Rubble and debris at the site of an airstrike in Kabul following attacks on the Omid Rehabilitation Centre amid Pak-Afghan border tensions.

کابل حملہ، ایمنسٹی رپورٹ اور حقیقت کا دوسرا رخ: کیا دنیا افغان سرزمین کے خطرات سے آنکھیں چرائے گی؟

دی خیبر ٹائمز: خصوصی رپورٹ

بین الاقوامی حقوقِ انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے 16 مارچ کو کابل کے اُمید بحالی مرکز پر ہونے والے فضائی حملے سے متعلق حالیہ تحقیقاتی رپورٹ نے عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں اس حملے کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہوئے پاکستان سے شفاف تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تاہم، بین الاقوامی قانون، شواہد اور خطے کی موجودہ جغرافیائی سیاسی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا عالمی برادری کا یکطرفہ فوکس حقیقت کے اصل کینوس کو چھپا رہا ہے؟
2021 میں طالبان کی کابل واپسی کے وقت دنیا اور بالخصوص پاکستان سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ دوحہ امن معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی یا عسکری کارروائیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، تاہم بدقسمتی سے گزشتہ پانچ برسوں کے حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے عسکریت پسند افغان سرحد کے اندر نہ صرف آزادانہ گھوم رہے ہیں، بلکہ وہاں سے باقاعدہ تربیتی کیمپ، بارود کی منتقلی اور پاکستان کے اندر (خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں) روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
پاکستان سمیت متعدد عالمی استخباراتی اداروں کی رپورٹس ثابت کرتی ہیں کہ عسکریت پسند اور دہشتگرد تنظیمیں دانستہ طور پر سول انفراسٹرکچر، ہسپتالوں اور تربیتی مراکز کی آڑ لیتی ہیں تاکہ کسی بھی کارروائی کی صورت میں عالمی انسانی حقوق کے اداروں کا انسانی ہمدردی والا کوارڈ استعمال کیا جا سکے۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور عسکری حکام کے بیانات کے مطابق، 16 مارچ کو کابل میں جس جگہ کو نشانہ بنایا گیا، وہ تکنیکی معاونت کا انفراسٹرکچر اور بارود کا ایک بڑا ذخیرہ تھا۔
اگرچہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں براہ راست بم دھماکوں کے بعد کی ثانوی دھماکوں کے شواہد نہیں ملے، لیکن عسکری ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے تکبیر پرسیژن گائیڈڈ منیشن کا استعمال خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہدف کو انتہائی باریک بینی سے چنا گیا تھا تاکہ ارد گرد کی عمارتوں کو نقصان نہ پہنچے۔ طالبان حکام کے زیرِ انتظام علاقوں میں غیر جانبدارانہ آزاد تحویل ناممکن ہوتی ہے۔ دھماکے کے فوری بعد ہتھیاروں یا عسکری مواد کو ہٹانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔
بین الاقوامی قانون (اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51) ہر ریاست کو پارلیمانی یا سرحد پار سے ہونے والے مسلسل حملوں کے خلاف حقِ دفاع کا اختیار دیتا ہے۔ پاکستان مسلسل اور ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد کارروائی پر مجبور ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کا امدادی مشن (UNAMA) اور دیگر مغربی ادارے افغانستان کے اندر ہونے والے تمام تر نقصانات کی ذمہ داری تو دوسرے ممالک پر عائد کرنے میں جلدی کرتے ہیں، لیکن وہ اس بنیادی سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں، کہ افغانستان میں گزشتہ سالوں کے دوران ہونے والے 750 سے زائد شہریوں کے نقصان کی اصل وجہ کیا ہے؟ وہ مسلسل جنگ جو افغان سرزمین پر موجود کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کی وجہ سے قائم ہے!
پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والی مارٹر شیلنگ، خودکش حملوں اور سرحد پار فائرنگ کے نتیجے میں سینکڑوں سیکیورٹی اہلکار اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے نہتے شہری شہید ہو چکے ہیں۔ لیکن عالمی اداروں کی رپورٹس میں اس انسانی بحران کا ذکر محض ایک سے دو جملوں تک محدود رہتا ہے۔
اگر عالمی برادری خطے میں پائیدار امن چاہتی ہے، تو اسے اپنا دوہرا معیار ترک کرنا ہو گا، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی اداروں کو چاہئے کہ وہ صرف جوابی کارروائیوں کا تجزیہ کرنے کے بجائے مسئلے کی جڑ پر توجہ دیں:
طالبان حکومت پر دوحہ معاہدے کی پاسداری کیلئے عالمی دباؤ بڑھایا جائے۔
افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی (TTP)، داعش اور دیگر شدت پسند گروپوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
پاکستان کے شہری اور دفاعی حقوق کا بھی اسی طرح احترام کیا جائے جس طرح کسی مغربی ملک کا کیا جاتا ہے۔
جب تک کابل میں موجود حکمران دہشتگرد عناصر کی سرپرستی سے ہاتھ نہیں اٹھاتے، تب تک سرحد پار تنازعات کا رکنا ناممکن ہے، اور اس عدم استحکام کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جو دہشتگردوں کو پناہ دیتے ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس وقت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر افغان، چاہے وہ افغانستان کے عام شہری ہوں، طالبان کے اہلکار ہوں، یا طالبان کے خوف سے ملک چھوڑ کر باہر مقیم پناہ گزین ، پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف گالیاں دینے، غلیظ زبان استعمال کرنے اور پاکستانی اداروں کو برا بھلا کہنے کا وطیرہ اپنا چکے ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستانی شہری بھی انہیں مختلف القابات سے نوازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس صورتِ حال سے دونوں ممالک کے مابین دوریاں اور تفرقات مزید بڑھ رہے ہیں۔ یہ نہ صرف دونوں ریاستوں کے تعلقات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ وہ شہری، جو کبھی ایک دوسرے کے دوست اور بھائی سمجھے جاتے تھے، اب سوشل میڈیا کی اس تلخ بیان بازی کے باعث ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں، جو یقیناً کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔  

افغان , تاجک سرحد نئی جیو پولیٹیکل جنگ کا میدان؛ چینی ورکرز نشانے پر

Executive Summary

Overview of the Amnesty Report and Regional Conflict Context

  • Amnesty International’s Allegations: Amnesty International has called for a war crimes investigation into a March 16 Pakistani airstrike targeting the Omid Rehabilitation Centre in Kabul, which resulted in over 269 civilian deaths. The report claims the facility held protected status under International Humanitarian Law (IHL) and asserts there is no conclusive evidence showing the site was used as a military objective or ammunition depot.

  • Pakistan’s Counter-Perspective & Strategic Context: The counter-narrative (as presented in The Khyber Times piece) highlights the broader security landscape: the Afghan Taliban’s failure to honor the Doha Agreement by allowing foreign terrorist groups—specifically the Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP)—to operate freely from Afghan soil. Pakistan defends its actions as necessary self-defense under UN Charter Article 51 against cross-border terrorism, emphasizing the use of precision-guided munitions to target militant infrastructure.

  • Escalating Online Hostility: Beyond diplomatic and military friction, the ongoing conflict has sparked severe online hostility. Toxic rhetoric, abuse, and smear campaigns exchanged between Afghan and Pakistani users on social media are worsening public sentiment, eroding historical ties between the two peoples, and hindering long-term regional stability.