Alt Text: A PAF officer in uniform signaling a distressed woman to safety on an Islamabad highway with a motorcyclist nearby and Margalla Hills in the background.

حوا کی بیٹی کا تحفظ: اسلام آباد میں درندگی کا راستہ روکتے ہوئے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت، سفاک قاتل 9 گھنٹوں میں گرفتار

اسلام آباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی دارالحکومت کا دل، نائنتھ ایونیو، اس وقت شدید سوگ اور احترام کی لپیٹ میں آ گیا جب پاک فضائیہ کے ایک انتہائی قابل اور جرأت مند حاضر سروس افسر، گروپ کیپٹن عاصم طارق نے ایک مجبور اور بے بس خاتون کی عزت و جان کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ایک ایسے دور میں جہاں لوگ سڑکوں پر ہونے والے حادثات اور مظالم سے نظریں چرا کر گزر جاتے ہیں، گروپ کیپٹن عاصم طارق نے ایک سچے محافظ اور غیرت مند پاکستانی کا حق ادا کر کے جرأت کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی، جبکہ دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بھی مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حوا کی بیٹی پر ظلم ڈھانے والے اس وحشی صفت سفاک قاتل کو دھر لیا ہے۔
یہ دلخراش واقعہ محض ایک قتل کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی سفاکیت، حیوانیت اور خواتین کے خلاف سنگین زور زبردستی کا ایک دردناک اور انتہائی افسوسناک آئینہ ہے۔ پولیس کو دئے گئے اپنے بیان میں متاثرہ خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ ملزم سعد عباسی اس کا آفس کولیگ (دفتر کا ساتھی) تھا، جس نے صبح کام پر ساتھ لے جانے کا جھوٹا دلاسا دے کر اسے موٹر سائیکل پر بٹھایا، لیکن راستے میں ملزم کی نیت بدل گئی اور اس کی حیوانیت عیاں ہو گئی۔ وہ خاتون کی مرضی کے خلاف، شدید زور زبردستی کرتے ہوئے اسے کسی پارک کی طرف لے جانے لگا۔ جب خاتون نے اپنی آبرو اور جان بچانے کیلئے نائنتھ ایونیو پر چلتی موٹر سائیکل سے اترنے کی کوشش کی، تو ملزم وحشیانہ طریقے سے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے زبردستی گھسیٹنے لگا۔ سرِعام ایک خاتون کے ساتھ ہونے والی اس درندگی اور تذلیل نے وہاں سے گزرنے والے ہر حساس شخص کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
ٹھیک اسی لمحے، وہاں سے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنی گاڑی میں گزر رہے تھے۔ حوا کی بیٹی کو اس طرح سڑک پر درندے کے چنگل میں تڑپتا اور بے بسی سے سسکتا دیکھ کر عاصم طارق کی رگِ حمیت پھڑک اٹھی اور انہوں نے گاڑی آگے بڑھانے کے بجائے ایک غیرت مند شہری اور سچے فوجی افسر کا ثبوت دیتے ہوئے فوراً گاڑی کا یوٹرن لیا اور خاتون کی مدد کو پہنچے۔ گروپ کیپٹن کی اس بروقت اور جرأت مندانہ مداخلت کی وجہ سے خاتون کو موقع ملا اور وہ اپنی جان چھڑا کر دوسری طرف بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔ ملزم سعد عباسی، خاتون کو اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر آپے سے باہر ہو گیا اور گروپ کیپٹن عاصم طارق سے بدکلامی اور تکرار شروع کر دی۔ عاصم طارق نے معاملے کو سلجھانے اور بیچ بچاؤ کرانے کی مخلصانہ کوشش کی، لیکن قانون اور انسانیت سے عاری ملزم نے موٹر سائیکل آگے بڑھا کر دوبارہ یوٹرن لیا اور انتہائی سفاکی سے گروپ کیپٹن پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو بتایا کہ یہ کیس پولیس کیلئے ایک انتہائی حساس اور بڑا چیلنج تھا، کیونکہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر ایک حاضر سروس سینیئر عسکری افسر کا اس طرح سرِعام فائرنگ میں شہید ہونا شدید تشویش ناک تھا۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر 11 تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہیں جدید ٹیکنالوجی فراہم کی گئی۔ اگرچہ ملزم کا تعلق بنیادی طور پر ایبٹ آباد سے ہے، تاہم وہ اور متاثرہ خاتون کھنہ کے علاقے کے رہائشی ہیں اور ایک ساتھ ڈیوٹی پر آتے جاتے تھے۔ پولیس نے انتھک محنت اور انٹیلی جنس کی مدد سے سراغ لگاتے ہوئے، واقعے کے محض 9 گھنٹوں کے اندر اندر وحشی قاتل سعد عباسی کو تھانہ کھنہ کی حدود سے گرفتار کر لیا اور آئی جی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ قانون کے تمام تقاضے سختی سے پورے کر کے ملزم کو عبرت ناک سزا دلائی جائے گی۔
گروپ کیپٹن عاصم طارق کی اس عظیم اور اچانک شہادت نے جہاں پوری قوم کو اشکبار اور گہرے افسوس میں مبتلا کر دیا ہے، وہاں ان کے اس مخلصانہ اور بہادرانہ اقدام نے عسکری اداروں اور پاکستانی معاشرے کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ پاک فضائیہ کے شاہین صرف فضاؤں میں ہی ملک کے محافظ نہیں، بلکہ زمین پر بھی حوا کی بیٹیوں کی آبرو کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ ’دی خیبر ٹائمز‘ شہیدِ شجاعت گروپ کیپٹن عاصم طارق کی اس لازوال قربانی اور عظمت کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:

ٹی ٹی پی میں بڑی پھوٹ اور نئے عسکری اتحاد ، کیا پاکستان کی سرحدی پٹی پر “شمالی بلاک” جنم لینے کا امکان ہے؟_________________________________________________

PAF Officer Martyred While Protecting Woman from Harassment; Killer Arrested in Islamabad

In a tragic yet profoundly courageous incident on Islamabad’s 9th Avenue, Pakistan Air Force (PAF) Group Captain Asim Tariq sacrificed his life to protect a helpless woman from brutal harassment and forced abduction by her office colleague.

The Heroic Intervention:** The senior officer witnessed a man, later identified as Saad Abasi, aggressively pulling and dragging the distressed woman on the roadside against her will. Displaying exceptional civic duty and chivalry, Group Captain Tariq immediately turned his vehicle around to intervene, successfully rescuing the woman and allowing her to escape to safety.
The Martyrdom:** Infuriated by the intervention, the assailant engaged in a harsh altercation with the officer, took a sharp U-turn on his motorcycle, and open fired on Group Captain Tariq, who tragically succumbed to his wounds on the spot.
Swift Police Action:** Addressing the severe public anxiety over this display of street animalism against a woman, Islamabad Police mobilized 11 special investigation teams under IG Ali Nasir Rizvi. Utilizing advanced intelligence, authorities successfully tracked down and arrested the fleeing killer within 9 hours of the crime.

This heartbreaking incident has left the nation mourning, yet deeply proud of Group Captain Asim Tariq, whose ultimate sacrifice stands as a timeless testament to bravery and the defense of human dignity.