PTI leaders and supporters rallying for Imran Khan's release ahead of the September 27 Islamabad Long March.

عمران خان کی رہائی کیلئے 20 لاکھ کا لانگ مارچ یا سیاسی بقا کی جنگ؟

تحریر: دی خیبر ٹائمز سیاسی ڈیسک
خیبرپختونخوا کے وزیرِ اطلاعات شفیع جان کی جانب سے 20 لاکھ لوگوں کے ساتھ پشاور سے اسلام آباد مارچ اور 27 ستمبر کی حتمی تاریخ کا اعلان، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاست میں ایک بار پھر شدید تحرک پیدا کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نو ماہ سے زائد عرصے پر محیط مبینہ قیدِ تنہائی، ملاقاتوں پر مکمل پابندی اور شدید سیاسی دباؤ کے ماحول میں، صوبائی حکومت کا یہ دعویٰ اب تک کی سب سے بڑی سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ تاہم، اس بلند بانگ دعوے کے پسِ منظر میں جہاں تحریک انصاف ایک حتمی معرکے کی تیاری کا مژدہ سنا رہی ہے، وہاں خود پارٹی کے اندرونی حلقوں، نظریاتی کارکنان اور سیاسی مخالفین کی جانب سے موجودہ قیادت کی نیت اور کارکردگی پر سنگین سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
اگر اگست 2023ء میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے اب تک کے احتجاجی ریکارڈ کا تجزیہ کیا جائے، تو پی ٹی آئی نے عوامی طاقت کے مظاہرے کی متعدد کوششیں کی ہیں۔ اسلام آباد ڈی چوک کے احتجاج سے لے کر صوابی، پشاور، راولپنڈی اور سنگجانی کے جلسوں تک، ہر بار کارکنان کا جوش و خروش دیدنی رہا۔ علی امین گنڈاپور، بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب کی قیادت میں نکلنے والے قافلے جب بھی اسلام آباد کی سرحدوں پر پہنچے، تو انہیں شدید شیلنگ اور انتظامی کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان تمام تحاریک کا المیہ یہ رہا کہ عین اس وقت، جب کارکنان فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے لگتے، پارٹی قیادت یا تو اچانک منظرِ عام سے غائب ہو جاتی یا پھر کسی غیر واضح اور پراسرار مفاہمت کے تحت احتجاج ملتوی کرنے کا اعلان کر دیتی۔ بالخصوص سنگجانی جلسے میں مقررہ وقت پر ڈرامائی اختتام نے کارکنوں کے دلوں میں قیادت کے حوالے سے شدید بددلی کے بیج بوئے۔
یہی وجہ ہے کہ آج پارٹی کے متحرک ورکرز اور سیاسی مخالفین مشترکہ طور پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت درحقیقت بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودگی کا سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق، صوبائی حکومت کی باگ ڈور اور پارٹی کے مرکزی عہدے موجودہ قیادت کے پاس ہیں، جو بانی کی غیر موجودگی میں آزادانہ فیصلے کر رہی ہے اور اقتدار کے ثمرات سے متمتع ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ اپنے معاملات بحال رکھنے کیلئے زبانی حد تک تو سخت محاذ آرائی کرتی ہے، لیکن عملی میدان میں ہمیشہ ڈیل اور سمجھوتے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔
اس شکوک و شبہات کے ماحول کو حالیہ پشاور جلسے میں مزید تقویت ملی، جہاں سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے احتجاجی تحریک کو دو ماہ کیلئے ملتوی کرنے کی تجویز سامنے آئی۔ اس تجویز پر کارکنان میں شدید غم و غصہ پھیل گیا، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ملاقاتوں اور قیدِ تنہائی کی موجودہ سختیوں کے دوران مزید دو ماہ کا وقفہ دینا، بلاواسطہ عمران خان کو مزید عرصے کیلئے قیدِ تنہائی کے سپرد کرنے کے مترادف ہے۔ اس سیاسی اور قیادت کے خلا کو پر کرنے کیلئے عمران خان کی بہنیں، علیمہ خان اور عظمیٰ خان، فرنٹ لائن پر آ چکی ہیں۔ علیمہ خان نے کئی مواقع پر پارٹی کی مرکزی قیادت کی سستی اور مبینہ ڈھیلے روئے پر کھلم کھلا تنقید کی ہے اور وہ بانی کا پیغام عام کارکنوں تک پہنچانے میں سب سے زیادہ فعال اور موثر کردار ادا کر رہی ہیں۔
دوسری جانب، وزیرِ اطلاعات شفیع جان کے اس انکشاف نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ پی پی پی وفاقی حکومت سے الگ ہو، تمام آئینی عہدے چھوڑے اور بجٹ یا آئینی ترمیم میں ن لیگ کا ساتھ دینا بند کرے۔ اگرچہ پی پی پی کا یہ رابطہ واقعی کسی درپردہ مذاکرات کا حصہ ہے یا نہیں، لیکن بیشتر ماہرین اسے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے پی ٹی آئی کی ایک سیاسی مانورنگ قرار دے رہے ہیں۔
حتمی تجزئے میں، 27 ستمبر کا لانگ مارچ پی ٹی آئی اور بالخصوص خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کیلئے آر یا پار کا ٹیسٹ کیس ہے۔ اگر علی امین گنڈاپور اور شفیع جان واقعی 20 لاکھ کی طاقت کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو یہ وفاقی حکومت کی بنیادیں ہلا سکتا ہے اور بانی کی رہائی کے راستے کھول سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ مارچ بھی ماضی کے مظاہروں کی طرح کسی اچانک ڈیل، راستے کی بندش کے بہانے یا قیادت کی راہِ فرار پر ختم ہوا، تو پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کارکنان کا بچا کچا اعتماد بھی ہمیشہ کیلئے کھو دے گی، اور یہ تاثر حتمی طور پر پختہ ہو جائے گا کہ رہائی صرف ایک نعرہ ہے، جبکہ اصل مقصد صرف اور صرف اپنے اقتدار کو طول دینا ہے۔

