Map of Afghanistan highlighting Nangarhar and Badakhshan amid rising security tensions

افغانستان میں طالبان کا دوہرا بحران: ننگرہار میں داعش کا وار، بدخشان میں اندرونی کشیدگی

دی خیبر ٹائمز : افغان مانیٹرنگ ڈیسک
تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ

ننگرہار کے ضلع اچین میں طالبان چیک پوسٹ پر بڑے حملے کی اطلاعات، بدخشان میں مقامی کمانڈروں کے اختلافات؛ کابل کو بیک وقت دو مختلف محاذوں کا سامنا

افغانستان میں طالبان حکومت کیلئے سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ مشرق میں داعش خراسان کی سرگرمیوں اور شمال میں بدخشان کے بعض مقامی طالبان کمانڈروں کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی نے کابل انتظامیہ کے سامنے دو ایسے مسائل کھڑے کردئے ہیں جن کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے، لیکن دونوں براہِ راست طالبان حکومت کی گرفت اور سیکیورٹی پالیسی کا امتحان لے رہے ہیں۔

ننگرہار کے ضلع اچین سے طالبان کی ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر داعش خراسان کے مبینہ حملے میں بڑی تعداد میں طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری طرف بدخشان میں مقامی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی اور بعض کمانڈروں کے درمیان اختلافات نے کابل کو شمالی افغانستان میں بھی اپنی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے اضافی اقدامات پر مجبور کیا ہے۔

ان دونوں واقعات کو الگ الگ دیکھا جائے تو یہ معمول کے سیکیورٹی مسائل محسوس ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں افغانستان کے موجودہ مجموعی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا طالبان حکومت ایک ہی وقت میں بیرونی مسلح خطرے اور اپنے اندر پیدا ہونے والی بے چینی کو مؤثر طریقے سے سنبھال سکتی ہے؟

ننگرہار کا ضلع اچین طویل عرصے سے داعش خراسان کے اہم مراکز میں شمار ہوتا رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں اور طالبان حکام متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ تنظیم کے بڑے نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے۔ لیکن اچین کے علاقے مامند سے سامنے آنے والی اطلاعات نے ان دعوؤں پر ایک بار پھر سوال اٹھا دئے ہیں۔

مقامی ذرائع اور افغان صحافتی حلقوں کے مطابق داعش خراسان کے جنگجوؤں نے غروبِ آفتاب کے بعد طالبان کی ایک سیکیورٹی چوکی کو اچانک نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ انتہائی منظم تھا اور طالبان اہلکاروں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے طالبان اہلکاروں کی تعداد 25 تک تھی اور بعض لاشوں کے ساتھ انتہائی سفاکانہ سلوک کیا گیا۔

واقعے کی اصل اہمیت ہلاکتوں کی تعداد سے زیادہ اس سوال میں ہے کہ اگر داعش خراسان واقعی اچین جیسے حساس علاقے میں اتنے بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے میں کامیاب ہوئی ہے تو طالبان حکومت کے اس دعوے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے کہ داعش کی کارروائی کی صلاحیت بڑی حد تک ختم کردی گئی ہے؟

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد داعش خراسان نے افغانستان میں کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔ کابل ایئرپورٹ پر اگست 2021 کا ہولناک خودکش حملہ، کابل میں طالبان حکومت کے اہم عہدیداروں اور وزیروں کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں اور مختلف صوبوں میں ہونے والے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ تنظیم نے طالبان کے خلاف اپنی جنگ ختم نہیں کی۔ اگرچہ بعض ادوار میں داعش کے حملوں میں کمی ضرور دیکھی گئی، لیکن اس کمی کو تنظیم کے مکمل خاتمے کے طور پر دیکھنا شاید درست نہیں ہوگا۔ اس قسم کی شدت پسند تنظیموں کیلئے بعض اوقات خاموشی بھی ایک حکمت عملی ہوتی ہے۔ کارروائیوں میں کمی کے دوران تنظیمیں اپنے رابطے بحال، جنگجوؤں کو دوبارہ منظم اور نئے اہداف تلاش کرتی ہیں۔

