تحریر: ناصر داوڑ
خیبر پختونخوا کی مٹی اپنے سینے میں جہاں بہادری اور مزاحمت کی داستانیں چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہاں کچھ ایسی انوکھی تاریخی نشانیاں بھی موجود ہیں جو برطانوی راج کے عجیب و غریب فیصلوں اور طاقت کے نشے کی عکاسی کرتی ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر کی وادی ہو یا چارسدہ کے زرخیز میدان، یہاں اجنبی حکمرانوں نے صرف انسانوں کو ہی پابندِ سلاسل نہیں کیا بلکہ درختوں اور دروازوں کو بھی “باغی” قرار دے کر زنجیروں میں جکڑ دیا۔
لنڈی کوتل: وہ درخت جو سوا صدی سے قید ہے
لنڈی کوتل کی تاریخی فوجی چھاؤنی (کینٹ) میں داخل ہوں تو ایک بوڑھا اخروٹ کا درخت ہر آنے والے کا استقبال کرتا ہے۔ اس درخت کی شاخیں اب پھل نہیں دیتیں، مگر اس کے تنے کے گرد لپٹی بھاری بھرکم زنجیریں اور اس پر نصب تختی جس پر انگریزی میں I am under arrest (میں زیرِ حراست ہوں) لکھا ہے، ایک مضحکہ خیز مگر تلخ داستان سناتی ہے۔
یہ واقعہ 1898 کا ہے جب ایک برطانوی فوجی افسر نشے کی حالت میں یہاں سے گزر رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے یہ درخت اپنی جگہ سے ہل کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس “بغاوت” پر افسر نے اسے مجرم قرار دے کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس درخت کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ آج 125 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ زنجیریں اسی طرح موجود ہیں، جو برطانوی راج کے اس تکبر کی یاد دلاتی ہیں جہاں ایک افسر کا وہم بھی قانون بن جاتا تھا۔
چارسدہ شبقدر قلعے کے “باغی” دروازے
لنڈی کوتل سے کچھ فاصلے پر چارسدہ میں موجود ایف سی قلعہ (شنکر گڑھ) ایک اور انوکھی سزا کا گواہ ہے۔ اس قلعے کے بھاری بھرکم لکڑی کے دروازے آج بھی موٹی زنجیروں اور تالوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔
مقامی روایات کے مطابق، برطانوی دور میں ان دروازوں کو بھی “قیدی” بنا دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مہم یا حملے کے دوران یہ دروازے بروقت بند نہ ہو سکے تھے، جس پر برطانوی حکام نے انہیں “غفلت اور نافرمانی” کا مرتکب قرار دے کر تاحکمِ ثانی زنجیروں سے جکڑنے کا حکم دے دیا۔ آج یہ مقفل دروازے اس دور کے اس آمرانہ نظام کی گواہی دے رہے ہیں جہاں جزا و سزا کا تصور منطق اور عقل سے بالاتر تھا۔
استعمار کی نفسیات اور ایف سی آر کا سایہ
تاریخ دان ان واقعات کو محض اتفاق یا کسی افسر کی انفرادی حرکت کے طور پر نہیں دیکھتے۔ دراصل، یہ نوآبادیاتی طاقت کا ایک گہرا نفسیاتی حربہ تھا۔ سرحد کے ان علاقوں میں جہاں قبائلی حریت پسندی انگریزوں کے لیے مستقل دردِ سر تھی، وہاں اس قسم کے اقدامات کا مقصد ایک خاموش اور خوفناک پیغام دینا تھا۔
یہ وہ دور تھا جب اس خطے پر ایف سی آر (Frontier Crimes Regulation) جیسا سیاہ قانون مسلط کیا گیا تھا۔ جس طرح لنڈی کوتل کے درخت کو زنجیروں میں جکڑا گیا اور چارسدہ کے دروازوں کو تالے لگائے گئے، اسی طرح ایف سی آر کے ذریعے پورے قبائل کو اجتماعی ذمہ داری کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی زبانوں پر تالے لگا دیے گئے تھے۔ نوآبادیاتی حکمران یہ جتانا چاہتے تھے کہ: جب برطانوی راج کے قانون سے بے زبان درخت اور بے جان دروازے نہیں بچ سکتے، تو بغاوت کرنے والے انسانوں کا انجام کیا ہوگا؟”
یہ زنجیریں دراصل اس نوآبادیاتی ذہنیت کی علامت تھیں جو قانون کے نام پر جبر کو جائز سمجھتی تھی۔
آج یہ درخت اور دروازے صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ عبرت کے نشان ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح ہوں یا مقامی شہری، سب کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ کیا اب ان بے زبانوں کو “آزادی” نہیں ملنی چاہیے؟
وقت بدل گیا، سلطنتیں ختم ہو گئیں اور برطانوی راج قصہ پارینہ بن گیا، مگر یہ زنجیریں آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جب اختیار اور طاقت کے ساتھ عقل کا دامن چھوٹ جائے، تو فیصلے تاریخ کے صفحات پر تمسخر بن کر رہ جاتے ہیں۔ لنڈی کوتل کا گرفتار درخت اور چارسدہ کے مقفل دروازے آج بھی اپنی آزادی کے منتظر ہیں، یا شاید وہ اسی حال میں رہ کر ہمیں ماضی کی تلخ حقیقتیں سنانا چاہتے ہیں۔
—




