دی خیبر ٹائمز کیلئے خصوصی تحریر: تحریرسفیراللہ
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کا دیہی علاقہ اس بحران سے خاص طور پر متاثر ہو رہا ہے کیونکہ دیہی آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت،مویشی پالنے، جنگلات، چراگاہوں اور قدرتی وسائل پر براہِ راست انحصار کرتا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے نظام میں بے قاعدگی، شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، پانی کی قلت اور زمین کی زرخیزی میں کمی نے دیہی معیشت اور روزمرہ زندگی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی خطرات کے باعث سیلاب، گرمی کی لہروں، خشک سالی اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اس کے اثرات روزگار، غربت اور معاشی استحکام تک پھیل رہے ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ میں پاکستان کو بار بار آنے والے سیلاب، شدید ہوتی گرمی کی لہروں اور تیز رفتار گلیشیئر پگھلاؤ کے حوالے سے انتہائی حساس ملک قرار دیا گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے کیا مراد ہے؟
موسمیاتی تبدیلی سے مراد زمین کے درجہ حرارت، بارشوں، ہواؤں، سمندری سطح اور دیگر موسمی نظام میں طویل مدتی تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں، جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ شامل ہیں۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی نمایاں علامات میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ۔ہیٹ ویوز میں اضافہ۔بارشوں کے اوقات اور مقدار میں بے قاعدگی شدید بارشوں اور اچانک سیلاب میں اضافہ۔خشک سالی کے دورانئے میں اضافہ۔گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا۔دریاؤں کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال۔سمندر کی سطح میں اضافہ۔ساحلی علاقوں میں زمین اور زیرِ زمین پانی کا نمکین ہوناشامل ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کا اوسط سالانہ درجہ حرارت 20ویں صدی کے دوران تقریباً 0.57 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھا،جبکہ مستقبل میں درجہ حرارت میں مزید نمایاں اضافہ متوقع ہے.موسمیاتی تبدیلی بنیادی طور پر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا نتیجہ ہے۔ پاکستان خود بڑے عالمی اخراج کنندگان میں شامل نہیں، لیکن جغرافیائی اعتبار سے اس کی حساسیت بہت زیادہ ہے۔توانائی، صنعت، ٹرانسپورٹ اور زراعت سے پیدا ہونے والی گیسیں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ ملک پہلے ہی پانی کی کمی،خشک سالی، سیلاب اور بلند درجہ حرارت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ زراعت موسمیاتی تبدیلی سے متاثر بھی ہوتی ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ بھی ڈالتی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں زراعت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور اس کا تعلق مویشیوں، کھادوں، چاول کی کاشت، زرعی زمین اور دیگر سرگرمیوں سے ہے۔مویشیوں سے میتھین، کھادوں کے استعمال سے نائٹرس آکسائیڈ اور زرعی باقیات کو جلانے سے مختلف فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔جنگلات کاربن جذب کرنے اور درجہ حرارت کو معتدل رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی سےکاربن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے۔مٹی کا کٹاؤ بڑھتا ہے۔بارش کے پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔حیاتیاتی تنوع متاثر ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں زیادہ چرائی، جنگلات کی کٹائی، غیر مناسب آبپاشی، کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کا بے جا استعمال زمین کی قدرتی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔پاکستان کے دیہی علاقوں میں چراگاہوں کا انحطاط بھی اہم مسئلہ ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں مویشیوں کی خوراک کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ چراگاہوں اور رینج لینڈز سے آتا ہے، جبکہ ان علاقوں کی پیداواری صلاحیت کئی جگہوں پر اپنی ممکنہ صلاحیت کے صرف 25 سے 50 فیصد تک رہ گئی ہےپاکستان کا زرعی نظام بڑی حد تک آبپاشی پر منحصر ہے۔ پانی کے ضیاع، پرانے آبپاشی نظام، زیرِ زمین پانی کے ضرورت سے زیادہ اخراج اور کم پانی والی فصلوں کی بجائے زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت نے پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔دیہی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا اثر زراعت پر پڑتا ہے۔درجہ حرارت بڑھنے سے فصلوں کا پیداواری دورانیہ مختصر ہو سکتا ہے۔ گندم، چاول، کپاس، مکئی، گنے اور دیگر فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔شدید گرمی فصلوں کی نشوونما متاثر کرتی ہے۔پانی کی ضرورت بڑھاتی ہے۔
