دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک: حالیہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے امریکی فوجی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کی نگرانی کیلئے مشرقِ وسطیٰ کے موبائل نیٹ ورکس پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، ایران نے موبائل نیٹ ورکس میں گھس کر امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت اور ان کے مقامات کا سراغ لگایا۔
رپورٹ میں خلیجی ممالک کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں نے مبینہ طور پر مقامی موبائل کمپنیوں کے مابین قائم ‘رومنگ معاہدوں کا فائدہ اٹھایا۔ ان بین الاقوامی رومنگ سسٹمز کی مدد سے دشمن قوتوں نے امریکی فوجی اہلکاروں کے فونز کو ٹریک کیا اور ان کے درست مقامات معلوم کئے۔
اس انکشاف کے بعد امریکی قانون سازوں اور سیکیورٹی حکام میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ، بین الاقوامی رومنگ سسٹم اور اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی اشتہاری ٹیکنالوجی (Ad-tech) نے امریکی فوجی اہلکاروں کو شدید سیکیورٹی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے حساس مقامات پر تعینات فوجیوں کی ڈیجیٹل نگرانی اور ان پر ممکنہ حملوں کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق، جنگ کے دوران ایران اور ایران نواز عسکری گروہوں نے عراق، بحرین اور دیگر خلیجی خطوں میں ان ہوٹلوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی کنٹریکٹرز اور فوجی مقیم تھے۔
ان حملوں کے دوران بعض مقامات پر امریکی کنٹریکٹرز اور فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں واقع کراؤن پلازا ہوٹل پر گرنے والا میزائل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا، یہ ہوٹل امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کو رہائش، لانڈری اور دیگر لاجسٹک خدمات فراہم کرنے کا اہم شراکت دار ہے۔
دفاعی اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کو سو فیصد ڈیجیٹل نگرانی سے جوڑنے کیلئے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ ہدف کا تعین کرنے کیلئے دشمن دیگر روایتی ذرائع بھی استعمال کر سکتا ہے، جن میں انسانی مخبر، ہوٹلوں کے آن لائن جائزے اور فیس بک و دیگر سوشل میڈیا پوسٹس شامل ہیں جو فوجی اہلکار نادانستہ طور پر اپنی تعیناتی کے دوران شیئر کرتے ہیں۔
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (CIA) کے سابق اہلکار مائیکل اسٹوکس نے اس سنگین غفلت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ، ڈیجیٹل نگرانی کیلئے فون کو باقاعدہ ہیک کرنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔
اسمارٹ فونز مسلسل بڑی مقدار میں ذاتی معلومات خارج کرتے ہیں، جسے سیکیورٹی کی اصطلاح میں “ڈیجیٹل اخراج” (Digital Exhaust) کہا جاتا ہے۔
اس ڈیٹا کی مدد سے صارف کا مقام، اس کے قریبی رابطے اور یہاں تک کہ روزانہ چلنے والے قدموں کی تعداد تک کا باآسانی سراغ لگایا جا سکتا ہے۔
سابق سی آئی اے اہلکار نے مزید انکشاف کیا کہ سرکاری اور سیکیورٹی ملازمین اکثر حساس مشنز یا تعیناتیوں کے لیے فراہم کردہ مخصوص اور محفوظ فونز استعمال کرنے کے بجائے اپنے ذاتی اسمارٹ فونز کا استعمال کرتے ہیں، یا پھر دونوں فونز ایک ساتھ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ یہ لاپروائی ان کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کے ایسے واضح نشانات چھوڑ جاتی ہے جن کا مخالف قوتیں باآسانی فائدہ اٹھا لیتی ہیں۔
EXCLUSIVE SUMMARY: Iran Exploited Mideast Mobile Networks to Track and Target US Troops, FT Reports
The Cyber Breach: A Financial Times investigation reveals that Iranian-backed actors infiltrated Middle Eastern mobile networks during the recent conflict to track the live locations and movements of US military personnel and defense contractors.The Roaming Loophole: Gulf security officials suspect that Iranian operatives exploited international roaming agreements between local telecom operators to pinpoint the exact coordinates of US targets without needing to directly breach secure military communications.Physical Fallouts: This digital surveillance is believed to have aided physical strikes on hotels housing US contractors across Iraq and Bahrain including a missile strike on the Crowne Plaza Hotel in Manama, a key lodging partner for the US Department of Defense.The “Digital Exhaust” Vulnerability: Former CIA official Michael Stokes warned that actors didn’t even need sophisticated hacks. Modern smartphones constantly leak massive amounts of metadata (termed “digital exhaust”) through ad-tech. Troops frequently carry personal devices alongside secure government phones, leaving an easily trackable digital footprint.US Lawmakers Alarmed: US policymakers have expressed deep concern over how global roaming protocols and mobile advertising technology have effectively turned everyday smartphones into beacons for hostile targeting.




