پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تقریباً 19 سال بعد غزہ میں اپنی حکومت تحلیل کرنے اور شہری انتظامی اختیارات ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حماس کے مطابق یہ اقدام جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت کیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان حماس کے گورنمنٹ میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابۃ نے دیر البلح میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
حماس کا کہنا ہے کہ انتقالِ اختیارات کا عمل مکمل ہونے تک صرف تکنیکی اور پیشہ ورانہ عملہ اپنے عہدوں پر برقرار رہے گا تاکہ صحت، تعلیم، بلدیاتی خدمات اور دیگر ضروری سرکاری امور متاثر نہ ہوں۔
اگر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ 2007 میں غزہ پر حماس کے کنٹرول کے بعد سب سے بڑی سیاسی اور انتظامی تبدیلی تصور کی جائے گی۔ اس سے غزہ میں ایک غیر جماعتی یا تکنیکی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کا انحصار جنگ بندی کے معاہدے، فلسطینی دھڑوں کے باہمی اتفاق، اسرائیل کے مؤقف اور بین الاقوامی حمایت پر ہوگا۔
یاد رہے کہ، حماس کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں۔ اگر غزہ میں انتظامی اختیارات واقعی ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی کو منتقل کئے جاتے ہیں تو اس کے کئی ممکنہ اثرات سامنے آ سکتے ہیں:
غزہ میں جنگ بندی کو زیادہ پائیدار بنانے اور انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ غیر سیاسی یا تکنیکی انتظامیہ کے ساتھ بین الاقوامی اداروں کیلئے کام کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، اگرچہ اس راہ میں سیاسی اختلافات بدستور ایک بڑی رکاوٹ رہیں گے۔
امریکہ، مصر، قطر اور دیگر ثالث ممالک اس پیش رفت کو غزہ کی تعمیر نو اور مستقبل کے انتظامی نظام سے متعلق مذاکرات میں ایک مثبت اشارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ تمام فریق اس پر متفق ہوں۔
اسرائیل کا ردعمل اس پورے عمل میں فیصلہ کن اہمیت رکھے گا۔ اگر اسرائیل اس انتظامی تبدیلی کو ناکافی سمجھتا ہے یا سکیورٹی خدشات برقرار رہتے ہیں تو جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور بعد ازاں سامنے آنے والی سفارتی کوششوں نے خطے میں طاقت کے توازن اور سیاسی مذاکرات کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں غزہ کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری، جنگ بندی کی کوششوں اور علاقائی استحکام پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
خبر کے مطابق بیان کردہ حکومت کی تحلیل اور اختیارات کی منتقلی کا اعلان حماس کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اس کے عملی نفاذ، متعلقہ فریقوں کی منظوری اور زمینی حقائق کے بارے میں مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
___________________________________________
Hamas has announced the dissolution of its Gaza government after nearly 19 years in power, saying civilian administrative responsibilities will be transferred to a Palestinian technocratic committee under the ceasefire framework. The move, announced by Government Media Office chief Ismail al-Thawabta, could mark a significant political shift in Gaza if implemented, with potential implications for ceasefire negotiations, humanitarian aid, and regional diplomacy.




