27 April, 2026
اہم خبریں
  • صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی
  • پیٹرول سستا ہونا تھا مگر حکومت نے مہنگا کر دیا، 26 روپے 77 پیسے اضافے کے پیچھے ٹیکسوں کا چونکا دینے والا کھیل بے نقاب
  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں
  • واشنگٹن میڈیا ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ محفوظ
  • واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک بار پھر خطرناک ثابت ہونے لگے ہیں جہاں صومالیہ کے قریب سرگرم بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کرکے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق “اونر 25” نامی اس آئل ٹینکر پر 21 اپریل کو مسلح قزاقوں نے دھاوا بولا اور جہاز کو یرغمال بنا لیا، جبکہ اس پر سوار 11 پاکستانی ملاحوں سمیت مجموعی عملہ تاحال قزاقوں کے قبضے میں ہے۔ شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے کئی روز گزر جانے کے باوجود جہاز سے رابطہ بحال نہیں ہوسکا، جس کے باعث پاکستان میں موجود عملے کے اہل خانہ شدید اضطراب اور خوف میں مبتلا ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزارت بحری امور کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پورٹس اینڈ شپنگ کی جانب سے بھی پاکستانی کریو سے براہِ راست رابطہ قائم نہیں ہوسکا، جبکہ جہاز بھیجنے والی متعلقہ شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاز پر موجود عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ دیگر ممالک کے ملاح بھی شامل ہیں۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف غیر رسمی ذرائع سے اتنی اطلاع ملی ہے کہ جہاز پر موجود انڈونیشین کپتان کی رہائی کے لئے انڈونیشیا کی حکومت نے قزاقوں سے رابطے شروع کر دئے ہیں، تاہم پاکستانی عملے کے بارے میں اب تک کوئی واضح حکومتی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ کے مطابق کئی دن گزر چکے ہیں مگر نہ شپنگ کمپنی کوئی جواب دے رہی ہے، نہ سرکاری ادارے تسلی بخش معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ایک اہل خانہ نے کہا ، کہ ان کے گھروں میں قیامت برپا ہے،انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارے بچے زندہ ہیں یا زخمی، ان کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے، حکومت فوراً عملی اقدامات کرے۔" متاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم، وزارت خارجہ، وزارت بحری امور اور پاکستانی سفارتی مشنز سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر رابطے کرکے پاکستانی عملے کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنائیں۔ ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب خلیج عدن اور بحیرۂ عرب کے بعض حصے طویل عرصے سے بحری قزاقوں کی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے خطرناک ترین سمندری روٹس میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی بحری گشت کے باعث قزاقی کے واقعات میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں دوبارہ ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بحری قزاق عموماً تجارتی جہازوں یا آئل ٹینکرز کو گھیر کر ان کے عملے کو یرغمال بناتے ہیں اور بعد ازاں بھاری تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بعض کیسز میں مذاکرات ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں تک جاری رہتے ہیں، جس کے دوران ملاح انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ سمندری شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ملاح بڑی تعداد میں غیر ملکی جہازوں پر خدمات انجام دیتے ہیں لیکن بیرونِ سمندر ہنگامی حالات میں ان کی سکیورٹی، انشورنس، قانونی تحفظ اور فوری سفارتی معاونت کے حوالے سے پاکستان کا نظام اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اونر 25 کے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا پاکستانی حکام نے جہاز کے روٹ، سکیورٹی پروٹوکول اور ہائی رسک زون میں داخلے سے متعلق پہلے سے کوئی نگرانی کی تھی یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ جہاز پر مسلح سکیورٹی موجود تھی یا نہیں اور حملے کے وقت ایمرجنسی سگنل کیوں مؤثر ثابت نہ ہوسکا۔ تاحال وزارت بحری امور، وزارت خارجہ یا متعلقہ پاکستانی سفارتی حکام کی جانب سے کوئی جامع باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس پر خاندانوں اور بحری ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بین الاقوامی رابطے نہ کئے گئے تو عملے کی رہائی کا عمل مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال پورے ملک کی نظریں حکومت کے اگلے قدم پر جمی ہوئی ہیں جبکہ 11 پاکستانی خاندان اپنے پیاروں کی ایک خیریت کی خبر کے منتظر ہیں۔
صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی
عوام کو ریلیف کیوں نہ ملا؟ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کی حقیقت بے نقاب اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد اس فیصلے کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکسوں اور مارجنز میں اضافہ کرکے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی حساب کتاب میں دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ریفائنری لاگت میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 3 روپے 44 پیسے فی لیٹر کم ہوئی جبکہ اسی مدت میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3 روپے 14 پیسے فی لیٹر کمی آئی۔ اصولی طور پر اس کمی کے بعد صارفین کو قیمتوں میں استحکام یا معمولی کمی کا فائدہ ملنا چاہئے تھا، مگر حکومت نے اس کے برعکس دونوں مصنوعات کی قیمتیں یکساں طور پر 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر بڑھا دیں۔ مالیاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافہ اور ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (IFEM) میں ردوبدل ہے۔ حکومت نے پیٹرول پر عائد لیوی مزید بڑھا دی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اندرون ملک ترسیل اور تقسیم کے نام پر لیا جانے والا فریٹ مارجن بھی اوپر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں کا پورا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت پیٹرول پر لیوی ٹیکس نہ بڑھاتی اور ڈیزل پر آئی ایف ای مارجن میں اضافہ نہ کرتی تو موجودہ حساب کتاب کے مطابق قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ہرگز نہ ہوتا، بلکہ امکان تھا کہ دونوں مصنوعات کی قیمتیں تقریباً جوں کی توں رہتیں یا معمولی کمی بھی ہو سکتی تھی۔ تاہم حکومتی ریونیو بڑھانے کے لئے قیمتوں کے تعین میں ٹیکس عنصر کو غالب رکھا گیا۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں پہلے ہی اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے سے نہ صرف نجی ٹرانسپورٹ بلکہ مال برداری، زرعی مشینری، صنعتی پیداوار اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی کی نئی لہر متوقع ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے اور مال بردار گاڑیوں پر پڑے گا کیونکہ کھیتوں میں استعمال ہونے والے ٹیوب ویل، ٹریکٹر اور دیگر مشینری بڑی حد تک ڈیزل پر چلتی ہیں۔ اسی طرح بین الصوبائی سامان کی ترسیل مہنگی ہونے سے سبزی، آٹا، دالیں اور روزمرہ استعمال کی اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے موٹر سائیکل، رکشہ اور کار استعمال کرنے والے متوسط طبقے کی ماہانہ آمدورفت لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ جائے گی۔ سیاسی و عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے کے بجائے ٹیکس وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی صارف کو ریلیف نہیں ملتا تو پھر قیمتوں کے تعین کا موجودہ نظام صرف حکومتی محصولات بڑھانے کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع غیر رسمی طور پر یہ مؤقف دے رہے ہیں کہ مالیاتی خسارے، آئی ایم ایف اہداف اور ریونیو ضروریات کے باعث پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ناگزیر تھا، تاہم اس فیصلے سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آئندہ ہفتوں میں بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو ریونیو جمع کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تو مہنگائی کا مجموعی اشاریہ دوبارہ اوپر جا سکتا ہے۔ یوں واضح ہو گیا ہے کہ اس بار پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومتی ٹیکس پالیسیوں اور اندرونی مارجن بڑھانے کے باعث کیا گیا، جس کا براہ راست خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
پیٹرول سستا ہونا تھا مگر حکومت نے مہنگا کر دیا، 26 روپے 77 پیسے اضافے کے پیچھے ٹیکسوں کا چونکا دینے والا کھیل بے نقاب
