ایرانی دارالحکومت تہران کی انتظامیہ نے ممکنہ جنگی حالات اور غیر معمولی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے شہری حدود سے باہر ایک خاص مقام تیار کر لیا ہے، جسے امریکی فوجی اہلکاروں کی عارضی تدفین کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام کسی بھی ناگہانی اور غیر معمولی حالات سے نمٹنے کی باقاعدہ تیاریوں کا حصہ ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے مرکزی قبرستان ( بہشت زہرا ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) محمد جواد تاجک نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تہران شہر سے ہٹ کر تیار کئے گئے اس خاص مقام پر تقریباً 5 ہزار قبروں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے ان تیاریوں کو محض ذرائع ابلاغ کی مہم یا نفسیاتی کارروائی کا تاثر دینے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کوئی پروپیگنڈا نہیں بلکہ عملی طور پر ایک حقیقت ہے اور تہران سے باہر یہ مقام باقاعدہ طور پر تیار کیا جا چکا ہے۔ محمد جواد تاجک کا کہنا تھا کہ بحرانی انتظامات (کرائسز مینجمنٹ) کے تحت ان کے ادارے کو مختلف ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر پیشگی منصوبہ بندی کرنا ہوتی ہے۔ ان مختلف منظرناموں میں ایک ممکنہ صورتحال یہ بھی شامل ہے کہ اگر بالفرض غیر ملکی فوجی دستے ایرانی سرزمین میں داخل ہو جائیں، تو ایسی صورت میں غیر ملکی فوجی اہلکاروں کی لاشوں کا انتظام کس طرح کیا جائے گا۔ اسی مقصد کے تحت لاشوں کو سنبھالنے، انہیں عارضی طور پر محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر تدفین کے تمام لازمی انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے ان تیاریوں کا مقصد واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکی فوجی دستوں کا تہران میں داخلہ یا جنگ کا ہونا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک معمول کی ہنگامی منصوبہ بندی اور بحران سے نمٹنے کی انتظامی تیاریوں کا قدرتی حصہ ہے، تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں فوری اور منظم اقدامات کئے جا سکیں۔




