Conceptual illustration of Taliban's 5-year rule in Afghanistan depicting regional map dynamics, border security barriers, and an inset portrait of analyst Imtiaz Gul.

طالبان کے ۵ سال: کیا سختی، دھمکیاں اور پڑوسیوں کے تحفظات سے لاپرواہی کام آئے گی؟

تحریر: امتیاز گل کے وی لاگ پر تجزیہ
15 اگست 2021ء کا وہ دن تاریخ کے ان تلخ اور عبرت ناک بابوں میں سے ایک ہے جسے شاید انیسویں اور بیسویں صدی کے افغان مورخین بھی فراموش نہ کر سکیں۔ اس صبح، جب سابق افغان صدر اشرف غنی اپنے صدارتی محل ارگ کے لان میں بیٹھے اطمینان سے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے اور اخبارات کی سرخیوں پر نظریں جمائے ہوئے تھے، بالکل اسی وقت ان کے 33 سالہ قومی سلامتی کے مشیر، حمد اللہ محب کابل میں امریکی سفارت خانے کے چکر لگا رہے تھے۔ وہ غنی حکومت کے باقی ماندہ دنوں کی فکر سے بالاتر ہو کر امریکی حکام سے التجا کر رہے تھے کہ ان کی امریکی خدمات کے پیشِ نظر انہیں ترجیحی بنیادوں پر کابل سے نکال لیا جائے۔ ایک طرف امریکی مبصرین اور نمائندہ خصوص زلمے خلیل زاد دنیا کے سامنے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ طالبان طاقت کے زور پر اقتدار حاصل نہیں کریں گے اور ایک منظم و پرامن سیاسی انتقالِ اقتدار پر کام ہو رہا ہے، تو دوسری طرف جس حکومت کے بیانئے کی بنیاد پر گفتگو کی جا رہی تھی، اس کے اعلیٰ ترین عسکری و سیاسی مشیر فرار کا راستہ ڈھونڈ رہے تھے۔ یہ وہی حمد اللہ محب تھے جو پاکستان کے خلاف اکثر توہین آمیز اور زہر آلود زبان استعمال کرتے تھے، لیکن اقتدار کا سایا ڈھلتے ہی وہ حقیقت کا ادراک ہونے سے قبل ہی افغان عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں مغرب سے آئے افغان ٹیکنو کریٹس اور سیاست دانوں کی سچی تصویر تھی جو جنوری 2002ء میں جرمنی کے شہر ‘بُن’ میں ہونے والے معاہدے کے بعد ڈالروں میں بھاری تنخواہیں اور غیر ملکی شہریتیں یا اقامے لے کر کابل لوٹے تھے۔ بیس سال تک امریکی اور نیٹو افواج کی چھتری تلے عیش کرنے کے بعد جیسے ہی یہ قائم کردہ مصنوعی نظام تاش کے پتوں کی طرح بکھرا، انہوں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک میں واقع اپنے محفوظ اور آرام دہ گھروں کو لوٹ گئے۔ آج وہی جلاوطن ٹیکنو کریٹس اور رہنما بیرونِ ملک کی نرم و گرم بیٹھکوں میں بیٹھ کر ان طالبان کے خلاف بغاوت اور مزاحمت کی بات کرتے ہیں جو چار دہائیوں کی بھیانک گوریلا جنگ، گمنامی، اور سخت کوشی کے بعد اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہیں۔
اقتدار میں طالبان کی واپسی کو پانچ برس بیت چکے ہیں، لیکن کابل کی مرکزی انتظامیہ کا پورا نقشہ اور فیصلے اب بھی قندھار میں مقیم ان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوند زادہ کی مٹھی میں ہیں۔ 2004ء کا جمہوریت پسند آئین مکمل طور پر منسوخ کیا جا چکا ہے اور اس کی جگہ تقریباً ڈھائی سو سے زائد مذہبی و شرعی احکامات نافذ کر دئے گئے ہیں۔ ماضی کی سیکولر اور لبرل عدالتوں کا خاتمہ کر کے ہزاروں مفتیوں اور ملاؤں پر مشتمل ایک ایسا عدالتی نظام قائم کیا گیا ہے جو شریعت کی اپنی مخصوص تعبیر و تشریح کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ اگرچہ طالبان نے پچھلی جمہوری حکومت کے مقابلے میں ملک کے کونے کونے پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا ہے، ٹیکسوں کی وصولی کا نظام بہتر بنایا ہے اور داخلی سطح پر جرائم کی شرح کو کم کیا ہے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان آج بھی ایک ہولناک انسانی اور معاشی بحران کے دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ اس وقت بھی افغانستان کے چھ سے آٹھ ارب ڈالر کے غیر ملکی اثاثے عالمی بینکوں میں منجمد ہیں، بین الاقوامی امداد کا بہاؤ تقریباً خشک ہو چکا ہے اور سوائے روس کے دنیا کے کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ حال ہی میں اگست 2026ء میں سامنے آنے والی اقوامِ متحدہ کی رپورٹ اس بات کا اعتراف تو کرتی ہے کہ داخلی امن و امان میں معقول بہتری آئی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ واضح انتباہ بھی دیتی ہے کہ خواتین اور بچیوں پر عائد انتہائی سخت اور غیر انسانی پابندیاں، اور افغانستان کے اندر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی وہ بنیادی رکاوٹیں ہیں جنہوں نے طالبان حکومت کو عالمی برادری کا مقبول اور تسلیم شدہ حصہ بننے سے روک رکھا ہے۔
عالمی برادری اور خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ممالک کیلئے سب سے بڑا تشویشناک اور نازک معاملہ افغان سرزمین پر موجود بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں ہیں، جن میں تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) سب سے نمایاں ہیں۔ طالبان حکام بارہا یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجوؤں کو پاک افغان سرحد سے دور منتقل کر دیا ہے اور انہیں سرحد پار کارروائیوں سے روکا ہے، لیکن اسلام آباد اور بیجنگ کے خدشات اور ٹھوس معلومات اس کے برعکس ہیں۔ دونوں ممالک کا پختہ یقین ہے کہ ان کالعدم تنظیموں کی اعلیٰ قیادت افغانستان میں مکمل آزادی کے ساتھ گھوم پھر رہی ہے اور انہیں افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ حتیٰ کہ بیجنگ کیلئے شدید خطرہ سمجھی جانے والی ای ٹی آئی ایم کے بیشتر جنگجوؤں کو طالبان نے مقامی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا حصہ بنا دیا ہے تاکہ انہیں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ طالبان کا ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی بنیادی وجہ ان کا وہ روایتی اور قبائلی ذہن ہے جو دہائیوں تک ان کے ساتھ روس اور امریکہ کے خلاف لڑنے والے جہادی ساتھیوں کو الگ کرنے یا ان کے خلاف اقدام کرنے کو غداری اور بے وفائی تصور کرتا ہے۔ ملا عمر کی طرف سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے نہ کرنے کی تاریخی مثال آج بھی افغان طالبان کے نچلے اور اعلیٰ کیڈرز کیلئے ایک نظریاتی سند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بارڈر کی طویل بندش اور سخت ترین معاشی دباؤ بھی طالبان کے اس سخت گیر روئے کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسری جانب، طالبان نے ازبکستان اور ترکمانستان جیسے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی راستے کھول کر پاکستان پر معاشی انحصار کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس سے پاک افغان تعلقات میں حائل بنیادی سیکیورٹی تحفظات ختم نہیں ہو سکتے۔
اس تناظر میں جب ہم شمالی افغانستان اور بدخشان جیسے علاقوں میں طالبان مخالف کچھ مسلح حملوں اور طالبان کمانڈروں کی ہلاکتوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ نئی شورش طالبان کی حکومت کیلئے کوئی بڑا سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے؟ گہرے تجزئے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فی الحال طالبان کی حکومت کو کسی بھی قسم کا کوئی اندرونی یا مسلح خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے پاس دہائیوں کی گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ اور امریکہ کا چھوڑا ہوا جدید ترین امریکی اسلحہ اور ملٹری مشین موجود ہے۔ انہوں نے دسیوں ہزار نظریاتی جنگجوؤں کو اپنے سیکیورٹی ڈھانچے میں ضم کر رکھا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ چار دہائیوں کی مسلسل خونریزی کے بعد عام افغان عوام شدید جنگی تھکن (War Fatigue) کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ کسی بھی نئی خانہ جنگی کے مقابلے میں طالبان کے سخت لیکن قائم کردہ استحکام کو ترجیح دیتے ہیں۔ تیسری اور سب سے بڑی وجہ جلاوطن اپوزیشن کا مکمل عوامی مقبولیت سے محروم ہونا ہے۔ جو رہنما یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک کی پرآسائش زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہ افغان خاک پر اتر کر کوئی حقیقی عوامی تحریک چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اسی لئے کوئی بھی غیر ملکی طاقت اس وقت طالبان کے خلاف کسی نوزائیدہ مسلح جدوجہد کی مالی یا عسکری سرپرستی کرنے پر تیار نہیں۔
دوسری طرف، طالبان کی سیاسی اور بیانئے کی دنیا کا جائزہ لیں تو افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا حالیہ موقف نمایاں دکھائی دیتا ہے، جنہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو بدنام گروہ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ طالبان حکومت کی مخالفت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ افغان اب ایک بیدار قوم ہیں۔ اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے وہ اکثر امریکہ اور برطانیہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ مغربی جمہوریتوں میں بھی صرف الیکشن جیتنے والی پارٹی ہی اقتدار میں آتی ہے اور ہاری ہوئی پارٹیوں کو حکومت میں شریک نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ بظاہر ان کی اس دلیل میں ایک طفیلانہ وزن نظر آتا ہے، لیکن یہ موازنہ سراسر لغو اور حقیقت سے بعید ہے۔ مغربی جمہوریتوں میں اقتدار حاصل کرنے والی جماعتیں اپنے سیاسی مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹانے، انہیں کوڑے مارنے، جیلوں میں ٹھونسنے یا ان پر بیجا پابندیاں عائد کرنے کا کام نہیں کرتیں، اور نہ ہی وہاں نصف آبادی یعنی خواتین کو ان کے بنیادی انسانی، تعلیمی اور روزگار کے حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سابق سفیر منصور خان نے بھی اپنے ایک حالیہ مضمون میں درست نشاندہی کی ہے کہ صرف تشدد اور حملوں میں کمی آ جانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ افغانستان میں پائیدار امن اور سیاسی استحکام قائم ہو گیا ہے۔ طالبان قیادت کو یہ بنیادی نکتہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ تمام گروہوں کو محض چند وزارتیں دینے کا نہیں ہے، بلکہ ملک کے اندر سیاسی اتفاقِ رائے، واقعی مفاہمت، سیاسی گنجائش پیدا کرنے اور شہریوں کو بنیادی انسانی آزادیاں فراہم کرنے کا ہے۔