Executive Summary: ‘2 Million Long March’  A Real Push or Political Survival Strategy?

Source: The Khyber Times Political Desk

Key Highlights:

  • The Announcement: Khyber Pakhtunkhwa (KP) Information Minister Shafi Jan announced a major long march of 2 million people from Peshawar to Islamabad, setting September 27 as the deadline. This comes as PTI leadership highlights Imran Khan’s prolonged solitary confinement (over 9 months) and the restriction of visitor access.
  • Pattern of Past Protests: Since Imran Khan’s arrest in August 2023, PTI has launched several rallies and marches (including D-Chowk, Swabi, Rawalpindi, and Sangjani). However, a recurring trend has emerged: despite heavy worker turnout and state crackdown, party leadership repeatedly called off protests unexpectedly or vanished at critical moments, leaving workers frustrated.
  • Allegations Against Current Leadership: Ideological party workers and political opponents accuse the current KP leadership (including CM Ali Amin Gandapur) of benefiting from Khan’s imprisonment. Critics allege that the leadership maintains power in KP while using aggressive rhetoric to mask behind-the-scenes compromises with the federal setup.
  • Controversy Over Postponement: Statements at the recent Peshawar rally specifically suggestions by leaders like Suhail Afridi to pause protests for two months sparked outrage among supporters, who viewed the delay as abandoning Khan in isolation.
  • The Role of Khan’s Sisters: In response to leadership inaction, Imran Khan’s sisters (Aleema Khan and Uzma Khan) have taken a prominent front-line role, calling out internal party apathy and mobilizing the grassroots base directly.
  • The PPP Factor: Shafi Jan revealed that senior Pakistan Peoples Party (PPP) leaders reached out to PTI. PTI’s conditions include PPP withdrawing support for the federal government and resigning from constitutional posts a move analysts consider a strategic tactic to pressure the ruling coalition.

Conclusion:

The September 27 long march is a “do-or-die” test for PTI’s provincial leadership. A successful, massive rally could destabilize the federal government and push for Imran Khan’s release. Conversely, another sudden retreat or deal will permanently solidify the narrative that the current leadership is using Khan’s imprisonment merely to prolong its own stay in power.