اچین کا حالیہ واقعہ  سے نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے، کہ داعش امارت اسلامی افغانستان کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس خونریز واقعہ کے بعد محسوس ہورہاہے، کہ داعش خراسان افغانستان میں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اپنی کارروائیوں کے انداز میں تبدیلی لائی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان حکومت کو صرف داعش کا مسئلہ درپیش نہیں، افغانستان کے شمالی صوبے بدخشان میں مقامی طالبان کمانڈروں کے درمیان اختلافات نے بھی کابل کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

بدخشان طالبان کیلئے اس لئے بھی حساس صوبہ ہے کہ یہاں مقامی سطح پر تاجک آبادی اور طالبان کے اندر موجود مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت اور اختیارات کے سوالات پہلے سے موجود رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں طالبان کے مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کے بارے میں مختلف اور متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض زرائع ان کے فرار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، کسی نے انہیں لاپتہ قرار دیا جبکہ بعض اطلاعات میں ان کی ہلاکت کا ذکر بھی کیا گیا۔ تاہم ان میں سے کسی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

صورتحال کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان کے چیف آف آرمی اسٹاف قاری فصیح الدین فطرت کو، جو خود کو بدخشان سے تعلق رکھتے ہیں، مقامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے متحرک کیا گیا۔ افغانستان سے موصول ہونے والے اطلاعات میں کہا گیا ہے ، کہ  ان کی کوشش مقامی ناراض کمانڈروں کے ساتھ بات چیت اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا ہے۔

بدخشان کے بعض علاقوں میں مواصلاتی رابطوں کے متاثر ہونے اور اطلاعات کی محدود دستیابی نے صورتحال کو مزید مبہم بنا دیا ہے۔ اس وجہ سے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ مقامی کشیدگی کس حد تک پھیل چکی ہے، فریقین کے درمیان جھڑپیں کتنی شدت اختیار کرچکی ہیں اور جانی نقصان کتنا ہوا ہے؟ یہاں ایک احتیاط ضروری ہے۔ بدخشان کی صورتحال کو محض تاجک بمقابلہ پشتون تنازع قرار دینا اس پیچیدہ معاملے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دے گا۔ طالبان کے اندر بھی مختلف علاقوں، کمانڈروں اور طاقت کے مراکز کے درمیان اختیارات، تقرریوں اور وسائل کے معاملات پر اختلافات موجود رہے ہیں۔ اس لئے بدخشان کے موجودہ حالات میں نسلی عنصر کے ساتھ ساتھ مقامی طاقت، مرکزی قیادت کی گرفت اور طالبان کے داخلی نظم کو بھی دیکھنا ہوگا۔ ننگرہار اور بدخشان بظاہر دو الگ کہانیاں ہیں۔ایک طرف داعش خراسان ہے، جو طالبان حکومت کی نظریاتی اور عسکری مخالف ہے۔ دوسری طرف طالبان کے اپنے اندر موجود مقامی اختلافات ہیں۔ لیکن دونوں مسائل ایک ہی وقت میں سامنے آئیں تو کابل کیلئے مشکل بڑھ جاتی ہے۔

حکومت کو ایک طرف داعش کے نیٹ ورک کا تعاقب کرنا ہوگا اور دوسری طرف ان علاقوں میں اپنی سیاسی اور انتظامی گرفت برقرار رکھنا ہوگی جہاں مقامی کمانڈر مرکزی فیصلوں سے ناخوش ہیں۔ اگر بدخشان میں اختلافات بڑھتے ہیں اور مشرقی افغانستان میں داعش اپنی کارروائیوں کی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو طالبان حکومت کو اپنی سیکیورٹی مشینری ایک سے زیادہ سمتوں میں تقسیم کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس سے کابل سب سے زیادہ بچنا چاہے گا۔