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں خصیوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ نہیں بلکہ معاشی طور پر ایک دوسرے پر گہرے انحصار رکھتے ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش، ٹرانزٹ میں رکاوٹیں اور سیاسی کشیدگی نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو متاثر کیا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک جانے والے تجارتی نیٹ ورک کو بھی جھٹکا دیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس بندش کے اثرات افغانستان پر نسبتاً زیادہ شدید پڑے ہیں، جہاں برآمدی خسارہ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجارتی حجم میں نمایاں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ 2024 میں جہاں مجموعی دوطرفہ تجارت 2.461 ارب ڈالر کے قریب تھی، وہیں 2025 میں یہ کم ہو کر 1.766 ارب ڈالر تک آ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ سرحدی بندشیں، لاجسٹک مسائل اور سیاسی عدم اعتماد کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی افغانستان کو برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جو 1.644 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.261 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات 817 ملین ڈالر سے کم ہو کر 505 ملین ڈالر تک محدود ہو گئیں۔ یہ کمی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس معاشی جال کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے جو برسوں میں آہستہ آہستہ قائم ہوا تھا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔ افغانستان کی درآمدی ضروریات جو پہلے پاکستان کے راستے سے بڑی حد تک پوری ہوتی تھیں، ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اندازوں کے مطابق اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ تجارت محدود ہو کر تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب رہ گئی ہے۔ اس دوران سینکڑوں کنٹینرز مختلف سرحدی راستوں پر پھنس گئے، جس کے باعث نہ صرف تجارتی سامان خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانے بھی تاجروں پر بوجھ بنے رہے۔ اس صورتحال نے لاجسٹک کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجروں کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس بندش کا اثر صرف بڑے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا بلکہ زمینی سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ واضح ہیں۔ چمن، طورخم اور دیگر سرحدی علاقوں میں ہزاروں افراد کی روزی براہ راست اس تجارت سے وابستہ ہے۔ جب سرحدیں بند ہوئیں تو ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور زرعی اجناس کے تاجر سب متاثر ہوئے۔ زرعی پیداوار کی برآمد رکنے سے کسانوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ ان کی پیداوار منڈی تک نہ پہنچ سکی اور انہیں کم قیمت پر مقامی سطح پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ریونیو کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کو واضح نقصان ہوا ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی، ٹرانزٹ فیس اور دیگر تجارتی محصولات میں کمی نے سرکاری آمدنی پر اثر ڈالا ہے۔ پاکستان کی بندرگاہوں پر اضافی دباؤ اور غیر کلیئر شدہ سامان کی موجودگی نے لاجسٹک اخراجات بڑھا دئے ہیں، جبکہ افغانستان میں بھی اسی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہو جاتی تو دونوں معیشتوں پر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے تھے۔ ان معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ انسانی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے خاندان جو روزگار کے لئے ان راستوں پر انحصار کرتے تھے، اچانک آمدنی سے محروم ہو گئے۔ افغانستان سے پاکستان آنے والے مزدوروں اور تاجروں کو ویزہ اور سرحدی پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں معاشی دباؤ بڑھنے کے ساتھ سماجی مسائل بھی سامنے آئے، جن میں غربت میں اضافہ اور بے روزگاری نمایاں ہیں۔ اسی پس منظر میں چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے مذاکرات کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے اور تجارتی راستوں کی بحالی کے امکانات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چین کی ثالثی نے اس عمل کو ایک نیا رخ دیا ہے، جہاں سیکیورٹی اور تجارت کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محدود پیمانے پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کی ری-ایکسپورٹ کی اجازت جیسے اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مکمل تعطل کے بجائے مرحلہ وار بحالی کی طرف بڑھا جا رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم تین امکانات سامنے آتے ہیں۔ اگر سیاسی اعتماد بحال ہو اور سیکیورٹی خدشات کم ہوں تو تجارت تیزی سے بحال ہو سکتی ہے۔ دوسرا امکان جزوی بحالی کا ہے، جس میں محدود گزرگاہیں اور کنٹرولڈ تجارت شامل ہو سکتی ہے۔ تیسرا اور کم مثبت امکان یہ ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو سرحدی بندشیں طویل ہو سکتی ہیں، جس کا اثر صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کی تجارت متاثر ہو گی۔ اس پوری صورتحال کا بنیادی سبق یہی ہے کہ تجارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا خطے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل طور پر اپنی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔ اسی لئے ماہرین مشترکہ کسٹمز نظام، ڈیجیٹل ٹریکنگ، فاسٹ ٹریک گزرگاہوں اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ ایک زیادہ مستحکم تجارتی فریم ورک کی تجویز دیتے ہیں۔ اگر اعتماد کی فضا بحال ہو جائے تو یہ تعلق صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ خلا نہ صرف دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے حملے کی کوشش کی اور بظاہر ہدف وہی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے کا ایران جنگ یا کسی بیرونی تنازع سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہفتے کی رات واشنگٹن میں منعقدہ اس اہم سالانہ میڈیا ڈنر کے دوران اچانک فائرنگ یا فائرنگ جیسی آوازوں نے تقریب میں موجود شرکاء میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام فوری طور پر سیکریٹ سروس کی حفاظت میں محفوظ مقام پر منتقل کر دئے گئے، جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے اور اس نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے غیر معمولی جرات اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا، جس سے ممکنہ طور پر ایک بڑے سانحے کو روکا گیا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ جس وقت واقعہ پیش آیا وہ اسٹیج کے قریب موجود تھے اور اچانک زوردار آوازیں سنیں، جو ابتدائی طور پر ٹرے گرنے یا کسی شے کے ٹوٹنے جیسی محسوس ہوئیں۔ ان کے مطابق وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے فوراً خبردار کیا کہ یہ خطرناک آوازیں ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر حرکت میں آ گئے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے فائرنگ کی کوشش کی، تاہم ایک سیکریٹ سروس اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران گولی لگنے سے محفوظ رہا کیونکہ اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے زخمی اہلکار سے بات بھی کی ہے اور اس کی حالت تسلی بخش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق اس حملے کا ایران یا کسی بین الاقوامی جنگی صورتحال سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے بتایا جا رہا ہے اور اس کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ اکیلا ملوث تھا یا کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے میں سیکریٹ سروس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں افراد کی جانیں محفوظ بنائیں۔ ان کے مطابق یہ ادارے مسلسل خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں سیاسی اختلافات کے باوجود اس طرح کے واقعات قابل مذمت ہیں اور قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی عوامی تقاریب کو منسوخ نہیں کریں گے اور معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ 30 دن میں اس سے بھی بڑی اور محفوظ تقریب منعقد کی جائے گی۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حملہ آور کس طرح سخت سیکیورٹی حصار کو عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔ ابتدائی طور پر اسے ایک انفرادی حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ نیٹ ورک یا سازش کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب واشنگٹن میں سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی ماحول پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جس نے امریکی داخلی سیکیورٹی کے نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واشنگٹن میڈیا ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ محفوظ
واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار 
واشنگٹن ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں تقریب میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تقریب واشنگٹن کے معروف ہلٹن ہوٹل میں جاری تھی جہاں وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافیوں، میڈیا نمائندوں، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عشائیے کا باقاعدہ آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک ہال میں ایک زور دار آواز گونجی جسے ابتدائی طور پر کچھ شرکا نے دھماکہ یا شیشے ٹوٹنے کی آواز سمجھا، لیکن چند لمحوں بعد معلوم ہوا کہ یہ فائرنگ کی آواز تھی۔ رپورٹس کے مطابق واقعے سے چند سیکنڈ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سیکورٹی پرچی دکھائی گئی، اسی نوعیت کی پرچی وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دی گئی تھی۔ پرچی ملتے ہی صدر ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے جبکہ ان کے قریب بیٹھی ایک خاتون کو بھی واضح طور پر حیرت اور پریشانی میں دیکھا گیا۔ اس کے فوراً بعد سیکریٹ سروس کے اہلکار حرکت میں آئے اور پورے بال روم میں ایمرجنسی ردعمل شروع ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ جیسی آواز سنائی دینے پر تقریب میں موجود متعدد مہمان چیخ اٹھے اور کئی افراد اپنی میزوں کے نیچے چھپ گئے۔ کچھ صحافیوں نے موبائل فونز بند کر کے زمین پر لیٹنے کو ترجیح دی جبکہ سیکریٹ سروس کے مسلح اہلکاروں نے چند ہی لمحوں میں صدر ٹرمپ کو حصار میں لے کر ہال سے باہر منتقل کر دیا۔ اسی دوران کئی اہلکاروں نے اسلحہ تان کر داخلی راستوں کو گھیر لیا اور مشتبہ شخص کی تلاش شروع کردی۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور مرکزی دروازے کے قریب نصب میگنیٹو میٹر کی جانب تیزی سے بڑھا اور اسی دوران اس نے بال روم کے قریب موجود ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو گولی مارنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اہلکار جوابی کارروائی کے لئے فوراً متحرک ہوئے اور حملہ آور کو قابو میں کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے، تاہم اس کی حالت سے متعلق فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ واقعے کے بعد پورے ہوٹل کو سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا اور بم ڈسپوزل، فرانزک اور وفاقی تفتیشی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی یا اس کے پیچھے کسی منظم گروہ یا سیاسی محرک کا ہاتھ تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں حملہ آور کے پس منظر، اس کی ہوٹل تک رسائی اور اسلحہ اندر لانے کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ تقریب میں صدر کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں ہونے والا یہ عشائیہ امریکی سیاسی اور صحافتی حلقوں کا ایک اہم سالانہ اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں صدور عموماً صحافیوں سے غیر رسمی انداز میں ملاقات کرتے ہیں۔ ایسے حساس موقع پر فائرنگ نے امریکی سیکیورٹی سسٹم پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں یہ ایک غیر معمولی شام تھی، سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار اور بہادرانہ کام کیا، انہوں نے چند لمحوں میں صورتحال کو قابو میں لیا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہوں نے سفارش کی تھی کہ شو جاری رہنے دیا جائے، تاہم تمام فیصلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ہدایات کے مطابق کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو یہ جان کر اطمینان ہونا چاہئے کہ سیکیورٹی ادارے ہر خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف امریکی صدارتی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے بلکہ یہ آئندہ صدارتی انتخابی ماحول میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کئی متنازع سیکیورٹی خدشات اور سیاسی کشیدگی کے بیچ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ واشنگٹن میں پیش آنے والی اس فائرنگ نے ایک بار پھر امریکی داخلی سلامتی کے نظام کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار
پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ 
پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے محتاط سفارت کاری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دو اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو جذباتی بیانات یا وقتی تنازعات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ قومی مفاد، خطے کے استحکام اور عوامی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ افغان وزارت خارجہ کے ڈپلومیسی انسٹیٹیوٹ کی چھٹی تخصصی تربیتی کورس کی تقریبِ فراغت سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا کہ چین کے شہر ارومچی میں کابل اور اسلام آباد کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کو افغانستان میں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے سیکیورٹی، سرحدی تنازعات، مہاجرین کی واپسی اور دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے دباؤ کا شکار رہے، بیجنگ میں ہونے والا سفارتی رابطہ ایک نئی امید کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مولوی امیر خان متقی نے تقریب سے خطاب میں نئے افغان سفارتکاروں کو خصوصی طور پر ہدایت دی کہ وہ ایسے بڑے اور حساس معاملات میں انتہائی محتاط رہیں جن میں دو برادر اسلامی اور پڑوسی ممالک شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سفارتکار کی اصل آزمائش انہی نازک مواقع پر ہوتی ہے جب اسے یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ کس بیان، کس مؤقف اور کس سفارتی انداز سے ملک کو فائدہ ہو سکتا ہے اور کس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول افغانستان اس وقت خطے میں تنہائی نہیں بلکہ روابط، تعاون اور توازن کی پالیسی چاہتا ہے، اس لیے نئی سفارتی کھیپ کو جذبات سے زیادہ تدبر اور حکمت کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جبکہ کابل حکومت ان الزامات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی۔ اسی دوران سرحدی گزرگاہوں کی بندش، تجارتی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں، افغان مہاجرین کی بے دخلی، اور دونوں جانب سے سخت بیانات نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر کہا کہ افغانستان کو اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا، جبکہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ مسائل کا حل دباؤ نہیں بلکہ براہ راست مذاکرات میں ہے۔ انہی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے باعث چین نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے کم کرنے کے لئے متحرک کردار ادا کیا۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی اتحادی ہے بلکہ افغانستان میں بھی معدنیات، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کے بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بیجنگ یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف سی پیک کے توسیعی امکانات متاثر ہوں گے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی، تجارتی راہداریوں اور انسداد دہشت گردی کے علاقائی اہداف کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اسی پس منظر میں چین نے حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سرگرم سفارت کاری کی۔ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس تعاون، مہاجرین، ٹرانزٹ تجارت، سفارتی رابطوں کی بحالی اور باہمی اعتماد سازی جیسے امور زیر بحث آئے۔ اگرچہ مذاکرات کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے لہجے میں نرمی دیکھی گئی، جسے مبصرین ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ پشاور اور کابل کے تجزیہ کاروں کے مطابق افغان وزیر خارجہ کی جانب سے ان مذاکرات کو مثبت قرار دینا محض رسمی بیان نہیں بلکہ کابل کی پالیسی میں ایک محتاط سفارتی اشارہ ہے۔ یہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ جاری تناؤ کو کم کرنا چاہتی ہے، کیونکہ معاشی بحران، عالمی تنہائی اور اندرونی دباؤ کے باعث افغانستان مزید علاقائی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ متقی کا سفارتکاروں کو دیا گیا یہ پیغام بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ہر حساس مسئلے میں “ملکی فائدہ اور نقصان” کو سمجھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل حکومت اپنی نئی سفارتی ٹیم کو زیادہ عملی، مفاداتی اور کم جذباتی خارجہ پالیسی کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ صرف افغان تجارت کے لئے ضروری ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک معتدل اور ذمہ دار ریاستی روئے کا تاثر دینے کے لیے بھی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین کی میزبانی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی رابطوں کا سلسلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اگر بیجنگ مذاکرات کے بعد اعتماد سازی کے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں تو سرحدی کشیدگی میں کمی، تجارتی راستوں کی بحالی، سفارتی نمائندگی کے دائرہ کار میں اضافہ اور سیکیورٹی تعاون کے نئے فریم ورک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مولوی امیر خان متقی کے حالیہ بیان نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ کابل اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا اور وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تصادم سے نکال کر سفارت کاری کی پٹڑی پر واپس لانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اسلام آباد اور کابل اس نرم ہوتے ہوئے سفارتی ماحول کو عملی پیش رفت میں بدل پاتے ہیں یا نہیں؟
پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

چیچن رہنما نے صحافی کو تحقیقاتی رپورٹ پر دھمکی دیدی

اپریل 14, 2020April 14, 2020

ماسکو ( دی خیبر ٹائمز فارن ڈیسک )چیچن رہنما نے صحافی کو قرنطینہ کی سخت صورتحال کے بارے میں خبر شائع کرنے پر دھمکی دی ہے روسی اخبار میں شائع ہونیوالے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیچن لیڈر مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND