بحری ناکہ بندی میں شدت، عراق میں امریکہ-سعودی مشترکہ کارروائیاں اور اسرائیل کی لبنان میں مزید پیش
دی خیبر ٹائمز ویب ڈیسک
ایران اور امریکہ کے مابین جاری تناو نے ایک بار پھر انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کیا ہے، رواں ہفتے جہاں امریکہ نے دو ہفتوں سے جاری فضائی جنگی کارروائیاں روک کر سفارتی کوششوں کو راستہ دینے کا اعلان کیا تھا، وہیں بدھ کی شب ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے اور سینٹرل کمانڈ کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کے چند گھنٹوں بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کی دھمکی دیدی اور امریکی افواج نے ایران کے اندر ازسرِنو فضائی حملے شروع کر دئے۔
29 جولائی کی شب: ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کئے، تاہم امریکہ نے دعویٰ کیا ہے، کہ انہوں نے ایران کی جانب سے فائر کئے جانے والے تمام 5 میزائل فضا میں تباہ کردئے ہیں۔ جس کے بعد امریکی فوج نے ایران کے اندر ازسرِنو حملے شروع کئے ہیں، امریکہ اور سعودی نے مشترکہ حملوں میں کم از کم 20 ایران نواز جنگجو کو ہلاک، اور 32 زخمی کردئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی افواج کے خلاف اچانک حملے کی کوشش میں متعدد بیلسٹک میزائل داغ دئے۔ اردن کی نیوز ایجنسی اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن کے فضائی دفاعی نظام نے پانچ ایرانی میزائل فضا میں ہی تباہ کر دئے ہیں۔ IRGC نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کی فضائیہ نے اردن میں امریکی ایئربیس اور سینٹرل کمانڈ کے مرکز کو نشانہ بنایا، اور خبردار کیا کہ جب تک ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ حملہ صدر ٹرمپ کی جانب سے 24 جولائی کو ایران کے خلاف مسلسل دو ہفتے جاری رہنے والی بمباری روکنے کے اعلان کے صرف چار روز بعد سامنے آیا، اور عین اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کر رہے تھے۔ الجزیرہ کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ دراصل ایران کی جانب سے ٹرمپ کو یہ پیغام دینے کی کوشش تھی کہ خطے سے متعلق کسی بھی فیصلے میں تہران کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
اسی روز پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز کو بھی روکنے کا دعویٰ کیا اور الزام لگایا کہ یہ جہاز غیرمحفوظ و غیرقانونی راستے پر سفر کر رہے تھے۔ دوسری جانب عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے مشترکہ انتظام کی تجویز کو ایران نے مسترد کر دیا۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق تہران اپنی جانب کی نگرانی خود کرنا چاہتا ہے جبکہ مسقط کو مخالف سمت کے صرف ایک حصے کی نگرانی دی جائے۔
امریکی صدر صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں ایران کے تازہ حملے پر شدید غصے کا اظہار کیا اور نہایت سخت اور غیر روایتی زبان میں ایران کو کرارا جواب دینے کا عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے، کہ امریکہ ایران پر بھرپور اور سخت ترین وار کرے گا۔ امریکی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی دھمکی کے فوراً بعد امریکی افواج نے ایران کے اندر ازسرِنو فضائی کارروائیاں شروع کر دیں، جس سے چند روزہ وقفے کے بعد ایک بار پھر براہِ راست فوجی تصادم کا نیا دور شروع ہو گیا۔ خیال رہے کہ امریکہ اس سے قبل 13 مسلسل راتوں تک ایران پر بمباری جاری رکھنے کے بعد 24 جولائی کو رکا تھا تاکہ سفارتی مذاکرات کیلئے گنجائش پیدا ہو سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران امریکی افواج اور سعودی توانائی تنصیبات پر 30 سے زائد ڈرون حملے کئے، تاہم تمام حملے ناکام بنا دئے گئے۔ اس کے جواب میں امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کے سات صوبوں میں ایران نواز عسکریت پسند گروہوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی کارروائیاں کیں۔ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے اتحاد پاپولر موبیلائزیشن فورسز کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 20 جنگجو ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے عراق سے داغے جانیوالے متعدد ڈرونز کو ریاض اور مشرقی سعودی عرب میں تیل تنصیبات کے قریب مار گرائے ہیں
