A wide-angle photograph of a large gathering under an outdoor canopy in KP, Pakistan, showing former Khasadar Force personnel and civilians protesting for their integration rights into the regular police force.

قبائلی اضلاع: خاصہ دار فورس کا بائیکاٹ،اسلام اباد مارچ کی دھمکی

قبائلی اضلاع میں خاصہ دار فورس کا بڑا قدم: دفاتر کے بائیکاٹ کے بعد کوہاٹ ٹنل اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکی خیبر/ جمرود ( دی خیبرٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق مزید پڑھیں

News collage graphic from The Khyber Times showing a massive nighttime protest by Jamaat-e-Islami in Peshawar. Thousands of supporters wave green JI flags with 'سچ' ('Truth') and 'عدالت' ('Justice') logos. Centered inset image shows former JI Emir Siraj-ul-Haq, wearing a black vest, speaking behind a wooden podium at Governor House. The podium has a sign reading 'AFFORDABLE FUEL OR OUR RIGHT'. White Urdu text across the middle asks about political revenge and press attacks. Bottom panel summary in Urdu.

پیٹولیم کی قیمتوں اضافہ کی خلاف گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے جماعت اسلامی کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری

پشاور (خصوصی رپورٹ دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ظالمانہ لیوی ٹیکسز کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے جاری تاریخی احتجاجی مزید پڑھیں

Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi speaking at a grand Jirga against federal tax implementation in merged districts.

اسلام آباد مارچ: تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کا نیا طوفان

دی خیبرٹائمز پولیٹیکل ڈیسک پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں اور پارٹی اندرونی محاذ آرائی کے ایک نئے طوفان کی زد میں ہے۔ اس تازہ تنازع کی بنیادی وجہ مزید پڑھیں

ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان پشاور( دی خیبنرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں لویہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مسلسل ڈرون حملوں اور بدامنی کے خاتمے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل پر تفصیلی غور اور مشاورت کی گئی۔ جرگے میں قبائلی اضلاع اور صوبے کے حقوق پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور ان کے حصول کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا۔ جرگہ میں قبائلی اضلاع کے منتخب نمائندے اور مشران، سینیٹرز، اپوزیشن اراکین اسمبلی، علمائے کرام اور عمائدین نے شرکت کی۔ لویہ جرگہ میں ڈرون حملوں میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی شہادت کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ جرگہ کے تمام شرکاءنے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا جس پر جرگہ سفارشات کی روشنی میں وزیر اعلٰی نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لویہ جرگہ میں شرکت کے لئے آنے والے اراکین کے ساتھ چیک پوسٹوں پر روا رکھے گئے ناروا سلوک پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ چیک پوسٹس پر یہی رویہ عوام میں بے چینی اور نفرت کو جنم دے رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لویہ جرگہ اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک مختصر جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائیگا اور امن تک واپسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سے ڈرون اٹیکس کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ شرپسند عناصر نے ملاکنڈ میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیاہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں اگر آج عوام نہ اٹھے تو امن کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور جیسے کالے قانون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا مگر 970 افراد جن کو یہ کہتے ہیں کہ دہشتگرد ہیں ، انہیں مختلف ڈیٹینشن سنٹرز میں رکھا ہوا جس کا کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔ صوبائی حکومت نے ان 970 افراد کی لسٹ مانگی، خطوط لکھے مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ زیر حراست افراد کی فہرست موجود ہو تو ہر شخص کا مکمل حساب رکھا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ زیر حراست افراد کی فہرست موجود نہ ہونے کی صورت میں بیانیہ تشکیل دیا جائے گا کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں کی معاونت کر رہی ہے اور اس بیانیہ میں ہم کبھی انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہو چکی ہیں۔ تمام وسائل کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکامی تشویشناک ہے، امن کے قیام میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہی وسائل اُن کے حوالے کئے جائیں تو وہ سو دن کے اندر صوبے میں امن کے قیام کی ضمانت دیتے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کو اشتعال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے، تاہم ہم ہر حال میں اپنی جدوجہد پرامن رکھیں گے۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جو قانون اور آئین کی پاسداری نہیں کرتے تو ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ مالی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب فاٹا انضمام ہوا تو ہمارے ساتھ 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اس مد میں ضم اضلاع کے ابتک 800 ارب روپے بنتے ہیں جن میں سے صرف 168 ارب روپے دیئے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضم اضلاع کی آبادی کا حصہ شامل کیا جائے تو این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا حصہ 14.6 سے بڑھ کر 19 فیصد ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لویہ جرگہ کی سفارشات کی روشنی میں تشکیل دیا جانے والا مختصر جرگہ ان مالی اور آئینی حقوق کے لئے بھی جدوجہد کرے گا۔

ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان

پشاور( دی خیبنرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں لویہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مسلسل ڈرون حملوں اور بدامنی کے خاتمے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل پر مزید پڑھیں