پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے تزویراتی خطوں میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت عروج پر پہنچ چکا ہے جہاں ایک طرف گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے حالیہ نتائج نے حکومت سازی کو ایک دلچسپ گورکھ دھندے میں تبدیل کر دیا ہے، تو دوسری طرف آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے 27 جولائی کو نئے عام انتخابات کے باقاعدہ اعلان نے وہاں کی مقامی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر آنے والے ابتدائی نتائج کے مطابق کسی بھی ایک سیاسی جماعت کو تنہا واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی، جس کے بعد روایتی طور پر ایک بار پھر مخلوط حکومت کے قیام کے لیے جوڑ توڑ کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ ان انتخابی نتائج میں پاکستان پیپلز پارٹی گیارہ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے اور وہ حکومت سازی کیلئے سب سے مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن 06 نشستیں حاصل کر کے دوسرے نمبر پر کھڑی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ مجلس وحدتِ مسلمین کے حصے میں ایک نشست آئی ہے۔ اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم کردار ان 04 آزاد امیدواروں کا ہے جنہوں نے اپنی انفرادی حیثیت میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہی وہ ارکان ہیں جنہیں اس وقت حکومت سازی کی دوڑ میں “کنگ میکر” کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ وفاق میں رائج سیاسی رجحانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مل کر وفاقی طرز پر یہاں بھی ایک مخلوط حکومت بنا سکتی ہیں جس سے ان کی مشترکہ نشستیں سترہ ہو جائیں گی، جو کہ مخصوص نشستوں کے کوٹے کے ساتھ باآسانی حکومت بنانے کیلئے کافی ہیں۔ تاہم، پیپلز پارٹی وفاق پر اپنا انحصار کم کرنے کیلئے ان چار آزاد امیدواروں کو براہِ راست اپنے ساتھ شامل کرنے کیلئے بھی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔
ان خطوں کی تاریخ گواہ ہے کہ آزاد امیدوار ہمیشہ اسی سمت کا رخ کرتے ہیں جہاں اقتدار کا پلہ بھاری ہو، اور اس روایتی وفاداری کی تبدیلی کے پیچھے انتہائی ٹھوس معاشی اور سیاسی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ چونکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا پورا ترقیاتی اور مالیاتی نظام اسلام آباد سے ملنے والے فنڈز اور سبسڈی پر منحصر ہوتا ہے، اس لئے آزاد امیدوار بخوبی جانتے ہیں کہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا مطلب اپنے حلقے کو فنڈز، سڑکوں، اور نوکریوں سے محروم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ برسرِاقتدار آنے والی جماعت کے ساتھ اہم ترین وزارتوں، جیسے سیاحت، صحت، اور تعمیراتِ عامہ کا سودا کرتے ہیں اور وفاقی مقتدر حلقوں کے اشارے پر خاموشی سے حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف آزاد جموں و کشمیر میں بھی سیاسی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے جہاں اس وقت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے راجہ فیصل ممتاز راٹھور وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں، جنہیں پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کی حمایت سے اقتدار ملا تھا۔ اب جبکہ 27 جولائی کو نئے انتخابات کی تاریخ سامنے آ چکی ہے، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف کے درمیان ایک کڑا اور سہ فریقی مقابلہ متوقع ہے۔ ان دونوں خطوں میں حکومت سازی کا یہ پیچیدہ کھیل محض اقتدار کی جنگ نہیں ہے بلکہ اس کا براہِ راست تعلق حالیہ دنوں میں ابھرنے والی عوامی کشیدگی سے بھی ہے۔ گلگت بلتستان میں گندم پر سبسڈی کی کمی اور آزاد کشمیر میں بجلی کے بھاری بلوں اور آٹے کی قیمتوں پر عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے طویل دھرنوں اور پہیہ جام ہڑتالوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہاں کے عوام اب روایتی جوڑ توڑ سے مایوس ہو چکے ہیں۔ جب تک اسلام آباد ان خطوں میں اپنی روایتی مداخلت بند کر کے مقامی عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کرتا اور انہیں حقیقی مالیاتی و عبوری آئینی حقوق فراہم نہیں کuy جاتے، تب تک سڑکوں پر موجود عوامی غصہ اور اسمبلیوں میں ہونے والا سیاسی جوڑ توڑ ان تزویراتی خطوں کو عدم استحکام سے نہیں نکال پائے گا۔