امریکی سینٹرل کمانڈ CENTCOM نے بدھ کو تصدیق کیا ہے، کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ سنٹرل کمانڈ کے مطابق 29 جولائی تک مجموعی طور پر 20 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے ، 25 جولائی کو یہ تعداد صرف 12 تھی ، جبکہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے 2 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا اور مزید 2 پر تلاشی و تصدیقی کارروائی کی گئی۔ ان میں کوموروس کے پرچم بردار ٹینکر چارمنار شامل ہے، جسے بحیرہ عرب میں تصدیقی تلاشی کے بعد سفر جاری رکھنے کی اجازت دیدی گئی، جبکہ موزمبیق کے پرچم بردار ٹینکر لاوین کو بار بار وارننگ نظرانداز کرنے پر خلیجِ عمان میں ناکارہ بنا دیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً دو ہفتے قبل اس ناکہ بندی کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیا تھا، واضح رہے کہ جون میں طے پانے والے سمجھوتے کے بعد یہ ناکہ بندی عارضی طور پر ہٹا دی گئی تھی۔ تجزیاتی ادارے Kpler کے مطابق گزر گاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ایرانی و غیرایرانی، دونوں طرح کی بحری ٹریفک تاحال شدید محدود ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو ایک بیان میں ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ دشمن کے مقابلے میں بدستور ثابت قدم رہیں۔ پزشکیان کا مؤقف ہے کہ ایران نے موجودہ جنگ کے دوران مزاحمت کی ایک نئی مثال قائم کی ہے اور دشمن کا مقصد ایران کو غیر مستحکم کر کے سرنگوں کرناہے جس میں ان کا دشمن تاحال ناکام رہا ہے۔ ایرانی صدر پہلے بھی متعدد بار یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ ایرانی قوم ناانصافی اور جبر کے سامنے سر جھکا نے نہیں بلکہ ہمشہ اپنا سر بلند رکھے گا، اور ایرانی حکومت اپنے ہی شہریوں کے ساتھ ظلم روا نہیں رکھے گی۔ ساتھ ہی پزشکیان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تہران بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن اپنے یکطرفہ مطالبات ترک کر دے۔
ایران کی سب سے اہم بندرگاہ اور پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا مرکز ہونے کے باعث بندر عباس مسلسل امریکی و اسرائیلی حملوں کی زد میں رہا۔ اسی شہر میں 26 مارچ کو ایک اسرائیلی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا تنگسیری بھی جان بحق ہوگئے ہیں۔
بحری دفاعی نظام، کروز میزائل تنصیبات اور ساحلی نگرانی کے مراکز بارہا نشانہ بنائے گئے۔ بندر عباس کو تہران سے ملانے والے چھ پل، ایک ریلوے جنکشن اور ایرانی شہر کا ہوائی اڈہ 16-17 جولائی کے حملوں میں تباہ کئے گئے، جس میں ایرانی خبررساں ادارے IRNA اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 سے 8 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ فوجی و سیاسی رہنما جاںبحق ہوئے، جن میں سینئر سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی شامل تھے۔ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو 8 مارچ کو اسمبلی آف ایکسپرٹس نے نیا سپریم لیڈر مقرر کیا۔
مجموعی اعداد و شمار میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے: امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ جنگ میں اب تک 6,000 سے زائد ایرانی فوجی اہلکار جاں بحق اور 15,000 تک زخمی ہو چکے ہیں ، تاہم یہ اعداد و شمار امریکی و اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے، جس کا ابھی تک غیرجانبدارانہ تصدیق نہیں ہوسکا ہے۔ انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے آزاد ادارے HRANA کے مطابق مجموعی ہلاکتیں 3,636 ہیں جن میں سے 1,221 فوجی اہلکار، 1,701 عام شہری اور باقی غیر واضح زمرے میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران کی وزارتِ صحت کا سرکاری موقف ہے کہ فروری سے جون کے سمجھوتے تک جنگ میں 3,468 افراد جاں بحق اور 26,500 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں، جن میں 7 نومولود بچے اور 496 خواتین بھی شامل تھیں۔ 7 جولائی کو جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد سے ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق مزید کم از کم 50 افرادجاں بحق اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ، یہ اعداد و شمار 18 جولائی تک کے ہیں اور مسلسل لڑائی کے باعث ان میں مزید اضافے کا امکان ہے