افغانستان کا یہ سیکیورٹی بحران صرف کابل تک محدود نہیں، پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورک کو اپنی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستانی علاقوں میں ہونے والی بعض دہشتگرد کارروائیوں کے منصوبہ ساز اور سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں، جبکہ افغان طالبان پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور پاکستان میں موجود بعض مبینہ شدت پسند نیٹ ورکس پر سوال اٹھاتے ہیں۔

دوسری طرف روس کیلئے داعش خراسان پہلے ہی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، خصوصاً ماسکو کے کنسرٹ ہال پر حملے کے بعد۔ اس واقعے نے وسطی ایشیا سے افغانستان اور پھر روس تک پھیلنے والے شدت پسند نیٹ ورکس کے بارے میں روسی خدشات میں اضافہ کیا۔ اس لئے افغانستان میں داعش کی کسی بھی بڑی کارروائی کا اثر افغان سرحدوں سے باہر بھی محسوس ہوسکتا ہے۔

افغانستان میں موجودہ صورتحال کو طالبان حکومت کے خاتمے کی پیشگوئی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ طالبان اب بھی ملک کے بڑے حصے پر مضبوط انتظامی اور عسکری کنٹرول رکھتے ہیں، لیکن دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ پانچ سال اقتدار میں رہنے کے باوجود طالبان حکومت افغانستان کے تمام سیکیورٹی مسائل کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکی۔

صوبہ ننگرہار میں اچین کا مبینہ حملہ داعش خراسان کی باقی ماندہ صلاحیت کے بارے میں اہم سوال اٹھائے گا۔ اسی طرح بدخشان میں مقامی کمانڈروں کے اختلافات اگر مذاکرات کے ذریعے ختم نہ ہوئے تو یہ طالبان کی داخلی مرکزیت کیلئے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

اصل خطرہ کسی ایک حملے یا ایک مقامی تنازع میں نہیں، بلکہ ان مختلف بحرانوں کے ایک دوسرے سے جڑنے میں ہے۔ کابل کیلئے آنے والے دنوں میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ داعش کو قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی نظام کے اندر پیدا ہونے والی بے چینی کو کس حد تک سیاسی طریقے سے سنبھالتا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں تاریخ بار بار یہ ثابت کرچکی ہے ک ایک حکومت   کیلئےسب سےخطرناک وقت وہ ہوتاہےجب اسکےخلاف دشمن باہربھی موجودہو اور بے چینی اندربھی پیدا ہونے لگے۔

EXECUTIVE SUMMARY

Taliban’s Dual Security Crisis: ISIS-K Resurgence in Nangarhar and Internal Friction in Badakhshan

Simultaneous Security Challenges: The Taliban government in Kabul faces a complex, two-front security challenge a deadly external threat from Islamic State Khorasan Province (ISIS-K) in eastern Afghanistan and internal political friction among local commanders in the northern province of Badakhshan.
Deadly ISIS-K Ambush in Achin: A well-organized, post-sunset attack by ISIS-K fighters on a Taliban security checkpoint in the Achin district of Nangarhar reportedly resulted in significant Taliban casualties (with unverified claims of up to 25 deaths). This incident directly challenges Kabul’s official claims that ISIS-K has been largely neutralized and lacks operational capability.
Internal Discord in Badakhshan: In northern Badakhshan, tension has flared among local Tajik Taliban commanders. Conflicting reports surround commander Juma Khan Fateh regarding his alleged desertion, disappearance, or death. In response, Chief of Army Staff Qari Fasihuddin Fitrat has been deployed to mediate with disgruntled local factions and prevent further escalation.
Geopolitical & Regional Implications:
Regional Security Risks: The instability poses broader regional concerns, as ISIS-K remains a direct security threat to Russia (especially following the Moscow concert hall attack).
Border Dynamics: Tensions with Pakistan persist over cross-border militancy and Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP) presence.

Strategic Outlook: While the Taliban maintain firm military and administrative control over most of Afghanistan, the convergence of external armed insurgencies and internal factional disputes threatens to overstretch Kabul’s security apparatus and test the stability of its central command.