پانچ برس کی اقتدار اعلیٰ کے بعد یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغان طالبان نے ملک کے طول و عرض پر اپنا بلا شرکتِ غیرے کنٹرول مضبوط کر لیا ہے اور وہ کسی بھی اندرونی مسلح اپوزیشن کو کچلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، محض علاقائی کنٹرول اور قوت کا استعمال کسی بھی حکومت کو عالمی سطح پر اخلاقی اور قانونی مشروعیت فراہم نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے ماضی میں امریکہ اور نیٹو کے شدید دباؤ کے باوجود جس طالبان تحریک کے بیانئے اور موجودگی کا طعنہ سہا، آج وہی طالبان پاکستان مخالف دہشتگردوں کی سرپرستی کر کے پاکستان کے اپنے سیکیورٹی وجود پر ضربیں لگا رہے ہیں۔ جارہانہ لہجہ، سیاسی مخالفین کو دھمکیاں، اور پڑوسی ممالک کے سنگین سیکیورٹی خدشات سے آنکھیں چرانے کی یہ پالیسی افغان طالبان کو کبھی ایک ذمہ دار اور عالمی برادری میں مقبول حکومت کا درجہ نہیں دلا سکتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت جذباتی اور سخت گیر سوچ سے باہر نکلے، اور افغان عوام کے روشن مستقبل نیز خطے کی پائیدار سلامتی کی خاطر ایک غیر جذباتی، حقیقت پسندانہ اور جامع حکمتِ عملی اختیار کرے۔

See V Log: Taliban Rule 5 Years ON: Will Aggression, Intimidation, Disregard for Neighbours’ Concerns Help?

Five years after taking control of Kabul on August 15, 2021, the Taliban have consolidated absolute internal control over Afghanistan, yet they remain internationally isolated and economically paralyzed.
Key Takeaways & Strategic Analysis
  • Collapse of the Republic & Exiled Opposition: The 2021 withdrawal exposed the fragility of the foreign-backed Republic, as its leadership and technocrats fled abroad. Current exiled opposition figures attempting to incite resistance from Europe and the Gulf lack domestic popularity and foreign backing. Furthermore, an Afghan population suffering from decades of “war fatigue” prefers basic stability over renewed civil conflict.
  • Internal Grip vs. Economic Paralysis: Power remains strictly centralized in Kandahar under Supreme Leader Hibatullah Akhundzada. The Taliban abolished the 2004 constitution, establishing a strict Sharia-based judicial system. While they improved revenue collection and territorial security, the country faces severe economic stagnation due to $6–8 billion in frozen foreign reserves, slashed international aid, and a lack of formal recognition by any country other than Russia.
  • Friction with Regional Neighbors: Safe havens for groups like Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP) and the East Turkestan Islamic Movement (ETIM) remain the biggest obstacle in relations with Pakistan and China. Bound by tribal codes of hospitality and ideological ties, the Taliban refuse to act decisively against these allies, instead integrating some into local security structures or diversifying trade via Central Asia to blunt Pakistani leverage.
  • Flawed Democratic Analogies: Foreign Minister Amir Khan Muttaqi defends single-party rule by comparing it to Western democracies where the election winner governs alone. However, this argument ignores the fact that democratic governance does not systematically suppress political dissent, employ extreme punishments, or deny women basic rights to education and work.
Territorial dominance and military control do not equate to legitimate statehood. By relying on intimidation, internal repression, and indifference toward neighboring security concerns, the Taliban leadership risks permanent international isolation. Long-term stability will depend on shifting toward political consensus, basic human freedoms, and responsible regional diplomacy.