ISKP presence in Afghanistan and Taliban security challenges illustrated through analysis concept image

افغانستان میں داعش خراسان ، طالبان حکومت کیلئے مسلسل سکیورٹی چیلنج؟ قسط دوم

افغانستان میں داعش خراسان طالبان حکومت کے لیے مسلسل سکیورٹی چیلنج؟ قسط دوم

تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ

افغانستان میں 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا بیانیہ سامنے آیا۔ طالبان حکومت نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور بڑے منظم گروہوں کی صلاحیت محدود ہو چکی ہے۔ تاہم اسی عرصے میں داعش خراسان (ISKP) نے اپنی موجودگی مختلف حملوں، نیٹ ورکس اور میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے برقرار رکھی۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں مذہبی اجتماعات، سکیورٹی تنصیبات اور بعض سرکاری شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ طالبان حکومت ان دعووں اور اعداد و شمار پر مختلف مؤقف رکھتی ہے، لیکن آزاد سکیورٹی تجزیہ کار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ داعش خراسان افغانستان کے اندر ایک مسلسل، اگرچہ محدود، سکیورٹی چیلنج کے طور پر موجود ہے۔
داعش خراسان کا ظہور 2015 کے آس پاس افغانستان کے مشرقی اور کچھ سرحدی علاقوں میں ہوا۔ ابتدائی طور پر اس تنظیم نے بعض ایسے عناصر کو اپنی طرف متوجہ کیا جو یا تو مقامی تنازعات سے متاثر تھے یا طالبان اور دیگر گروہوں سے اختلاف رکھتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیم نے اپنے نیٹ ورکس کو مختلف صوبوں تک پھیلانے کی کوشش کی۔
افغانستان کے مختلف حصوں میں ہونے والی کارروائیوں کے بعد اس تنظیم کو سخت فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس کے کئی اہم مراکز ختم ہوئے یا کمزور پڑ گئے۔ تاہم اس کے باوجود اس نے مکمل طور پر اپنی سرگرمیاں بند نہیں کیں۔
2021 کے بعد طالبان حکومت کیلئے سب سے اہم سکیورٹی چیلنجوں میں داعش خراسان کا تسلسل سے موجود رہنا ہے۔ اگرچہ طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے متعدد نیٹ ورکس کو ختم کیا ہے، لیکن مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور سکیورٹی تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ گروہ اب بھی بعض علاقوں میں خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے سرگرم ہے۔
یہ صورتحال طالبان حکومت کیلئے نہ صرف داخلی سکیورٹی کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ان کی سکیورٹی پالیسی اور استحکام کے دعووں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

حالیہ برسوں میں داعش خراسان نے اپنے ہدف اور طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی ہے۔ بعض حملے بڑے عوامی اجتماعات، مذہبی شخصیات اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ بعض کارروائیاں محدود مگر علامتی نوعیت کی ہوتی ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تنظیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ اپنے حالات کے مطابق حکمت عملی تبدیل کر رہی ہے۔

افغانستان میں داعش خراسان کی موجودگی ایک ایسے سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے جو اگرچہ ماضی کے مقابلے میں محدود ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ طالبان حکومت کیلئے یہ ایک مسلسل امتحان ہے کہ وہ نہ صرف بڑے حملوں کو روکے بلکہ خفیہ نیٹ ورکس کو بھی ختم کرے۔

دی خیبر ٹائمز اسپیشل انویسٹی گیشن
یہ رپورٹ چار حصوں پر مشتمل سلسلے کا حصہ ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:

قسط 3:
پاکستان میں داعش خراسان: نیٹ ورکس، سرگرمیاں اور بدلتی صورتحال

قسط 4:
پاکستان میں داعش خراسان: حملے، ٹارگٹ کلنگ اور مستقبل کے خطرات

اگلی قسط میںپاکستان میں داعش خراسان کے نیٹ ورکس، ان کی سرگرمیوں، اور سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

___________________________________________________________

Executive Summary (Exclusive)

This second installment of The Khyber Times Special Investigation examines the presence and evolving role of the Islamic State Khorasan Province (ISKP) in Afghanistan following the Taliban’s return to power in 2021. While the Taliban government claims improved overall security, multiple independent assessments and reported incidents indicate that ISKP continues to operate as a persistent, though constrained, security threat within the country.
The report outlines ISKP’s emergence in Afghanistan around 2015, its initial expansion in eastern and border regions, and the sustained counterterrorism pressure that weakened its territorial presence but did not eliminate its operational capacity. It further analyzes how the group has adapted its tactics over time, shifting between large-scale attacks and smaller, symbolic operations targeting civilians, religious gatherings, and security installations.
Despite significant losses, ISKP’s continued activity highlights ongoing security challenges for the Taliban administration, particularly in addressing covert networks and preventing sporadic attacks. The situation also raises broader concerns about regional stability and the group’s potential to exploit security gaps in Afghanistan.
This report is part of a four-part investigative series by The Khyber Times focusing on ISKP’s evolving threat across Pakistan and Afghanistan.