اقبال آفریدی کی گرفتاری، باڑا کا احتجاج، عدالتی چارہ جوئی اور 68 ارکان کا معمہ ؟ کیا تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں تنظیمی بحران اور داخلی اختلافات کا شکار ہے؟
تحریر: مہوش تسلیم
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی سیاست ایک انتہائی باریک اور نازک موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے۔ اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ پارٹی وفاق کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتی ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے خلاف اس کا عملی اور تنظیمی لائحہ عمل کیا ہے؟ جس گورنر راج کو ایک چیلنج کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، اس کے عمل میں آنے کے بعد جلسوں، پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا کے بلند آہنگ دعوؤں کے برعکس صوبے میں ایک غیر معمولی سیاسی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت نے صوبائی انتظام سنبھالتے ہی اپنی انتظامی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے پشاور گورنر ہاؤس کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی کونسلز کے اراکین اور سیاسی وفود سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں حکومتی و انتظامی مشینری کو مکمل متحرک رکھنے، امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو بلا تعطل آگے بڑھانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ گورنر ہاؤس کی اس انتظامی سرگرمی کے مقابلے میں پی ٹی آئی کا عوامی اور تنظیمی منظرنامہ فی الوقت خاموش نظر آتا ہے۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں اور روپوشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ این اے 24 سے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کو ان کے بیٹے سمیت حیات آباد سے حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد دیگر اہم رہنما بھی انتظامی کارروائیوں کے پیشِ نظر روپوش ہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صوبے بھر میں کسی بڑی اور خودکار عوامی تحریک کا نہ اٹھنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
استثنائ کے طور پر صرف ضلع خیبر کے علاقے باڑا میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کی قیادت میں کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کئے، جہاں پولیس کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا اور تین روز تک کشیدگی برقرار رہی۔ تاہم باڑا کا یہ واقعہ بھی صوبائی سطح کی ایک منظم تحریک میں نہ ڈھل سکا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یا تو کارکنوں کو مرکزی قیادت کی طرف سے واضح ہدایات میسر نہیں یا پھر پارٹی کا مقامی تنظیمی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے گورنر راج کے اقدام کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر کے قانونی محاذ کھول دیا ہے۔ آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا بلا شبہ ایک جمہوری حق ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارٹی نے سڑکوں کی سیاست ترک کر کے تمام تر توانائیاں صرف عدالتی چارہ جوئی تک محدود کر دی ہیں؟ مزید برآں، مرکزی قیادت کی زیادہ تر سرگرمیاں اسلام آباد کے گرد گھوم رہی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا، جو تحریک انصاف کا اصل انتخابی اور سیاسی گڑھ رہا ہے، میں عوامی رابطہ کاری کا ایک واضح خلا محسوس ہو رہا ہے۔
سیاسی اور انتظامی دباؤ کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کو اندرونی اختلافات کا بھی سامنا ہے۔ پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی اسمبلی کے 68 اراکین نے الگ رابطہ کاری کرتے ہوئے نئے وزیراعلیٰ اور صوبائی صدر کے انتخاب کیلئے سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ اگرچہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور متعدد اراکینِ اسمبلی نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے، لیکن اس تنازع نے پارٹی کے اندرونی نظم پر سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔
ایک رکن صوبائی اسمبلی نے ٹیلی فون پر بتایا ہے، کہ 60 سے زائد ارکان کے حالیہ مشاورتی اجلاسوں کا مقصد فارورڈ بلاک بنانا نہیں بلکہ گورنر راج کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا اور فیصلہ سازی میں صوبائی نمائندوں کو نظرانداز کئے جانے پر اپنے تحفظات کا اظہار تھا۔ تاہم اس نوعیت کے الزامات اور جوابی وائس نوٹس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مرکزی سیکرٹریٹ اور صوبائی اراکین کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود ہے۔
موجودہ بحران سے نمٹنے کیلئے تحریک انصاف کے سامنے تین ممکنہ راستے ہیں:
عدالتی جنگ کے ساتھ ساتھ صوبائی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر قانون کے دائرے میں پُرامن سیاسی رابطہ کاری بحال کی جائے۔
اگر مرکزی اور صوبائی قیادت کے درمیان بد اعتمادی یوں ہی بڑھتی رہی، تو پارٹی کی تمام تر توجہ گورنر راج کے خلاف جدوجہد کے بجائے داخلی اختیارات اور عہدوں کی کشمکش پر مرکوز ہو جائے گی۔
پارلیمان اور مقامی تنظیمی ڈھانچے کے درمیان واضح رابطہ قائم کر کے کارکنوں کو غیر یقینی کی صورت حال سے نکالا جائے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ جہاں وفاقی حکومت کی انتظامی اور آئینی صلاحیت کا امتحان ہے، وہی یہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے، سیاسی حکمتِ عملی اور داخلی یکجہتی کا بھی سب سے بڑا امتحان ہے۔ کیا پارٹی اپنی عوامی مقبولیت کو ایک متحرک اور منظم سیاسی طاقت میں تبدیل کر سکے گی، یا اندرونی اختلافات اس کی جدوجہد کو کمزور کر دیں گے؟ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں کی سیاسی پیش رفت کرے گی۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سونے کی کان پر بیٹھے بھکاری: قرض ملا ہے، ڈھول بجاؤ
summary
Summary: PTI’s Silence After Governor’s Rule – Where is the Resistance?
* Political Silence & Federal Activism: Following the imposition of Governor’s Rule in Khyber Pakhtunkhwa, PTI has witnessed an unusual political silence on the streets despite prior claims of strong resistance. Meanwhile, the federal government has intensified administrative activities, highlighted by the Prime Minister’s recent visit to the Peshawar Governor’s House to meet local council members and ensure administrative machinery remains active.
* Arrests and Localized Protests: Key leaders, including MNA Iqbal Afridi, have been detained. Aside from a localized and violent protest led by MPA Abdul Ghani Afridi in Bara, no province-wide public movement has emerged, pointing towards potential organizational strain or lack of clear central directives.
* Legal Battle vs. Public Outreach: While PTI Chairman Barrister Gohar challenged Governor’s Rule in the Peshawar High Court, critics question whether street politics has been completely abandoned. Most central leadership activities remain centered in Islamabad, creating a noticeable outreach gap in KP.
* Internal Strife and the 68 Members Controversy: Internal friction surfaced following claims by General Secretary Salman Akram Raja that 68 provincial assembly members initiated separate consultations for new leadership. Although figures like Ali Amin Gohar and other members denied a forward block—stating the meetings were meant to strategize against Governor’s Rule and voice concerns over decision-making exclusion—it exposed a trust deficit within the party.
* Way Forward & Conclusion: PTI faces three paths: combining legal battles with peaceful political outreach, risking further internal division over power struggles, or restoring clear communication across the organizational hierarchy. Ultimately, Governor’s Rule serves as a crucial test for both the federal government’s administration and PTI’s internal unity.




