26 April, 2026
اہم خبریں
  • برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری
  • پشاور کبیر ریسٹورنٹ سیل، چائنہ سالٹ برآمد، منیجر گرفتار
  • درابن تھانہ پر راکٹ حملہ، شدید فائرنگ، عمارت کو نقصان
  • ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز
  • رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے چند ہفتوں میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے اس اعلان نے نہ صرف بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے ضروری قانونی مسودہ جلد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ اس اقدام کو برطانیہ میں موجود بعض یہودی تنظیموں اور ایران میں مذہبی حکومت کے مخالف گروہوں کی دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو کافی عرصے سے اس ادارے پر پابندی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ برطانوی قانونی نظام میں اب تک یہ روایت رہی ہے کہ دہشتگردی کے قوانین کے تحت صرف غیر ریاستی عناصر اور تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی ملک کی باقاعدہ ریاستی فوج یا سرکاری ادارے کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا۔ تاہم مجوزہ قانون سازی اس روایت میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ پہلی بار کسی غیر ملکی ریاستی فوجی ادارے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دے گا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ایران برطانیہ تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے بلکہ یورپی یونین کی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے، کیونکہ یورپی یونین پہلے ہی فروری میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے ابتدائی فیصلہ کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد برطانیہ کا ممکنہ اقدام مغربی دنیا میں ایران کے خلاف ایک مشترکہ سخت مؤقف کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ کا یہ قدم ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے اور سخت مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی ریاستی فوجی ادارے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اقدام عالمی سفارتی نظام میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے اور اس کے طویل مدتی سیاسی و قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ قانون سازی آنے والے ہفتوں میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بحث متوقع ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور بین الاقوامی امن کے مفاد میں ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی مختلف تنازعات اور کشیدگیاں جاری ہیں اور عالمی طاقتیں خطے میں اپنے سفارتی اور سیکیورٹی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔
برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری
پشاور ( دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ٹیم) میں فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کے معروف کبیر ریسٹورنٹ کو سیل جبکہ منیجر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب انسپکشن کے دوران ریسٹورنٹ سے بھاری مقدار میں ممنوع اور مضر صحت چائنہ سالٹ برآمد ہوا، جو سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے مطابق پاکستان میں استعمال کے لئے ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔ فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق معائنے کے دوران نہ صرف غیر معیاری اور صحت کے لئے خطرناک اجزاء کی موجودگی ثابت ہوئی بلکہ ریسٹورنٹ میں صفائی کی صورتحال بھی انتہائی ناقص پائی گئی۔ موقع پر موجود ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا جبکہ منیجر کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی کے لئے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلز میں چائنہ سالٹ کا استعمال ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے جو شہریوں کی صحت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق متعدد بار کارروائیوں کے باوجود بعض ہوٹل مالکان اس مضر صحت اجزاء کا استعمال ترک کرنے کے بجائے دوبارہ اسی غیر قانونی عمل کی طرف لوٹ جاتے ہیں جس سے شہریوں کی صحت مسلسل خطرے میں پڑ رہی ہے۔ پشاور میں فوڈ سیفٹی سے متعلق صورتحال طویل عرصے سے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق شہر کے کئی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں کھانوں کی تیاری کے دوران ممنوع اور غیر معیاری اجزاء کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے جبکہ نگرانی کے نظام میں تسلسل نہ ہونے کے باعث یہ رجحان مکمل طور پر ختم نہیں ہو پا رہا۔ اس کے نتیجے میں عوام میں فوڈ سیفٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور شہر بھر میں ایسے ریسٹورنٹس کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جو شہریوں کی صحت سے کھیلنے میں ملوث پائے جائیں گے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہوٹل یا ریسٹورنٹ کو مضر صحت اشیاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کئے جائیں گے۔ دوسری جانب شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ سیفٹی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور صرف عارضی کارروائیوں کے بجائے مستقل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ہوٹل انڈسٹری میں موجود غیر معیاری اور خطرناک رجحانات کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
پشاور کبیر ریسٹورنٹ سیل، چائنہ سالٹ برآمد، منیجر گرفتار
درابن تھانہ پر راکٹ حملہ، شدید فائرنگ، عمارت کو نقصان ڈیرہ اسماعل خان ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں رات گئے ایک بار پھر دہشتگردی کا بڑا واقعہ پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے تھانہ درابن کو راکٹ لانچر سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی۔ پولیس کے مطابق حملہ اچانک اور منظم انداز میں کیا گیا جس کے بعد حملہ آوروں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حملے کے دوران اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی جس سے ممکنہ بڑے نقصان کو روکا گیا تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں اضافی نفری طلب کر لی گئی اور سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو تلاش کیا جا سکے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تھانے کے قریب پہنچے اور راکٹ لانچر سے حملہ کیا جس کے باعث زور دار دھماکہ ہوا اور قریبی علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور خصوصاً درابن کا علاقہ اس نوعیت کے حملوں کی زد میں آیا ہو۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ خطہ شدت پسندی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کا شکار رہا ہے جس کے باعث یہاں سیکیورٹی صورتحال اکثر کشیدہ رہتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق شام کے بعد کئی علاقوں میں پولیس کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے اور بعض اوقات تھانوں کے دروازے بھی حفاظتی خدشات کے باعث بند رکھے جاتے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بدامنی کے باعث نہ صرف سرکاری املاک غیر محفوظ ہیں بلکہ عام شہری بھی شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات نے عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے بھی بڑھتے ہوئے دباؤ اور خطرات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن تیز کر دیا ہے اور قریبی پہاڑی و دیہی علاقوں میں بھی ناکہ بندی کر دی گئی ہے تاکہ حملہ آوروں کے ممکنہ ٹھکانوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
درابن تھانہ پر راکٹ حملہ، شدید فائرنگ، عمارت کو نقصان
ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے طے ہونے کی خبروں کو تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا اسلام آباد پہنچنا خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں اور اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و سفارتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے سفارتی کردار سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور بالخصوص امریکا کی جانب سے مسلط کردہ اقدامات کے اثرات پر پاکستان کے ساتھ مشاورت کرنا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے تمام سفارتی مشاہدات اور موجودہ صورتحال پر مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا تاہم امریکا کے ساتھ کسی ملاقات یا باضابطہ مذاکرات کا کوئی ایجنڈا زیر غور نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور موجودہ حالات میں ترجیح خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے عروج پر ہے اور مختلف ادوار میں اگرچہ بالواسطہ سفارتی رابطے سامنے آتے رہے ہیں تاہم براہ راست مذاکرات کبھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ماضی میں پہلے مرحلے کے دوران عمان اور کچھ یورپی ممالک کی ثالثی سے محدود رابطے ہوئے تھے جن میں بنیادی طور پر جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر بات چیت کی گئی۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی غیر رسمی چینلز کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا تاہم ان کوششوں کے باوجود کوئی مستقل پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ موجودہ صورتحال میں ایران کے وزیر خارجہ کا اسلام آباد دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال حساس ہے اور مختلف ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ پاکستان کو اس پورے عمل میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست ملاقات کی تردید سامنے آ چکی ہے لیکن خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پس پردہ رابطوں اور بالواسطہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار اس حوالے سے اہم ہو سکتا ہے کیونکہ خطے میں اس کے تعلقات دونوں فریقین کے ساتھ موجود ہیں اور وہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک نرم پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے واضح تردید کے بعد یہ بات مزید نمایاں ہو گئی ہے کہ فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی براہ راست مذاکراتی عمل کی باضابطہ شروعات نہیں ہوئی تاہم اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں خطے کی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔
ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز
رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے کر اپنے ہی ملک کے عوام کو چونکا دیا ہے۔ رضا پہلوی نے ان تباہ کن حملوں میں مرنے والے بچوں خواتین اور عام شہریوں کی اموات کو ضمنی نقصان کہہ کر نہ صرف ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا بلکہ اپنی سیاسی سوچ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں صحافی نے جب ان سے دو ٹوک سوال کیا کہ آپ جسے ضمنی نقصان کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہزاروں ایرانی شہریوں کی جانیں ہیں۔ کیا آپ ایران پر مسلط جنگ کی حمایت کرکے اپنے لئے ایرانی سیاست میں کوئی جگہ باقی چھوڑ رہے ہیں۔ اس پر رضا پہلوی نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کے نزدیک بڑے نقصان سے کیا مراد ہے کیونکہ مجھے ایرانی حکومت کے اعداد و شمار پر یقین نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں اموات ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر ہلاکتیں حکومتی عناصر کی ہیں۔ رضا پہلوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ عالمی رپورٹس ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق 28 فروری سے جنگ بندی تک امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بمباری میں کم از کم 3 ہزار 400 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ تباہ ہونے والی عمارتوں میں رہائشی مکانات اسکول اسپتال اور بنیادی شہری تنصیبات شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر بمباری سے 168 کمسن بچے جان سے گئے تھے۔ ان مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر رضا پہلوی نے ان جانوں کو بھی سیاسی مقصد کے نیچے دبا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے رضا پہلوی کے بیان کو غیر انسانی اور بے حس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کو ضمنی نقصان کہنا دراصل ظلم کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک کے بچوں کی لاشوں پر سیاسی تبدیلی کی امید باندھے وہ اخلاقی طور پر قیادت کا دعویٰ کھو دیتا ہے۔ رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جن کے خاندان کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران سے فرار ہونا پڑا تھا۔ تب سے وہ مغربی دنیا میں رہتے ہوئے خود کو ایران میں نظام کی تبدیلی کا متبادل چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اندر انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیرونی طاقتوں کے سہارے اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ ان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ایران مخالف ایجنڈے کے قریب ہیں۔ یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہوا جب رضا پہلوی گزشتہ برس اسرائیل کے غیر معمولی دورے پر گئے اور وہاں اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کرکے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی اداروں اور تھنک ٹینکس میں بھی بارہا ایران پر مزید پابندیوں اور عالمی دباؤ کی وکالت کی۔ اب تازہ بیان نے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ رضا پہلوی صرف حکومت کے مخالف نہیں بلکہ ایران پر بیرونی حملوں کے بھی سیاسی حامی بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے اس مؤقف پر صرف ایرانی حکومت ہی نہیں بلکہ بیرون ملک موجود ایرانی اپوزیشن کے کئی حلقے بھی ان سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ متعدد اپوزیشن کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومت سے اختلاف اپنی جگہ مگر غیر ملکی بمباری میں معصوم شہریوں کی موت کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایسے بیانات کسی بھی ممکنہ قومی رہنما کو عوام کے دلوں سے نکالنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جو شخص اپنے ہی وطن کے بچوں خواتین اور عام شہریوں کے خون کو محض ضمنی نقصان کہے وہ ایران کا نجات دہندہ نہیں ہو سکتا۔ کئی صارفین نے انہیں جنگ کا سیاسی تماشائی اور مغربی منصوبے کا ترجمان قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ جنگی دباؤ سے ایرانی حکومت کمزور ہوگی اور وہ خود ایک متبادل سیاسی چہرے کے طور پر ابھریں گے لیکن شہری ہلاکتوں پر ان کی بے حسی نے یہ امکان بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایرانی عوام پہلے ہی بیرونی حملوں پر مشتعل ہیں اور اب ایسے بیانات ان شخصیات کے خلاف بھی نفرت بڑھا رہے ہیں جو اس تباہی کو جائز قرار دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کا یہ بیان صرف ایک سیاسی لغزش نہیں بلکہ ان کی سوچ کی عکاسی ہے جس میں اقتدار کی خواہش انسانی جانوں کے احترام سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ انٹرویو اب ایران کی جنگی سیاست میں ایک نئے اور نہایت تلخ تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔
رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا
امریکا نے چین کی آئل ریفائنری اور شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں، ایران کی تیل برآمدات نشانے پر پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری، تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور درجنوں آئل ٹینکرز پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور اداروں کو خبردار کرنے کے بعد سامنے آیا ہے اور اسے تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ چین کی ایک معروف نجی آئل ریفائنری اور اس سے منسلک شپنگ نیٹ ورک ایران سے خام تیل خریدنے، ذخیرہ کرنے اور عالمی منڈیوں تک منتقل کرنے میں ملوث پایا گیا، جس کے بعد ان پر باضابطہ پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں متعدد شپنگ فرمیں، سمندری لاجسٹک آپریٹرز، آئل بروکرز اور تقریباً 40 ٹینکرز شامل ہیں جو مبینہ طور پر ایرانی تیل کو خفیہ راستوں، جعلی دستاویزات اور مختلف جھنڈوں کے تحت عالمی منڈیوں تک پہنچاتے رہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی تیل برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خطے میں عسکری سرگرمیوں، اتحادی ملیشیاؤں کی معاونت اور حساس جوہری پروگرام کے لئے استعمال کرتا ہے، اس لیے واشنگٹن ایران کے ہر اس مالی ذریعے کو نشانہ بنا رہا ہے جو اسے عالمی پابندیوں کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ، جو کمپنیاں، بینک، شپنگ ادارے یا ریفائنریز ایرانی تیل کے کاروبار میں شریک ہوں گی، انہیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف ایران ہی نہیں بلکہ ان تمام بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف ہیں جو تہران کی تیل تجارت کو سہارا دے رہے ہیں۔ یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ جو بھی ملک یا کمپنی ایران سے تیل خریدے گی یا اس کے ساتھ کاروبار کرے گی، اسے امریکی پابندیوں کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح کیا گیا تھا کہ ایران کو معاشی طور پر مکمل تنہائی میں دھکیلنا واشنگٹن کی ترجیح ہے تاکہ تہران کو اپنے جوہری اور علاقائی پالیسیوں پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ پابندیاں اسی زیرو ایرانی آئل ایکسپورٹ حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔ عالمی توانائی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق چین ایران سے خام تیل خریدنے والے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ اگرچہ چین سرکاری سطح پر امریکی یکطرفہ پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا، تاہم چینی نجی ریفائنریز اور آزاد شپنگ نیٹ ورکس ایران سے رعایتی نرخوں پر خام تیل حاصل کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی یومیہ لاکھوں بیرل تیل کی فروخت کا بڑا حصہ چین کو مختلف غیر رسمی راستوں سے بھیجتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اکثر جہازوں کے نام تبدیل کئے جاتے ہیں سمندر میں تیل ایک ٹینکر سے دوسرے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ کارگو دستاویزات میں اصل ملک چھپایا جاتا ہے، مختلف ممالک کے جھنڈے استعمال کئے جاتے ہیں امریکا کا دعویٰ ہے کہ تازہ پابندیاں اسی خفیہ نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے لگائی گئی ہیں۔ ایران کی معیشت پہلے ہی شدید افراط زر، کرنسی کی گراوٹ، بے روزگاری اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے۔ ایسے میں تیل کی برآمدات ہی تہران کیلئے سب سے بڑا زرمبادلہ ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر چین کی ریفائنریز اور شپنگ نیٹ ورکس پر امریکی دباؤ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو ایران کی یومیہ تیل برآمدات میں کمی آسکتی ہے، حکومت کی آمدنی متاثر ہوگی، عالمی ادائیگیوں کا نظام مزید محدود ہوگا، ایرانی ریال پر دباؤ بڑھے گا۔ بیجنگ نے فوری طور پر ان پابندیوں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ماضی میں چین امریکی یکطرفہ اقتصادی اقدامات کو بین الاقوامی تجارت میں مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب، امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ ایران امریکا جوہری مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اس لئے تازہ پابندیاں صرف ایران مخالف اقدام نہیں بلکہ چین کو بھی ایک واضح سفارتی پیغام تصور کی جا رہی ہیں۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر ایرانی تیل کی سپلائی مزید محدود ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات اور سمندری راستوں کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری گزرگاہوں میں کسی بھی نئی کشیدگی سے عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اب ایران کے خلاف صرف براہ راست پابندیوں تک محدود نہیں بلکہ تہران کے ہر تجارتی شراکت دار، خریدار اور ترسیلی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ، واشنگٹن ایران کو معاشی طور پر اس نہج پر لے جانا چاہتا ہے جہاں وہ یا تو مذاکرات میں مکمل لچک دکھائے یا شدید مالی بحران کا سامنا کرے۔
امریکا نے چین کی آئل ریفائنری اور شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں، ایران کی تیل برآمدات نشانے پر

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

کینسر کے مرض میں مبتلا رشی کپور انتقال کر گئے

اپریل 30, 2020April 30, 2020

ممبئی ( دی خیبر ٹائمز شوبز ڈیسک) بالی وڈ کے معروف اداکار رشی کپور کا ممبئی کے ہسپتال میں انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی عمر 67 برس تھی۔رشی کپورکو کینسر کا مرض تھا اور انہیں گذشتہ دنوں انھیں ہسپتال مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND