Karachi security operation, عسکریت پسندوں کا بڑھتا گھیراؤ, Pakistan security checkpoint at night

کراچی تا وزیرستان؛ عسکریت پسندوں کا بڑھتا گھیراؤ اور ناکام “مصالحتی پالیسیوں” کا خونی تسلسل

دی خیبرٹائمز خصوصی تحریر
کراچی میں رینجرز کیمپ پر 27 جون 2026 کو ہونے والا حملہ پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں پیدا ہونے والے نئے سنگین خدشات کی ایک تازہ کڑی ہے۔ ہفتے کی شب تقریباً 8:30 بجے گلستانِ جوہر کے گنجان آباد علاقے میں واقع پاکستان رینجرز (سندھ) کے بھٹائی ونگ کے کیمپ کو ایک انتہائی منظم اور خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے بارود سے بھری ایک تیز رفتار گاڑی مرکزی گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد ہونے والے زوردار دھماکے کی آڑ میں مسلح افراد نے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ کیمپ کے چوکنا جوانوں نے فوری جوابی کارروائی کی اور سندھ پولیس کے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ اور اینٹی ٹیررسٹ فورس کے دستے بھی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے اس خونریز مقابلے میں سیکیورٹی فورسز نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، تاہم وطنِ عزیز کا دفاع کرتے ہوئے رینجرز کے تین جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور چار دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔
گرفتار ہونے والا زخمی حملہ آور عثمان علی ایک افغان شہری نکلا، جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ اپنے دیگر تین ساتھیوں عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق کے ہمراہ حملے سے صرف سات روز قبل باجوڑ کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے منحرف گروپ جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔ واقعے کے بعد پاک فوج کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم کی قربانیاں دہشتگردی کے خلاف ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں اور اس حملے کے ماسٹر مائنڈز اور ان کے سرحد پار بیٹھے سہولت کاروں کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائیگا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ان نیٹ ورکس کو ملک سے مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
عسکریت پسندی کا تاریخی تسلسل
کراچی رینجرز کیمپ پر یہ حملہ دراصل عسکریت پسندوں کی اس تزویراتی جنگ کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ پاکستان کی انتہائی محفوظ سمجھی جانے والی عسکری تنصیبات کو مسلسل نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اس تسلسل کا جائزہ لیا جائے تو اکتوبر 2009 میں پاک فوج کے جی ایچ کیو پر حملہ ایک بڑی مثال ہے، جہاں 10 دہشتگردوں نے مرکزی گیٹ پر حملہ کر کے 22 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس حملے میں ایک بریگیڈیئر اور لیفٹیننٹ کرنل سمیت 7 فوجی اور 5 ایس ایس جی کمانڈو شہید ہوئے تھے، جبکہ سرغنہ محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا جسے بعد ازاں 2014 میں آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد سزائے موت دی گئی۔ اسی طرح مئی 2011 میں کراچی کے پی این ایس مہران بیس پر 15 خودکش حملہ آوروں نے حملہ کر کے دو قیمتی بحری طیارے تباہ کر دئے تھے جس میں 18 جوان شہید ہوئے، جبکہ اگست 2012 میں کامرہ ایئر بیس پر حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 2 اہلکار شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ مئی 2011میں شبقدر میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے ٹریننگ سینٹر پر دہرا خودکش حملہ کیا گیا جس میں 98 افراد شہید ہوئے، اور دسمبر 2022 میں بنوں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں دہشتگردوں نے عمارت پر قبضہ کر کے سیکیورٹی حکام کو یرغمال بنایا جس میں 3 جوان شہید ہوئے تھے۔ ان تمام واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی حکمتِ عملی ہمیشہ سے ریاست کی حساس تنصیبات کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی رہی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے موجودہ پھیلاؤ اور عسکریت پسندوں کے احیا کی جڑیں ماضی کی کچھ ایسی پالیسیوں میں پیوست ہیں جن کے تحت سابقہ دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مصالحتی کوششیں کی گئی تھیں۔ اگست 2021 میں کابل پر افغان طالبان کے کنٹرول کے بعد یہ تزویراتی نظریہ اپنایا گیا کہ جنگجوؤں کو ہتھیار پھینکنے کی شرط پر معافی دی جائے، جس کے نتیجے میں کابل اور خوست میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا اور 30 سے 40 ہزار جنگجوؤں کو دوبارہ آباد کرنے کی تجویز دی گئی۔ اگرچہ اس پالیسی پر سیاسی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم جذبہ خیر سگالی کے طور پر ایک سو سے زائد خطرناک قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، اس مصالحتی عمل نے ٹی ٹی پی کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کا موقع فراہم کیا، اور نومبر 2022 میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملک بھر میں منظم حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز ہو گیا۔ یہ دور ایک بہت بڑی تزویراتی غلطی ثابت ہوا جس نے دہشتگردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔
مذاکرات کی ناکامی اور اس کے تزویراتی نتائج
مذاکرات کی ناکامی اور عسکریت پسندوں کی واپسی نے خیبر پختونخوا کو سیکیورٹی کے سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں اب دہشتگردی کا دائرہ کار صرف قبائلی اضلاع تک محدود نہیں رہا بلکہ بندوبستی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ مرکزِ تحقیق و سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق 2024 اور 2025 میں ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں 22 فیصد اضافہ ہوا جس میں سب سے زیادہ جانی نقصان خیبر پختونخوا میں ہوا۔ ڈیرہ اسماعیل خان، جہاں 2024 میں 23 جوان شہید ہوئے، اب بھرتی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ لکی مروت میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پولیس اہلکاروں نے تاریخی دھرنا دیا، جبکہ پشاور میں جنوری 2023 کا پولیس لائنز مسجد دھماکہ بھی اسی ابتر صورتحال کا حصہ ہے جس میں 84 نمازی شہید ہوئے۔ شمالی و جنوبی وزیرستان بنوں، ٹانک ڈی آٗی خان، لکی مروت اور ٹانک کے مضافاتی علاقوں میں رات کے وقت جنگجوؤں کے گشت کی اطلاعات ہیں، جسے مقامی لوگ فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان “دن اور رات” کے کنٹرول سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو درپیش خطرات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔
سیاسی یکجہتی: وقت کی اہم ضرورت
کراچی کے حالیہ حملے اور ملک بھر کی مجموعی صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ ریاستِ پاکستان کیلئے بعض تزویراتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، عثمان علی جیسے افغان شہریوں کی دراندازی ثابت کرتی ہے کہ کابل پر سفارتی دباؤ بڑھانا ضروری ہے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل سدِباب کیا جا سکے۔ دوم، ماضی میں کی گئی آباد کاری جیسی پالیسیوں کے تباہ کن اثرات کے پیشِ نظر اب ریاست کو یہ اصول اپنانا ہوگا کہ ہتھیار نہ ڈالنے والے گروہوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ سوئم، خیبر پختونخوا کی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی استعدادِ کار کو جدید مواصلاتی آلات اور وسائل سے آراستہ کر کے بڑھایا جائے، تاکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
آخر میں، قومی سلامتی کے بیانئے پر تمام سیاسی و سماجی فریقین کا یکسو ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عزمِ استحکام جیسے ویژن کے تحت کی جانے والی عسکری کوششیں اپنی حتمی کامیابی کو پہنچ سکیں۔ تاہم، تشویشناک امر یہ ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ادارے ایک پیج پر دکھائی نہیں دیتے۔ اگر ہم ماضی میں سوات آپریشن کو دیکھیں تو سیکیورٹی ادارے، صوبائی اور وفاقی حکومت سب ایک پیج پر تھے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اداروں کیلئے راستہ آسان ہوا اور پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکا۔ تب صورتحال یہ تھی کہ پوری وادی سوات پر شدت پسندوں کا راج قائم ہو چکا تھا اور مقامی سیاسی جماعتوں اور عمائدین کیلئے یہ جنت نظیر وادی ایک جہنم میں تبدیل ہو کر رہ گئی تھی، لیکن سیاسی و عسکری یکجہتی نے اس عفریت کو شکست دے دی۔ آج بھی اسی طرزِ عمل کی ضرورت ہے تاکہ دہشتگردی کے اس نئے چیلنج سے نمٹا جا سکے