اس خطرناک بیماری کا خاتمہ کیسے کب کون کرےگا ؟ تحریر: رسول داوڑ


لاکھوں لوگ اس وائیرس سے لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اگر غیر سنجیدگی کا یہ عالم رہا تو کروڑوں لوگوں کی جانیں بھی جاسکتی ہیں۔ کہتے ہیں کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے تو ہمیں بھی جو ڈر اورخوف ہے وہ ہے مسلسل پھیلنے والے اس خطرناک وائیرس سے جو شمالی، جنوبی وزیرستان و دیگر قبائلی اضلاع میں پھیل چکا ہے۔ اس خطرناک وائیرس کے سدباب کےلئیےحکومت سنجیدہ ہے نہ ہی عوام کو اتنی فکر جتنا ضروری ہے۔ اس خطرناک وائیرس کا نام ہے (( برائے نام تعلیم ))  جو ہمارے مستقبل کو کرونا وائیرس سے کہی زیادہ تباہ و برباد کردے گی۔
اختیاطی تدابیر اختیار کرکے کرونا سے بچاو ممکن ہے مگر برائے نام تعلیم کے اثرات سے بچاو ناممکن ہے ۔ اس وائیرس کے پھیلاؤ میں سرفہرست ذمہ دار ہے محکمہ تعلیم کے وہ افسران جو اس ناسور اور وائیرس کے خاتمے کےلئیے سنجیدہ ہے اور نہ ہی اس کو اپنے فرائض منصبی میں شامل سمجھتے ہیں۔چونکہ ان صاحبان کی توجہ بینک بیلینس بڑھانے اور اپنے بچوں کو اعلی پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھانے پر ہوتی ہے۔ دوسرے نمبر پر وہ فرنٹ لائن سپاہی ہے جو بیشتر آن ٹرینڈ ہے یا علم کے اسلحہ سے خالی، جو خود سمجھنے سے قاصر ہو تو دوسروں کو پڑھانے میں کیا دلچسپی لے سکیں گے۔ اپریشنوں کے بعد قبائلی اضلاع کے 98 فیصد لوگ اپنے گھروں میں رہائش پزیر ہے جن میں بیشتر شہری علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں ۔
قبائلی عوام زیادہ کمائی کرکے بچوں کی بہتر مستقبل کی عرض سے خوب پیسہ کمانے کےلئیے سر توڑ کوششیں تو کرتے ہیں مگر اپنے بچوں کے معیاری تعلیم پر توجہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتی،اس لئیے دور دراز علاقوں میں آج بھی ہزاروں تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند یا غیر فعال ہے۔ ان تعلیمی ادروں میں پڑھانے والے اساتذہ کرام / استانیاں ایک یا دو دہائیوں سے حاضری لگائے بغیر چند کٹوتی کے بعد تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ ان بھوت اسکولوں میں تعینات سرکاری اساتذہ کرام خلیجی ممالک میں مزدوری کرتے ہیں،کراچی میں ٹرانسپورٹ ، پشاور میں پراپرٹی کا کاروبار یا پھر اپنے علاقے میں دکانداری کرکے سرکار سے ہر ماہ تنخواہ باقاعدگی سے وصول کرتے ہیں ۔ قبائلی اضلاع میں آج بھی ہزاروں تعلیمی ادارےغیر فعال یا حجروں میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔
فقط شمالی وزیرستان کے تقریبا تمام تحصیلوں میں مین روڈ سے پانچ یا دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تقریبا چار سو اسکولز مکمل یا جزوی طور بند ہے ۔ ان اسکولوں میں تعینات اکثر میل/ فیمیل اساتذہ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے اسکول یا کلاس میں کتنے بچوں کے نام پڑھانے کی عرض سے رجسٹرڈ میں درج ہے؟ اکثر والدین خلیجی ممالک میں مزدوری کرکے اپنے بچوں کی بہتر مستقل کے لئیے ہر سال لاکھوں روپے بھیجتے ہیں مگر انہیں اپنے بچوں کو معیاری تعلیمی کی فکر ہوتی اور نہ ہی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اس لئیے جب واپس اپنے ملک تشریف لاتے ہیں تو غیر فعال/بند اسکول میں داخل بچہ اپنے والدین کو عزت دیتے ہیں اور نہ ہی الف ب سے آگے کچھ سمجھتے ہیں، بیرون ممالک سے واپسی کے بعد اکثر والدین کو روتے ہوئے اور اپنے بچوں سے شکایت کرتے ہوئے دیکھا ہے کہتے ہیں کہ کاش لاکھوں کمائی کیساتھ وہ اپنے بچوں کی معیاری تعلیم و تربیت پر توجہ دیتے، آج تک والدین نے اس بات پر احتجاج کیا اور نہ ہی شکایت کی کہ ان کے گھر کے قریب اسکول بند یا غیر فعال کیوں ہے؟ محکمہ تعلیم میں انتہائی قابل ،ایماندار شفیق افسران و اساتذہ کی کمی نہیں جس کی بدولت قبائلی اضلاع میں پڑھنے والے طلبہ علاقے اور والدین کا نام روشن کرتے ہیں مگر اس محکمے میں نالائق ،کام چور، حرام خوروں کی بھی کمی نہیں جس کی بناء معماران قوم کرونا وائیرس سے خطرناک جرائم کے مرتکب ہو جاتے ہیں،شدت پسند،منشیات فروش یا پھر محکمہ تعلیم کے موجودہ سسٹم کے کارندے بن پاتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں