پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی کارروائیاں کیں اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد امارت اسلامی افغانستان نے سرحدی پٹی کے ساتھ زمینی جوابی حملے شروع کر دئے۔ چمن سے سپن بولدک تک، باجوڑ سے کنڑ تک، مہمند سے ننگرہار تک اور خیبر و کرم کے پہاڑی راستوں تک رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ سرحد کے دونوں جانب آباد ہزاروں خاندان ایک بار پھر خوف کے عالم میں جاگتے رہے۔ مقامی لوگوں کے لئے یہ اب کوئی نیا منظر نہیں رہا مگر ہر نئی بمباری کے ساتھ ان کے دلوں میں یہ احساس اور گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ جنگ اب محض سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل تصادم میں بدل رہی ہے جس کا دائرہ کسی بھی وقت وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق تازہ فضائی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا حصہ تھے جن میں افغانستان کے اندر ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے تحریک طالبان پاکستان، اس کے معاون جنگجو اور بعض دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا اور سپن بولدک کے اطراف کم از کم پندرہ سے بیس مقامات پر جنگی طیاروں اور مسلح ڈرونز نے بمباری کی۔ بعض مقامات پر زیر زمین اسلحہ ڈپو، لاجسٹک سرنگیں، عارضی تربیتی مراکز اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے باضابطہ مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن غیر رسمی بریفنگ میں یہ ضرور کہا گیا کہ حملے صرف انہی مقامات پر کئے گئے جہاں پاکستان کے خلاف فوری خطرات موجود تھے۔ افغانستان کی امارت اسلامی نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ناکام داخلی پالیسیوں کا ملبہ افغان سرزمین پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بمباری سے شہری آبادی کے قریب متعدد علاقے متاثر ہوئے اور چند مقامات پر رہائشی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔ افغان حکام نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے حملے صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہیں کیونکہ اسلام آباد کابل پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ تاہم امارت اسلامی نے واضح کر دیا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی اور اسی اعلان کے چند گھنٹوں بعد سرحدی علاقوں میں جوابی زمینی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے بلوچستان کے چمن اور سپن بولدک سیکٹر میں شدید فائرنگ رپورٹ ہوئی۔ سرحدی چوکیوں پر مارٹر گولے داغے گئے اور پاکستانی فورسز نے توپخانے سے جواب دیا۔ قلعہ عبداللہ اور گلستان کے نزدیک رات گئے فوجی نقل و حرکت بڑھ گئی۔ ادھر خیبر پختونخوا میں باجوڑ کے لوئی ماموند، غاخی پاس، چارمنگ اور سالارزئی بیلٹ میں سرحد پار سے مارٹر گولے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی دیہات کے مکین گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔ مہمند کے پنڈیالی اور یکہ غنڈ سیکٹر میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ خیبر کے باڑہ اور تیراہ کے پہاڑی راستوں پر سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا۔ کرم کے خرلاچی اور پاراچنار کے نزدیک مقامی لوگوں نے توپوں کی گھن گرج سنی۔ افغان ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امارت اسلامی کے جنگجوؤں نے چند پاکستانی سرحدی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا اور بعض مقامات پر پاکستانی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عام لوگوں کے لئے یہ تمام دعوے اور جوابی دعوے اب صرف خبروں کی زبان نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ باجوڑ کے سرحدی گاؤں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ رات بھر بچوں کو سلا نہ سکے۔ مویشی کھلے چھوڑنے پڑے۔ خواتین خوف سے قرآن ہاتھ میں لے کر بیٹھیں۔ چمن میں تجارتی منڈی کے دکانداروں نے بتایا کہ سرحد پر دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی سامان اتارنے والے مزدور بھاگ گئے۔ سپن بولدک میں افغان خاندانوں نے اپنے گھروں سے ضروری اشیا نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ کنڑ اور ننگرہار میں بھی کئی دیہات سے نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔ سرحدی آبادی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ جنگ آخر کب رکے گی کیونکہ ہر نئی کارروائی کے بعد اگلے جواب کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں دراصل فروری میں شروع ہونے والے اس عسکری سلسلے کی توسیع ہیں جسے پاکستان نے آپریشن غضب الحق کا نام دیا تھا۔ ابتدا میں اسے ایک محدود دفاعی اقدام قرار دیا گیا تھا مگر چند ہی ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پالیسی کی مکمل تبدیلی کر چکا ہے۔ اب اسلام آباد محض سفارتی احتجاج یا سرحدی بندش تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کے اندر گہرائی تک جا کر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ ٹی ٹی پی اور اس کے سہولت کاروں کے مراکز سمجھتا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے مطابق 2025 میں ملک کے اندر دہشتگردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ، باجوڑ اور شمالی قبائلی اضلاع میں سکیورٹی چوکیوں پر حملے، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان ، کرک اور کوہاٹ بیلٹ میں مسلسل خونریزی نے فوجی قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ محض دفاعی حصار کافی نہیں رہا۔ اسی سوچ کے تحت فروری کے آخری ہفتے سے پاکستان نے افغانستان کے اندر وسیع فضائی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق اب تک مختلف مراحل میں پچاس سے زائد مقامات ٹارگٹ کئے جا چکے ہیں جن میں کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا، قندھار اور کابل کے مضافات تک شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز، سرحدی اسلحہ ڈپو، لاجسٹک نیٹ ورک، سرنگی راستے اور مواصلاتی مراکز شامل بتائے گئے۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں نے سرحد پار حملہ آور نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان اسے کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں اور مسلسل یہ بیانیہ دے رہے ہیں کہ پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا میدان صرف فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی بن چکا ہے۔ پاکستان ہر حملے کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب وہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر مزید برداشت نہیں کرے گا۔ افغان امارت ہر جوابی شیلنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب عسکری نقصان سے زیادہ بیانیاتی برتری کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اسے قومی سلامتی کی جنگ کہا جا رہا ہے جبکہ افغان حلقے اسے خود مختاری کے دفاع کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس بیانیاتی جنگ کے بیچ سرحدی عوام پِس رہے ہیں۔ معاشی سطح پر اس تصادم نے حالات مزید خراب کر دئے ہیں۔ طورخم اور چمن کی گزرگاہیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہزاروں تجارتی کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان پھل، سبزیاں اور خشک میوہ خراب ہو رہا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چمن کے مزدور طبقے کے لئے روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سپن بولدک کے افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار آدھا نہیں بلکہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والے خاندان اب قرض اور امداد کے سہارے جی رہے ہیں۔ جنگ کا ایک محاذ توپوں سے کھلا ہے تو دوسرا محاذ بھوک اور بے روزگاری نے کھول رکھا ہے۔ سفارتی سطح پر صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ چند ہی روز قبل امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دی تھی۔ چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی رابطوں کے بعد پہلی بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ اسلام آباد اور کابل شاید کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کسی درمیانی راستے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا بیان غیر معمولی حد تک نرم اور مثبت تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حل، تجارت کی بحالی اور سرحدی اعتماد سازی کے لئے سنجیدہ ہے۔ اسی بیان نے خطے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید دونوں ممالک مسلسل محاذ آرائی سے تھک چکے ہیں اور اب سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بعض حلقوں نے اسے ایک مثبت موڑ قرار دیا اور کہا کہ اگر کابل ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کم از کم علامتی تعاون دکھا دے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مگر کل کی تازہ فضائی بمباری اور اس کے جواب میں ہونے والی زمینی کارروائیوں نے ارومچی کے بعد پیدا ہونے والی وہ تمام امیدیں تقریباً منجمد کر دی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب ایک فریق جنگی طیارے بھیج رہا ہو اور دوسرا فریق سرحدی توپخانہ چلا رہا ہو تو مذاکراتی میز پر اعتماد کی فضا قائم نہیں رہتی۔ ارومچی عمل کی اصل بنیاد اعتماد سازی تھی مگر کل کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ارادوں پر اب بھی شدید بداعتماد ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کابل نے مثبت بیانات تو دئے مگر عملی طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا۔ کابل سمجھتا ہے کہ اسلام آباد سفارتی بات چیت کو صرف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اصل پالیسی عسکری ہے۔ اس باہمی شکوک نے مذاکراتی عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ارومچی عمل مکمل طور پر مر چکا ہے۔ چین جیسی علاقائی طاقت اس تصادم کو لمبا نہیں دیکھنا چاہے گی کیونکہ اس سے نہ صرف سی پیک کی توسیع بلکہ پورے خطے کے تجارتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لئے امکان یہی ہے کہ بیجنگ، دوحہ اور شاید انقرہ دوبارہ دونوں ملکوں کو رابطے پر لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب مذاکرات پہلے جیسے نرم ماحول میں نہیں ہوں گے۔ اب ہر ملاقات کے پیچھے تازہ خون، تباہ شدہ چیک پوسٹیں، خوفزدہ آبادی اور شدید بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بات چیت دوبارہ شروع بھی ہوئی تو وہ امن کے رومانوی وعدوں کے ساتھ نہیں بلکہ ایک سرد جنگی حقیقت کے سائے میں ہوگی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کل کے واقعات نے پاک افغان تعلقات کو پھر اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بندوق کی آواز سفارت کاری سے زیادہ بلند سنائی دے رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے جو مختصر سا دروازہ کھولا تھا وہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا مگر اس کے پٹ ایک بار پھر بارود کے دھماکوں سے لرز اٹھے ہیں۔ اب فیصلہ دونوں دارالحکومتوں کو کرنا ہے کہ وہ اس دروازے کو کھلا رکھتے ہیں یا اسے مکمل جنگ کے اندھیرے میں بند کر دیتے ہیں۔ فی الحال سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ امن کی امید ابھی زندہ تو ہے مگر شدید زخمی حالت میں۔

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر

تحریر:ناصر داوڑ گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی مزید پڑھیں