Pakistani male and female trekkers posing with banners at the campsite during the 5,050m Phargam Pass to Golen Trek in Chitral.

ہندوکش کی چوٹیوں پر نئی تاریخ رقم: 5 ہزار میٹر بلند پھاگرام پاس تا گولین ٹریک کی تاریخی مہم جوئی کامیاب

سرکاری سطح پر پہلی بار مرد و خواتین ٹریکرز کا دُشوار گزار برفانی راستوں پر سفر؛ 1975ء کی تاریخی یادگار بھی دریافت

پشاور: سفیر اللہ

سلسلۂ ہندوکش کے سنگلاخ، برفیلے اور دُشوار گزار پہاڑوں میں پاکستانی کوہ پیماؤں اور ٹریکرز نے مہم جوئی کی دنیا میں ایک نیا اور تاریخ ساز باب رقم کر دیا ہے۔ حکومتِ خیبرپختونخوا اور کے پی کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (KPCTA) کے زیرِ اہتمام، ملکی تاریخ میں پہلی بار سرکاری سطح پر 5,050 میٹر بلند پھاگرام پاس تا گولین ٹریک کو کامیابی کے ساتھ طے کر لیا گیا ہے۔
پانچ دنوں پر محیط یہ سفر محض ایک ٹریکنگ مہم نہیں، بلکہ قدرت کے سخت ترین امتحانات، عمودی برفانی ڈھلوانوں اور گلیشیئرز پر انسائی عزم و ہمت کی فتح کی داستان ہے۔
سطح سمندر سے 5,050 میٹر کی بلندی پر واقع اس دُشوار گزار ٹریک کو طے کرنے کیلئے 13 قومی ٹریکرز پر مشتمل ایک متوازن ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں 7 خواتین اور 6 مرد ٹریکرز شامل تھے۔ اس مہم کو محفوظ اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کرنے کیلئے31 مقامی پورٹرز , 4 تجربہ کار گائیڈز ایک چیف گائیڈ اور مکمل لاجسٹکس سپورٹ ٹیم شامل تھی۔
ٹیم نے 5 روز تک مسلسل برفانی تودوں، گلیشیئرز کی دراڑوں اور خطرناک پتھریلے راستوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اس مہم کو اپنے نام کیا۔
اس مہم کے دوران چترال کی مقامی خواتین نے بھی کوہ پیمائی کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، چترال سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں اور ان کی ایک کزن نے خواتین کے زمرے میں سب سے پہلے پھاگرام پاس کی چوٹی سر کر کے ایک نیا علاقائی ریکارڈ قائم کیا، جبکہ مرد ٹریکرز میں کامران خان پھاگرام پاس کی چوٹی پر قدم رکھنے والے پہلے ٹریکر بنے۔
اس قسم کے چیلنجنگ ٹریکس کی سرکاری سطح پر سرپرستی خواتین کو ایڈونچر اسپورٹس میں آگے آنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ اس سے خیبرپختونخوا کا ایک مثبت اور پرامن تاثر دنیا بھر میں اجاگر ہوگا۔
اس ٹریکنگ مہم کی سب سے منفرد اور تاریخی بات ایک گمشدہ یادگار کی دوبارہ دریافت تھی۔ ٹریکنگ کے دوران ٹیم کو آسٹریا کے معروف کوہ پیما جارج کرونبرگر (George Kronberger) کی تاریخی یادگاری تختی ملی، جو 31 جولائی 1975ء کو انہی برفیلی چوٹیوں میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔
مرد ٹریکرز کے مطابق، اس یادگار کا دوبارہ سامنے آنا سلسلۂ ہندوکش میں ابتدائی دور کے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی قربانیوں اور اس خطے کی قدیم کوہ پیمائی کی تاریخ کا ایک روشن ثبوت ہے۔
خیبرپختونخوا بالخصوص ضلع چترال کو قدرتی حسن اور بلند و بالا چوٹیوں کے باعث ایڈونچر ٹورازم کا مرکز مانا جاتا ہے۔ گزشتہ برس کے پی ٹورازم اتھارٹی کے زیرِ اہتمام تریچ میر بیس کیمپ تک کامیاب ٹریکنگ اور سمٹ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کی کامیابی کے بعد امسال پھاگرام پاس تا گولین ٹریک کا انتظام کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سیاحت ملک عدیل اقبال کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا مقصد صرف روایتی سیاحت کو فروغ دینا نہیں، بلکہ عالمی معیار کے ایڈونچر ٹورازم کے روٹس کو فعال کرنا ہے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔
پھاگرام پاس کی اس کامیاب مہم کے بعد بین الاقوامی کوہ پیماؤں اور غیر ملکی ٹریکرز کی توجہ بھی سلسلۂ ہندوکش کی جانب مبذول ہو چکی ہے۔ رواں سال مختلف ممالک سے آئے ہوئے بین الاقوامی ٹریکرز اور کوہ پیماؤں کے گروپس انہی راستوں پر گامزن ہیں تاکہ دنیا کو ہندوکش کی بے مثال خوبصورتی سے روشناس کرایا جا سکے۔
سرکاری سطح پر نئے ٹریکس کی دریافت اور ان کے تحفظ سے نہ صرف پاکستان کا عالمی سطح پر نرم اور پرامن تاثر (Soft Image) اجاگر ہو رہا ہے، بلکہ یہ پیش رفت آنے والے دنوں میں ملک میں غیر ملکی زرِ مبادلہ اور سیاحتی معیشت کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

Summary: Historic Phargam Pass to Golen Valley Expedition

  • The Milestone: In an official first, a 13-member team of Pakistani trekkers (7 females and 6 males) successfully completed the grueling 5-day trek from Phargam Pass to Golen Valley at an altitude of 5,050 meters in the Hindukush mountain range.

  • Organization: The expedition was organized by the Khyber Pakhtunkhwa Culture and Tourism Authority (KPCTA) with support from 31 local porters, 4 guides, and a logistics team.

  • Key Achievements:

    • Two sisters and their cousin from Chitral became the first women to summit the pass, while Kamran Khan was the first among the male trekkers.

    • The team rediscovered the lost 1975 memorial plaque of Austrian mountaineer George Kronberger, who died in the region on July 31, 1975.

  • Impact: This successful expedition marks a significant step forward in promoting adventure tourism, encouraging female participation in sports, and putting Chitral on the global map for international trekkers.