Peaceful protest by local residents in KP tribal districts against unrest, holding banners for permanent peace and civil rights, with mountains and a historic fort in the background - The Khyber Times

خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع: بدامنی کا جن، ناکام آپریشنز اور پائیدار امن کا راستہ

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ
خیبرپختونخوا اور بالخصوص سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع ایک بار پھر شدید بدامنی، خوف اور عدم تحفظ کی لپیٹ میں ہیں۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز خطوط اور بم دھماکوں نے نہ صرف امن و امان کے دعووں کو پارہ پارہ کر دیا ہے بلکہ یہاں کے عوام کی روزمرہ زندگی کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سنگین سیکیورٹی بحران کے خلاف تمام قبائلی اضلاع میں عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگ سراپا احتجاج ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ریاستی ادارے ان عوامی احتجاجات اور فریادوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔
عوامی احتجاج اور حکام کی خاموشی
باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت تمام قبائلی علاقوں میں عوام نے بارہا سڑکوں پر نکل کر امن کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ احتجاجی ریلیاں، ہفتوں جاری رہنے والے دھرنے اور پرامن مظاہرے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ یہاں کے باسی اب مزید بدامنی، خون خرابے اور خوف کے سائے میں جینے سے تنگ آ چکے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود سرکاری سطح پر نہ تو کوئی مؤثر ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی ان مظلوم عوام کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ حکام کی اس سردمہری اور خاموشی نے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید کمزور کر دیا ہے۔
فوجی آپریشنز کی تاریخ اور زمینی حقائق کو اگر دیکھا جائے تو ماضی سے لے کر اب تک قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے درجنوں چھوٹے اور بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے ہیں۔ ان آپریشنز کی ایک طویل فہرست ہے جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
* آپریشن المیزان
* آپریشن راہِ راست اور راہِ نجات
* خیبر ون سے لے کر خیبر فور تک کے آپریشنز
* آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد (جو سب سے بڑے اور مہنگے ترین آپریشنز تسلیم کیے جاتے ہیں)
ان تمام آپریشنز کا بنیادی مقصد علاقے سے دہشت گردوں کا صفایا کرنا اور مستقل امن قائم کرنا تھا، مگر آج کے زمینی حقائق ان دعووں کے بالکل برعکس کہانی بیان کرتے ہیں۔
آپریشن ضربِ عضب کے بعد کی صورتحال: شدت پسندوں کی واپسی
ااب تک کی اجنے والے تمام اپریشنز سے مہنگا ترین اپریشن ضرب عضب رہاہے، ا سکے باوجود بھی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں بدامنی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا، بلکہ موجودہ دور میں حالات آپریشن ضربِ عضب سے پہلے کے دور سے بھی زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔
ماضی میں جو مقامی اور غیر ملکی شدت پسند فوجی کارروائیوں کے خوف سے افغانستان فرار ہو گئے تھے، وہ اب بتدریج واپس لوٹ چکے ہیں۔ پہلے مرحلے میں مقامی شدت پسندوں نے واپسی اختیار کر کے حالات پر دوبارہ گرفت حاصل کی، اور اب آہستہ آہستہ غیر ملکی شدت پسند عناصر بھی واپس آ رہے ہیں۔ ان غیر ملکی عناصر میں چائنیز طالبان یعنی “ترکستان اسلامک پارٹی” (TIP) قابل ذکر ہے، جسے آپریشن ضربِ عضب سے قبل ETIM (ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ) کے نام سے جانا جاتا تھا۔
مقامی شہریوں کے مؤقف کو جاننے کی کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ ان فوجی آپریشنز کے نتیجے میں سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا۔ بازار تباہ ہوئے، مکانات مسمار کئے گئے اور لاکھوں لوگوں کو آئی ڈی پیز (IDPs) بن کر اپنے ہی ملک میں بے گھری کی زندگی گزارنی پڑی۔ اتنی بڑی قربانیوں کے بعد بھی امن کا خواب ادھورا ہی رہا۔
موجودہ دور میں بھی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری سمیت ہر قسم کے جرائم عروج پر ہیں۔ صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس شدت پسندوں کے سامنے بے بس اور یرغمال دکھائی دیتی ہے۔
خاص طور پر باجوڑ، شمالی و جنوبی وزیرستان، کرم، اورکزئی، مہمند اور ضلع خیبر میں حالات بدترین ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی بھاری تعداد میں موجودگی کے باوجود، شدت پسند عناصر نہ صرف منظم انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے کر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کر رہے ہیں۔
مقامی سطح پر بااثر شخصیات اور پڑھے لکھے طبقے کے ساتھ تفصیلی مشاورت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فوجی آپریشنز کسی بھی مسئلے کا صرف وقتی حل ہو سکتے ہیں، مستقل علاج نہیں۔ اس دیرینہ مسئلے کے مستقل خاتمے اور پائیدار امن کیلئے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
1. سول اداروں کی مضبوطی: قبائلی اضلاع میں فوج کے بجائے سویلین اداروں، پولیس اور لیویز کو انتظامی و دفاعی لحاظ سے مضبوط اور بااختیار بنایا جائے۔
2. فاٹا انضمام کے وعدوں کی تکمیل: سابقہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام جس بنیادی مقصد (ترقی اور حقوق کی فراہمی) کیلئے کیا گیا تھا، اس پر روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔
3. محرومیوں کا خاتمہ اور تعلیم کا فروغ: علاقے کی دہائیوں پرانی معاشی محرومیوں کو دور کیا جائے، جنگ زدہ تعلیمی اداروں کو دوبارہ فعال کیا جائے اور نوجوانوں کو جدید تعلیم و روزگار کے مواقع دئے جائیں۔
4. عدالتی نظام کا نفاذ: انصاف کی فوری اور شفاف فراہمی کیلئے عدلیہ کے نظام کو نچلی سطح تک فعال کیا جائے تاکہ لوگوں کو اپنے حقوق کیلئے جرگوں یا شدت پسندوں کے پاس نہ جانا پڑے۔
5. بااختیار مقامی حکومتیں: قبائلی اضلاع میں بلدیاتی اور مقامی حکومتوں کو بنا کر انہیں براہِ راست فنڈز منتقل کئے جائیں تاکہ ترقیاتی کام مقامی لوگوں کی ضرورت کے مطابق ہوں۔
مقامی لوگوں، عمائدین، سیاسی اور بااثر شخصیات سے بات چیت کے دوران اس نتیجے پر پہنچ گیا، کہ جب تک قبائلی اضلاع کے عوام کو معاشی طور پر مستحکم نہیں کیا جائے گا اور انہیں کاروبار و ترقی کے دھارے میں شامل نہیں کیا جائے گا، تب تک دہشتگردی کی نرسریوں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ پائیدار امن بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ انصاف، تعلیم، معاشی ترقی اور بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام سے ہی ممکن ہے، اور یہی اس خطے کا اصل اور مستقل علاج ہے۔
��
یہ بھی پڑھئے۔۔
قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ

اپنا تبصرہ بھیجیں