English: Flags of Pakistan, Kuwait, and Saudi Arabia waving in front of a dramatic military battlefield with tanks and fighter jets.

کویت، پاکستان دفاعی معاہدہ: خلیج میں پاکستان کا بڑھتا ہوا سیکیورٹی کردار اور اس کے علاقائی اثرات

دی خیبر ٹائمز تحقیقی رپورٹ
پاکستان اور کویت کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کے معاہدے (Joint Defence Cooperation Agreement) کے اعلان کو خلیجی خطے کی سیاست اور پاکستان کی تزویراتی (Strategic) تاریخ میں ایک انتہائی اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے پہلے سے موجود مضبوط دفاعی و اسٹریٹجک معاہدے کے بعد، کویت کے ساتھ اس نئے معاہدے نے پاکستان کو عملی طور پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کیلئے ایک اہم ضامنِ امن و سلامتی بنا دیا ہے۔
پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔ 1990-91 کی خلیج جنگ اور آپریشن ڈیرٹ اسٹارم کے دوران بھی پاکستانی افواج کویت اور سعودی عرب میں بارودی سرنگیں صاف کرنے اور سرحدی تحویل کیلئے موجود رہیں۔ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز، سمندری حدبندیوں کی تحفظ اور غیر مستحکم علاقائی صورتحال کے باعث جی سی سی (GCC) ممالک اپنی دفاعی انحصار کو صرف مغربی طاقتوں تک محدود رکھنے کے بجائے پاکستان جیسی تجربہ کار اور ایٹمی صلاحیت کی حامل فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کا خلیجی عرب ممالک کے ساتھ اس قدر گہرا اور باضابطہ دفاعی اتحاد قائم ہونا طہران میں تحفظات پیدا کر سکتا ہے۔
ایران تاریخی طور پر جی سی سی (خصوصاً سعودی عرب) کے ساتھ مغربی یا غیر عرب افواج کی موجودگی کو اپنے لئے سیکیورٹی خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ پاکستان کے اس سیکیورٹی فریم ورک میں مزید گہرے شامل ہونے سے ایران کو یہ خدشہ ہو سکتا ہے کہ اس کا اثر و رسوخ محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اگر ایران نے اس دفاعی پیشرفت کو بلاواسطہ اپنے خلاف سیکیورٹی بلاک سمجھا، تو پاک ایران سرحدی امور اور سفارتی تعلقات میں تھوڑی سرد مہری یا کشیدگی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم، پاکستان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ عرب ممالک اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھے۔
پاکستان کے اندر اس معاہدے پر ملا جلا لیکن بنیادی طور پر دو اہم زاویوں سے ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے، ایک یہ کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اور معاشی ماہرین اسے مثبت نظر سے دیکھیں گے۔ کویت کے ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط ہونے سے کویت میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع کھل سکتے ہیں اور پاکستان کے معاشی بحران میں خلیجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، پاکستان کا ایک عالمِ اسلام کے سیکیورٹی ضامن کے طور پر ابھرنا عوام میں قومی افتخار کا باعث بنے گا۔
سیاسی و تجزیاتی حلقوں اور بعض مذہبی طبقات کی طرف سے یہ سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں کہ آیا پاکستانی فوج کو غیر ملکی جنگوں یا خطے کی پیچیدہ عرب ایران رقابت میں مکمل طور پر الجھنا چاہئے یا نہیں؟ پاکستانی عوام کا ایک طبقہ ہمیشہ سے یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کویت اور سعودی عرب کے ساتھ معاشی و سیکیورٹی تعلقات تو رکھے، مگر ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو داؤ پر نہ لگائے۔
پاکستان کیلئے یہ پیشرفت جہاں معاشی و سفارتی لحاظ سے ایک بڑا معرکہ ہے، وہیں اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کیلئے آنے والے دنوں میں سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ کویت اور جی سی سی کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں کو قائم رکھتے ہوئے اپنے ہمسائے ایران کے ساتھ تعلقات میں کس طرح توازن برقرار رکھتا ہے۔

Kuwait-Pakistan Defence Agreement: Strategic Impact and Regional Dynamics

  • The Announcement: Kuwait and Pakistan have signed a Joint Defence Cooperation Agreement. Alongside Pakistan’s existing strategic defense pact with Saudi Arabia, this agreement positions Pakistan as a key net security stabilizer for the Gulf Cooperation Council (GCC).

  • Background: Building on decades of security ties—such as Pakistan’s role in mine-clearing and border protection during the 1990–91 Gulf War—GCC nations are increasingly turning to Pakistan’s experienced, nuclear-armed military to address emerging regional security challenges.

  • Iranian Concerns: Teheran may view Pakistan’s growing integration into a GCC defense framework with suspicion, fearing a shift in the regional balance of power. This could potentially introduce diplomatic cool-offs or border tensions if not managed carefully through balanced diplomacy.

  • Public Reaction in Pakistan:

    • Support: Many view the agreement as a boost to national pride, expecting it to open economic opportunities and job prospects for Pakistani workers in the Gulf.

    • Caution: Analysts and certain political circles caution against becoming entangled in Middle Eastern proxy rivalries, urging the government to maintain a diplomatic equilibrium with neighboring Iran.