دی خیبر ٹائمز : خصوصی رپورٹ
بنوں: بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی اور 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سیکیورٹی کے حوالے سے حساس ضلع بنوں میں بڑا عوامی اجتماع کرکے نہ صرف پارٹی کارکنوں کو متحرک کیا بلکہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے آئندہ سیاسی مرحلے کی تیاریوں کا بھی واضح اشارہ دیا ہے۔
قبائلی ضلع خیبر کے بعد بنوں میں وزیراعلیٰ کا یہ دوسرا بڑا اسٹریٹ موومنٹ شو ایسے وقت میں ہوا ہے جب صوبے کے کئی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال بدستور ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ بنوں میں جلسے کے انعقاد سے پہلے سیکیورٹی اور مقامی سطح پر بعض تحفظات بھی سامنے آئے، تاہم پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ کی پولیس امن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کے بعد اجتماع کیلئے راستہ ہموار ہوا۔
جلسے میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر، شاہد خٹک، شفیع جان، مینا خان آفریدی، شفقت ایاز اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنماؤں سمیت پارٹی کے مقامی و صوبائی عہدیدار وزیراعلیٰ کے ساتھ موجود رہے۔
اس اجتماع میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ بنوں کے مقامی مسائل بھی نمایاں طور پر زیر بحث آئے۔ خصوصاً پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو درپیش مسائل، جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی کی کمی اور الاؤنسز کے معاملات پر بات کی گئی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا پولیس کا سالانہ بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کردیا ہے اور پولیس کو درکار مالی اور فنی وسائل نچلی سطح تک پہنچائے جائیں گے۔
بنوں کے شہریوں کی جانب سے سڑکوں اور راستوں کی بندش کا مسئلہ بھی وزیراعلیٰ کے سامنے رکھا گیا۔ سہیل آفریدی نے ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر بنوں کو ہدایت کی کہ شہر میں عوامی آمدورفت کے راستوں پر موجود رکاوٹیں دور کی جائیں۔
وزیراعلیٰ نے کور کمانڈر پشاور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سڑکیں عوام کی آمدورفت کیلئے ہوتی ہیں اور انہیں ناکے لگا کر نو گو ایریا میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کینٹ کے اندرونی اور بیرونی ناکوں کو ختم کرنے اور شہریوں کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
پی ٹی آئی کیلئے بنوں کا یہ اجتماع محض ایک معمول کا سیاسی جلسہ نہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پارٹی نے 5 اگست کے اجتماع، ضلع خیبر کی ریلی اور اب بنوں میں بڑے عوامی مظاہرے کے ذریعے کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔
عمران خان کی مسلسل قید کے باعث پارٹی کارکنوں میں پیدا ہونے والی مایوسی اور سیاسی جمود کو توڑنے کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا خود میدان میں نکلنا پارٹی کی نئی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں حکومت ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کو آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے ایک مضبوط انتظامی و سیاسی پلیٹ فارم بھی حاصل ہے۔ ایسے میں بنوں اور خیبر جیسے حساس اضلاع میں بڑے اجتماعات کا انعقاد 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل کارکنوں کی طاقت اور عوامی حمایت کا اندازہ لگانے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم اس سیاسی سرگرمی کے سامنے کئی سوالات بھی موجود ہیں۔
بنوں کے پاور شو کے بعد اصل امتحان اب اس بات کا ہوگا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے سڑکوں اور ناکوں کے خاتمے کے احکامات کس حد تک عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اسی طرح مولانا نسیم شاہ کی جانب سے امن کمیٹی کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد بھی اہم ہوگا۔ اگر مقامی مسائل حل نہ ہوئے تو بنوں میں دوبارہ احتجاج اور کشیدگی پیدا ہونے کا امکان موجود رہے گا۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں میں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے جوش اور سیاسی وابستگی اب بھی برقرار ہے، لیکن پارٹی کی حالیہ سیاسی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کارکنوں اور قیادت کے درمیان اعتماد کا مسئلہ بارہا سامنے آتا رہا ہے۔
ماضی میں قیادت کے بعض فیصلوں، احتجاجی تحریکوں کے اتار چڑھاؤ اور وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی کامیابی صرف ایک بڑے جلسے یا ریلی پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ اس بات پر بھی ہوگی کہ پارٹی قیادت کارکنوں کے اعتماد کو کس حد تک برقرار رکھ پاتی ہے۔
بنوں کا اجتماع اس لحاظ سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیلئے بھی ایک اہم سیاسی امتحان تھا۔ انہوں نے ایک طرف عمران خان کی رہائی کی تحریک کو آگے بڑھانے کا پیغام دیا، تو دوسری جانب پارٹی کے مختلف رہنماؤں اور دھڑوں کو ایک ہی سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش بھی کی۔
اگر یہ اتحاد آئندہ ہفتوں میں برقرار رہتا ہے اور کارکنوں کی موجودہ توانائی کو منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کیا جاتا ہے تو بنوں کا یہ پاور شو 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
لیکن اصل سوال اب بھی وہی ہے: کیا پی ٹی آئی اس بار اپنے کارکنوں کے جذبے کو قیادت کی واضح حکمت عملی، مسلسل سیاسی جدوجہد اور عملی فیصلوں میں تبدیل کر پائے گی؟
English Summary:
Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi held a major PTI power show in Bannu ahead of the September 27 proposed long march for Imran Khan’s release. The event highlighted PTI’s efforts to revive its political momentum, address local security and public-access issues, and unite party leaders and workers. The Bannu gathering also raised questions about whether the party can maintain unity and turn growing worker enthusiasm into an organized movement for the September 27 march.




