پر پرتشدد دھاوا بول دیا، غنڈوں کا راستہ روکنے پر پپریس کلب کی عمارت کی سیکیورٹی پر مامور 2 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق یہ مسلح جُھتا وزیرستان یونین آف جرنلسٹس اور میرانشاہ پریس کلب کے سینئر رکن و صحافی نور بہرام کو نشانہ بنانے کی غرض سے آیا تھا، جو علاقے کے عوامی مسائل اور سیاسی صورتِ حال پر مسلسل صحافتی تنقید کرتے رہتے ہیں۔ حملہ آور جب ڈنڈے لہراتے ہوئے پریس کلب کی عمارت میں جبراً داخل ہونے لگے تو مرکزی گیٹ پر تعینات پولیس سیکیورٹی اہلکاروں نے انتہائی بہادری کے ساتھ انہیں اندر جانے سے روکا۔
انکار کرنے پر غنڈوں نے آپے سے باہر ہو کر پولیس اہلکاروں پر تشدد شروع کر دیا اور ڈنڈوں کے بے دردی سے وار کر کے 2 سیکیورٹی اہلکاروں کو موقع پر شدید زخمی کر دیا، جبکہ عمارت کے شیشوں اور سامان کی توڑ پھوڑ کی۔
پریس کلب پر حملے اور پولیس پر تشدد کی خبر پھیلتے ہی خطے کی صحافتی برادری میں شديد غم و غصہ اور اشتعال کی لہر دوڑ گئی۔ واقعے کے فوراً بعد وزیرستان یونین آف جرنلسٹس اور میرانشاہ پریس کلب کا ایک ایمرجنسی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیاسی فاشزم اور غنڈہ گردی کے اس بزدلانہ اقدام کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔
وزیرستان یونین اف جرنلسٹس اور ،یرانشاہ پریس کلب کے مشترکہ اعلامئے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شمالی وزیرستان سجاد حسین اور ضلعی انتظامیہ سے دوٹوک مطالبات کئے گئے:
فوری ایف آئی آر اور گرفتاری: واقعے میں ملوث مرکزی ملزم نور مامتی، ایم پی اے نیک محمد اور تمام 15 سے زائد حملہ آوروں کے خلاف فوری طور پر دہشتگردی اور پولیس پر حملے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کےانہیں گرفتار کیا جائے۔
صحافیوں کی سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے والے ان شرپسند عناصر کو عبرت ناک سزا دی جائے۔
وزیرستان یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب میرانشاہ نے واضح اور حتمی الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صحافی برادری ایسے دھمکی آمیز ہتھکنڈوں اور سیاسی غنڈہ گردی سے ہرگز ہراساں نہیں ہوگی۔
اگر ضلعی پولیس اور انتظامیہ نے ملزمان کی گرفتاری میں ذرا سی بھی تاخیر یا لیت و لعل کا مظاہرہ کیا تو احتجاج کا دائرہ کار صرف وزیرستان تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کی تمام صحافتی تنظیموں کو ساتھ ملا کر صوبائی دارالحکومت پشاور میں اعلیٰ حکام کے دفاتر کے سامنے سخت احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