پھول اور دانہ بننے کےمراحل کو متاثر کر سکتی ہےپیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی تقریباً تمام اہم فصلیں موسمی حالات میں تبدیلی کیلئے حساس ہیں، جبکہ ملک کے زیادہ تر کسان چھوٹے رقبے پر کاشت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کیلئے موسمی نقصان برداشت کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے سیلاب دیہی علاقوں میں کھڑی فصلیں تباہ کرتا ہے۔زرعی زمین کو نقصان پہنچاتا ہے۔مویشی ہلاک کرتا ہے۔گھروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔سڑکیں اور پل تباہ کرتا ہے۔آبپاشی کا نظام متاثر کرتا ہے۔پینے کے پانی کے ذرائع آلودہ کرتا ہے۔لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرتا ہے۔2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس خطرے کی شدت واضح کر دی تھی۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کوموسمیاتی آفات سے ہونے والا نقصان معاشی ترقی اور غربت میں کمی کی کوششوں کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔خشک سالی پاکستان کے دیہی علاقوں، بالخصوص سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں کے لیے ایک بڑاخطرہ ہے۔بارش میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافے سےزیرِ زمین پانی کم ہوتا ہے۔فصلوں کی پیداوار گھٹتی ہے مویشیوں کے لیے چارہ کم ہوتا ہے۔پینے کا پانی نایاب ہوتا ہے۔خوراک کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔دیہی خاندانوں کی آمدنی کم ہوتی ہے۔ورلڈ بینک کے مطابق سندھ اور بلوچستان خشک سالی کے حوالے سے خاص طور پر حساس ہیں۔ 2019 میں شدید خشک سالی سے سندھ میں تقریباً 30 لاکھ اور بلوچستان میں تقریباً 18 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔
پاکستان کے دیہی علاقوں میں پانی موسمیاتی تبدیلی کا سب سے حساس شعبہ ہے۔ زیرِ زمین پانی میں کمی بارشوں میں تبدیلی اور آبپاشی کیلئے زیرِ زمین پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے کئی علاقوں میں پانی کی سطح گر رہی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کنویں مزید گہرے کرنے پڑتے ہیں۔ٹیوب ویل چلانے کے اخراجات بڑھتے ہیں۔چھوٹے کسانوں کی لاگت بڑھتی ہے۔پینے کے پانی کا حصولمشکل ہوتا ہے۔شمالی پاکستان کے گلیشیئرز دریائے سندھ کے نظام اور آبپاشی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ابتدائی مرحلے میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں گلیشیئرز کے سکڑنے سے خشک موسم میں پانی کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔اس کے علاوہ گلیشیرجھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ورلڈ بینک نے پاکستان کیلئے گلیشیئر پگھلاؤ، سیلاب اور مستقبل میں پانی کی دستیابی میں تبدیلی کو اہم خطرات میں شمار کیا ہے۔دیہی معیشت میں مویشی انتہائی اہم اثاثہ ہیں۔ شدید گرمی اور خشک سالی سےمویشیوں میں دودھ کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ چارے کی دستیابی متاثر ہوتی ہے۔پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے۔جانوروں میں بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔
مویشیوں کی شرح اموات بڑھ سکتی ہے۔مویشیوں کے نقصان کا براہِ راست اثر غریب دیہی خاندانوں کی آمدنی اور خوراک پر پڑتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی اور غیر پائیدار زرعی طریقوں کے باہمی اثر سے زمین کا انحطاط ایک اہم مسئلہ بن رہا ہےشدید بارشیں اور سیلاب اوپر کی زرخیز مٹی کو بہا لے جاتے ہیں۔زمین کی زرخیزی میں کمی نامیاتی مادے کی کمی، غیر متوازن کھادوں کا استعمال اور مسلسل کاشت زمین کی پیداواری صلاحیت کم کر سکتے ہیں۔ایندھن، زرعی زمین، تعمیرات اور دیگر ضروریات کیلئے درختوں کی کٹائی سے جنگلات کم ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع، مٹی اور پانی کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے۔
زیادہ چرائی، خشک سالی اور بارشوں میں کمی چراگاہوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس سے مویشی پالنے والے خاندان براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔دیہی علاقوں میں سیوریج کا ناقص نظام، زرعی کیمیکلز، کیڑے مار ادویات، کھادیں اور صنعتی فضلہ دریاؤں، نہروں، تالابوں اور زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر سکتے ہیں۔سیلاب کے دوران یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ گندا پانی پینے کے پانی کے ذرائع میں داخل ہو سکتا ہے۔زرعی باقیات، خصوصاً فصلوں کی باقیات جلانے سے دھواں اور فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ اینٹوں کے بھٹے، لکڑی اور گوبر کو بطور ایندھن استعمال کرنا بھی بعض دیہی علاقوں میں فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے حیاتیاتی تنوع میں کمی درجہ حرارت میں اضافہ، جنگلات کی کمی، پانی کے نظام میں تبدیلی اور زمین کے استعمال میں تبدیلی سے پودوں، پرندوں، مچھلیوں اور جنگلی حیات کے قدرتی مسکن متاثر ہوتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی صرف ماحول اور زراعت کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت کا بھی مسئلہ ہے۔شدید گرمی سے ہیٹ اسٹروک۔پانی کی کمی کمزوری۔دل اور سانس کی بیماریوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری طرف سیلاب کے بعد آلودہ پانی سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ورلڈ بینک نے پاکستان کیلئے گرمی سے متعلق بیماریوں، کیڑوں سے منتقل ہونے والی بیماریوں، غذائی عدم تحفظ میں شمار کیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سےخوراک کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔خوراک کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔غریب خاندانوں کی قوتِ خرید متاثر ہو سکتی ہے۔بچوں میں غذائی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کسانوں کا قرض بڑھ سکتا ہے۔دیہی غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔یہ صورتحال خاص طور پر چھوٹے کسانوں کیلئے خطرناک ہے، کیونکہ ان کے پاس موسمی نقصان سے نمٹنے کیلئے مالی وسائل محدود ہوتے ہیں۔پاکستان کے دیہی علاقوں میں زراعت اور مویشی پالنا لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ جب فصل تباہ ہوتی ہے یا مویشی مر جاتے ہیں تو خاندان کی آمدنی براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔اس کے نتیجے میں قرض میں اضافہ۔روزگار کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت۔بچوں کی تعلیم متاثر ہونا۔خواتین پر اضافی معاشی و گھریلو بوجھ،خوراک کے معیار میں کمی، غربت میں اضافہ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی دیہی معیشت، بالخصوص زراعت،ماحولیاتی انحطاط اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کیلئے انتہائی حساس ہے۔دیہی خواتین پانی، ایندھن، مویشیوں اور گھریلو خوراک کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب پانی کے ذرائع خشک ہوتے ہیں یا دور ہو جاتے ہیں تو خواتین اور بچیوں کو پانی لانے میں زیادہ وقت صرف کرنا پڑ سکتا ہے۔سیلاب، خشک سالی اور غربت کے دوران خواتین، بچوں، بزرگوں، معذور افراد اور چھوٹے کسانوں کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔اس لئے موسمیاتی پالیسی میں صرف فصلوں اور انفراسٹرکچر کو نہیں بلکہ خواتین اور کمزور طبقات کو بھی مرکزی حیثیت دینا ضروری ہےپاکستان کے دیہی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کو الگ مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ پہلے سے موجود ماحولیاتی مسائل کو مزید شدید کرتی ہے۔الغرض موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے دیہی مستقبل، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کا مسئلہ بھی ہے۔ اس لئے اس سے نمٹنے کیلئے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں، کسانوں، ماہرین، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔۔۔
-
Livelihood & Agricultural Vulnerability: Extreme heat, irregular rainfall, and soil erosion jeopardize crop yields and livestock, threatening the survival of smallholder farmers.
-
Escalating Water & Climate Extremes: Rapidly melting northern glaciers and depleting groundwater reserves trigger alternate cycles of severe drought and flash flooding, crippling rural infrastructure.
-
Socioeconomic & Gender Burden: Environmental shocks accelerate poverty, food insecurity, and forced migration, placing an outsized physical and economic burden on rural women.
-
Policy Imperative: Mitigating Pakistan’s climate crisis requires an integrated, multi-sectoral strategy that prioritizes rural adaptation, sustainable resource management, and the protection of vulnerable populations.




