اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سمندری راستوں کی بحالی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے، جس میں 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شرکت کریں گے۔
ویب ڈیسک کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو کم کرنا اور عالمی تجارتی راستے کو محفوظ بنانا ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ کی بندش یا عدم استحکام عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق کانفرنس میں شریک فوجی ماہرین اپنے اپنے ممالک کی عسکری صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام اور خطے میں افواج کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اجلاس میں مختلف آپشنز اور حکمت عملیوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔
وزارتِ دفاع کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی حکمت عملی یا منصوبے کو مستقل اور پائیدار جنگ بندی معاہدے کے بعد ہی عملی شکل دی جائے گی، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کانفرنس نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورتحال بلکہ عالمی سلامتی کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اور اس کے نتائج آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔




