جنوبی وزیرستان( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کا ہیڈ کوارٹر وانا اس وقت ایک ایسے سنگین سکیورٹی بحران کی زد میں ہے جہاں ریاست کی دفاعی لکیر یعنی پولیس فورس خود اندرونی خلفشار اور وسائل کی کمی کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی نئی لہر نے سر اٹھایا ہے تو دوسری طرف انکشاف ہوا ہے کہ منظور شدہ سینکڑوں آسامیوں کے برعکس میدانِ عمل میں صرف 200 کے قریب اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، جس نے پورے علاقے کو ایک غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ اس بحران کی جڑیں صرف دہشت گردی تک محدود نہیں بلکہ محکمے کے اندر پھیلی مبینہ بدعنوانی اور اہلکاروں کے معاشی استحصال میں پیوست ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں سے ماہانہ 15 سے 25 ہزار روپے تک کی کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ اہم چیک پوسٹوں پر تعیناتی کے لئے بھی رشوت طلب کی جاتی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے جوانوں کو سرکاری وردی، بوٹ اور ضروری حفاظتی سامان تک فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث اہلکار شدید مایوسی کا شکار ہو کر یا تو ڈیوٹی سے بددل ہو چکے ہیں یا پھر نجی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ سیاسی و قبائلی رہنماؤں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ نہ کیا جو فورس کو کمزور کر رہی ہیں، اور اہلکاروں کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کیں، تو وانا میں امن و امان کا خواب ادھورا رہ جائے گا اور عوام کا ریاست پر اعتماد مزید متزلزل ہو جائے گا۔




