جب تک میڈیا ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم نہیں ہوتے جدوجہد جاری رہے گی، خیبر یونین آف جرنلسٹس پشاور (دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ڈیسک) خیبر یونین آف جرنلسٹس نے صوبہ بھر کے تمام صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس، فوٹو جرنلسٹس، میڈیا ورکرز، پریس کلبز کے عہدیداروں اور تمام صحافتی تنظیموں کا بھرپور احتجاجی تحریک میں شرکت، خیبر یونین اف جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ارشاد علی نے ایک بیان میں کہا ہے، کہ یکجہتی کے اظہار اور اس جدوجہد کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں جس طرح صحافی برادری نے متحد ہو کر شرکت کی، وہ قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا ہے، یہ بات اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ میڈیا ورکرز اپنے حقوق، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور معاشی استحصال کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس تمام شرکاء، عہدیداران اور صحافتی تنظیموں کی قربانیوں، محنت اور مسلسل جدوجہد کو سراہتی ہے، کیونکہ یہ اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے، اور اسی اتحاد کی بدولت میڈیا ورکرز کے حقوق کی یہ تحریک مزید مضبوط اور مؤثر ہو رہی ہے۔ یونین نے اس امید کا اظہار کیا کہ صحافی برادری کا یہ اتحاد آئندہ بھی اسی طرح برقرار رہے گا اور جب تک میڈیا ورکرز کے تمام جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

جب تک میڈیا ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم نہیں ہوتے جدوجہد جاری رہے گی، خیبر یونین آف جرنلسٹس

پشاور (دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ڈیسک) خیبر یونین آف جرنلسٹس نے صوبہ بھر کے تمام صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس، فوٹو جرنلسٹس، میڈیا ورکرز، پریس کلبز کے عہدیداروں اور تمام صحافتی تنظیموں کا بھرپور احتجاجی تحریک میں شرکت، خیبر یونین اف جرنلسٹ ایسوسی مزید پڑھیں

بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی پشاور ( پریس ریلیز کے ایچ یو جے) خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سمیت پشاور کے سینئر صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے شرکت کی جبکہ موجودہ صورتحال کے خلاف متفقہ طور پر صوبہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں متفقہ طور پر اعلان کیا گیا کہ جمعہ کے روز سے خیبر پختونخوا بھر میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا جس کے تحت احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دیگر احتجاجی اقدامات شامل ہوں گے ،اجلاس کے شرکاء نے حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے بے روزگار کیے گئے صحافیوں کی بحالی، بقایا جات کی ادائیگی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے، شرکا نے مطالبہ کیا کہ ایسے میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات نہ دیے جائیں جو کارکن صحافیوں کو تنخواہوں سے محروم رکھتے ہیں یا انہیں جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں۔اجلاس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ شرکا نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات فوری طور پر واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا،اجلاس میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای جج کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مسائل، میں آسانی ہو ۔ شرکا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آئی ٹی این ای جج کی عدم تعیناتی کے باعث صحافی برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد مقدمات تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔اجلاس میں سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے سابق نائب صدر عرفان خان سمیت دیگر صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت نوٹسز جاری کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے کالے قوانین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید ،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرزکے صدر شمیم شاہد اور دیگر نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں اور صحافی برادری اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر بھرپور جدوجہد کرے گی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ہو چکا، میڈیا مالکان کے ظلم، استحصال، جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شرکا نے واضح کیا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، باعزت روزگار اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہر سطح پر بھرپور اور متحد آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صحافیوں کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔

بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی

پشاور ( پریس ریلیز کے ایچ یو جے) خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، مزید پڑھیں

"انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی" ایک باغی روح کی رخصتی وہ محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے پریس کلب کی سیاست میں اپنی جرات اور اصول پسندی سے بغاوت کی وہ مثالیں قائم کیں جو برسوں تک مشعلِ راہ رہیں گی۔ آج جب وہ ہم سے جدا ہو کر منوں مٹی تلے جا سوئی ہے، تو اس کی کمی ایک ایسے رستے ہوئے زخم کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابات 2026: ایک عجیب کشمکش رواں سال 2026 کے پریس کلب انتخابات کا غلغلہ تھا۔ انیلا شاہین کے صدارت کے لئے کاغذاتِ نامزدگی کسی ہمدرد نے جمع کرا دئے تھے۔ دوسری طرف ایم ریاض بھائی جیسے مضبوط اور قد آور امیدوار میدان میں تھے، جن کی مقبولیت کا سورج سوا نیزے پر تھا۔ کلب کے اندر ایک مضبوط لہر اٹھی کہ ایم ریاض صاحب کو بلا مقابلہ صدر منتخب کروا لیا جائے تاکہ "اتحاد اور یکجہتی" کا روایتی تاثر ابھرے۔ ہمارے بزرگ اور قابلِ قدر صحافی شمیم شاہد صاحب نے مجھے ایک بھاری ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کسی طرح انیلا شاہین کو دستبرداری پر راضی کیا جائے، کیونکہ ایم ریاض صاحب کی جیت تو یقینی تھی، مگر بلا مقابلہ انتخاب پریس کلب کے مستقبل کے لئے "مفید" مصلحت لگ رہی تھی۔ میں شمیم شاہد صاحب کا پیغام اور ان کی سونپی ہوئی ذمہ داری کا بوجھ لے کر ایک صبح سویرے انیلا کے گھر پہنچا۔ میرا مقصد اسے منت سماجت کر کے انتخابی عمل سے الگ کرنا تھا۔ میں نے بڑے دھیمے اور مصلحت آمیز لہجے میں دستبرداری کے فائدے گنوانے شروع کئے۔ میں اسے کہانیاں سناتا رہا کہ کیسے بلا مقابلہ انتخاب سے کلب مضبوط ہوگا، وہ خاموشی سے، ایک متانت بھری مسکراہٹ کے ساتھ میری تمام باتیں سنتی رہی۔ جب میں بول چکا، تو اس نے جس خوبصورت اور پروقار لہجے میں جواب دیا، اس نے میرے تمام مصلحت پسندانہ دلائل مٹی میں ملا دئے۔ اس نے بڑی درمندی سے کہا: "تم جانتے ہو؟ پریس کلب میں صرف دو تین درجن صحافی ہی سارا سال مراعات اور انفراسٹرکچر سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ سینکڑوں ممبران وہ گمنام سپاہی ہیں جو سال میں صرف ایک بار، 'انتخابات' کے دن کلب کی دہلیز پار کرتے ہیں۔ وہ اس لئے آتے ہیں تاکہ اپنے برسوں پرانے ساتھیوں سے ملیں، قہقہے لگائیں، دکھ سکھ بانٹیں اور اس ایک دن کو جئیں جو ان کے لئے عید جیسا رنگین ہوتا ہے۔" اس کی دلیل میں ایک عجیب تڑپ تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر بلا مقابلہ انتخاب کا رواج جڑ پکڑ گیا، تو ان سینکڑوں ممبران کی رہی سہی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی۔ اس نے کہا: "جس دن ووٹ پڑتا ہے، اس دن بڑے بڑے امیدوار ان عام ممبران کے پاس جاتے ہیں، انہیں عزت دیتے ہیں، ان کے ہاتھوں کو چومتے ہیں اور ان سے ووٹ مانگ کر انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ اگر یہ عمل ختم ہو گیا، تو چند سالوں میں پریس کلب کی کابینہ کا ممبر دوسرے صحافی کو پہچاننے سے بھی انکار کر دے گا۔ میں نہیں چاہتی کہ ان لوگوں کی توہین ہو جو سارا سال کلب نہیں آتے مگر کلب کا اصل اثاثہ وہی ہیں۔" میں نے پھر بھی اصرار کیا، بحث نہ کرنے کی ضد کی اور کہا کہ بس اس صدارتی عہدے سے دستبرداری کے کاغذ پر ابھی اسی وقت دستخط کر دیں تاکہ میں شمیم شاہد صاحب اور ایم ریاض بھائی کو مطمئن کر سکوں۔ انیلا نے بڑے وقار سے جواب دیا: "مجھے معلوم ہے میں ایم ریاض بھائی کو شکست نہیں دے سکتی، لیکن میں 'انتخابی عمل' کو شکست نہیں ہونے دوں گی۔ میں میدان میں رہوں گی تاکہ مقابلہ زندہ رہے۔" پھر اس نے وہ بات کہی جو صرف ایک وسیع الظرف انسان ہی کہہ سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ پولنگ کے دن اپنا بیلٹ پیپر صاف ستھرا نکال کر مجھے دے دے گی، تاکہ میں وہ شمیم شاہد صاحب کے ذریعے ایم ریاض بھائی کو دے دوں۔ اس نے کہا: "مجھے میرا اپنا ووٹ بھی نہیں چاہئے۔ وہ خود اس پر مہر لگا لیں۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ تمام امیدوار گیٹ پر کھڑے ہو کر ووٹ دینے آنے والے بھائیوں کا استقبال کریں، ان سے گلے ملیں، ان کا احترام کریں اور اپنا ایجنڈا شیئر کریں۔ پریس کلب کے ان گمنام سپاہیوں کو کم از کم سال میں ایک دن تو 'وی آئی پی' ہونے کا احساس دلایا جائے!" انیلا کا مقصد عہدہ پانا نہیں تھا، بلکہ ان ممبران کے وقار کی بحالی تھا جو سارا سال نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ جہاں کچھ لوگوں نے سیکرٹری کے عہدے کے لئے مصلحتوں کے سمجھوتے کئے، کسی نے گورننگ باڈی کےعہدے اپنے نام کرنے کی خاطر اصولوں کا قتل کیا، وہاں انیلا تن تنہا ایم ریاض جیسے دیو ہیکل امیدوار کے سامنے ڈٹ گئی، صرف اس لئے تاکہ جمہوریت کا حسن اور عام صحافی کا احترام برقرار رہے۔ آج پریس کلب کا ہر وہ ممبر جس کی عزتِ نفس کی خاطر انیلا نے یہ ہارا ہوا معرکہ لڑا، اس کا مقروض ہے۔ اس نے اتحاد کے نام پر ہونے والی "سرد مصلحتوں" کو مسترد کر کے یہ پیغام دیا کہ عہدہ عارضی ہے، مگر ممبر کا احترام دائمی ہونا چاہئے۔ آج وہ ہم میں نہیں ہے، مگر اس کی سوچ پریس کلب کی فضاؤں میں ایک مقدس خوشبو کی طرح موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اس غیرت مند، بہادر اور ممبران کے وقار کی محافظ بیٹی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اس نے ایک ایسا مقابلہ کیا جس کے جیتنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا، مگر اس نے ہار کر بھی ان سینکڑوں صحافیوں کے دل جیت لئے جن کا وقار اس کی آخری سانس تک پہلی ترجیح رہا۔ اے پشاور پریس کلب کی غیرت مند شہزادی! تمہاری اس 'شکست' میں بھی ہزاروں فتوحات پوشیدہ ہیں۔ ناصر داوڑ

“انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی”ایک باغی روح کی رخصتی

“شکست کا اعتراف، مقابلے کا جنون: انیلا شاہین” محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے مزید پڑھیں