امریکی محکمہ دفاع کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری سے اب تک جنگ میں 18 امریکی فوجی ہلاک اور 642 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ سب سے حالیہ ہلاکتیں 17-18 جولائی کو اردن کے موفق سلطی امریکی زیر کمانڈ ایئربیس پر ہونے والے حملے میں ہوئیں، جس میں 25 سالہ ٹائلر جیمز فیہان اور 19 سالہ ازابیلا گونزالیز سمیت تین اہلکار ہلاک ہوگئے ، یہ مارچ کے بعد ایرانی حملوں میں پہلی امریکی فوجی ہلاکتیں تھیں۔ اس سے قبل مارچ میں مغربی عراق میں ایک امریکی ری فیولنگ طیارہ گر کر تباہ ہونے سے 6 اہلکار، کویت کے بندرگاہی شہر شعیبہ میں ڈرون حملے میں 6 اہلکار، اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
انہی دنوں جنوبی لبنان کے دورے کے موقع پر اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام محاذوں پر جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور فوج کو اس کے جاری رہنے کیلئےچوکس رہنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیلی افواج لبنان کے محاذ پر مزید اندر تک پیش قدمی کرینگی اور مزید علاقوں تک پہنچینگی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگلے ہفتے 4 سے 6 اگست روم میں اسرائیل اور لبنان کے حکام کے مابین جنوبی لبنان میں پائلٹ زونز کی توسیع سے متعلق نئے مذاکرات ہونے والے ہیں، جن کے تحت اسرائیلی افواج کے جزوی انخلا کے ساتھ ساتھ لبنانی فوج کو کنٹرول سونپا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران اور لبنان حزب اللہ کے محاذ ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں، اور دونوں پر بیک وقت دباؤ برقرار رکھا جائیگا
یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ بدھ کے حملے اور اس پر ٹرمپ کے سخت ردعمل نے مذاکرات کی حالیہ کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی صدر اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کی مبینہ نئی جوہری تنصیب، جسے پک ایکس ماؤنٹین کا نام دیا جا رہا ہے، پر کسی وقت بھی حملہ کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے کسی بھی عندئے کی سرکاری طور پر تردید کی جا رہی ہے۔
جنگ کے معاشی اثرات بھی مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ بدھ کے حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا، امریکی خام تیل 82 ڈالر جبکہ برینٹ 88 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔ ایران کو بھی توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے، جنگ کے آغاز سے اب تک ملک کی قدرتی گیس کی پیداوار میں 23 کروڑ کیوبک میٹر یومیہ کمی واقع ہو چکی ہے، جبکہ بجلی کی قلت 15 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے، اور جنوبی ایران میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے باعث حکام شہریوں سے بجلی کے استعمال میں کمی کی اپیل کر رہے ہیں۔
یہ رپورٹ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM)، الجزیرہ، سی این این، ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز، پی بی ایس، فاکس نیوز اور دیگر بین الاقوامی خبررساں اداروں کی تازہ ترین رپورٹس اور سرکاری بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، تازہ ترین اپڈیٹس کیلئے ہمارے ساتھ رہئے۔
Exclusive Summary
PESHAWAR – The Khyber Times Exclusive: Regional tensions have sharply escalated after Iran reportedly launched missiles toward a US military base in Jordan, prompting renewed American airstrikes inside Iran. At the same time, the US says it has tightened its naval blockade, while joint US-Saudi strikes targeted Iran-backed militias in Iraq. Israel has also warned it may expand military operations deeper into southern Lebanon, raising fears of a wider regional conflict. Many of the claims in this report are based on official statements from the parties involved and remain independently unverified.




