روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل دنیا تک؛ پاکستانی صحافیوں کیلئے نئے چیلنجز تحریر: ناصر داوڑ پاکستان میں صحافت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں میڈیا کی پوری ساخت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اخبار میں شائع ہونے والی خبر یا رات نو بجے کا نیوز بلیٹن عوام کیلئے حتمی سچ سمجھا جاتا تھا۔ صحافی معاشرے میں فکری رہنما تصور کئے جاتے تھے، اخبارات قومی مباحثے کی سمت متعین کرتے تھے اور ٹی وی چینلز عوامی رائے سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی شدید بحران کا شکار ہے، ہزاروں میڈیا ورکرز بے یقینی کا شکار ہیں، اور سوشل میڈیا نے معلومات، خبروں اور رائے سازی کے پورے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان میں صحافت ختم ہورہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ اس کی شکل تبدیل ہورہی ہے۔ ماضی میں صحافت کا مرکز اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی چینلز تھے، مگر اب صحافت موبائل فون، یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، پوڈکاسٹس اور ویب سائٹس میں منتقل ہورہی ہے۔ پہلے ادارے صحافی کو شناخت دیتے تھے، آج صحافی خود ایک ادارہ بنتا جارہا ہے۔ اب کسی بڑے چینل یا اخبار سے وابستگی ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی بلکہ ذاتی ساکھ، ڈیجیٹل موجودگی اور عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ زیادہ اہم بن چکا ہے۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا زوال دراصل اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کی عادت تبدیل کردی۔ لوگ صبح اخبار خریدنے کے بجائے موبائل فون پر خبریں پڑھنے لگے۔ اشتہارات، جو اخبارات کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھے، گوگل اور فیس بک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہوگئے۔ نتیجتاً اخبارات مالی بحران کا شکار ہوگئے، صفحات کم ہوئے، تنخواہیں رُکیں اور صحافی فارغ کئے جانے لگے۔ اسی طرح 2002 کے بعد پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے عروج نے ایک نئی میڈیا انڈسٹری کو جنم دیا۔ جیو، اے آر وائی، دنیا، ایکسپریس، سما اور دیگر چینلز نے صحافت کو نئی رفتار دی، ہزاروں نوجوان اس شعبے میں آئے اور میڈیا ایک طاقتور صنعت بن گیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی الیکٹرانک میڈیا شدید مسائل کا شکار ہوگیا۔ اشتہارات میں کمی، ریٹنگ کی دوڑ، سیاسی دباؤ، ادارتی آزادی پر قدغنیں اور ڈیجیٹل میڈیا کی یلغار نے نیوز چینلز کی بنیادیں کمزور کردیں۔ اب نوجوان نسل ٹی وی اسکرین سے زیادہ موبائل اسکرین پر وقت گزارتی ہے۔ لوگ بریکنگ نیوز کیلئے ٹی وی آن کرنے کے بجائے یوٹیوب، ایکس، فیس بک یا واٹس ایپ کھولتے ہیں۔ اسی بحران کے باعث میڈیا انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں ہورہی ہیں۔ کئی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نوکریوں سے فارغ کیا جاچکا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ دور میں بے روزگار صحافی کی اصطلاح مکمل طور پر درست ہے؟ شاید پہلے یہ لفظ زیادہ مناسب تھا، مگر آج صورتحال مختلف ہے۔ اب صحافت صرف کسی اخبار یا ٹی وی چینل کی نوکری کا نام نہیں رہی۔ اگر کوئی صحافی روایتی میڈیا ادارے سے الگ ہوکر بھی یوٹیوب، فیس بک، ویب سائٹ، پوڈکاسٹ، ڈیجیٹل رپورٹنگ یا فری لانس جرنلزم کررہا ہے تو اسے مکمل طور پر بے روزگار کہنا درست نہیں ہوگا۔ آج زیادہ مناسب اصطلاح آزاد صحافی، ڈیجیٹل صحافی یا فری لانس جرنلسٹ ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ بے روزگاری سے زیادہ ذہنی جمود کا ہے۔ موجودہ دور میں بے کار صحافی وہ نہیں جو کسی ادارے میں ملازم نہیں، بلکہ وہ ہے جو بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ صحافی جو اب بھی صرف روایتی نیوز روم کے انتظار میں بیٹھا رہے، نئی ٹیکنالوجی نہ سیکھے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور رہے اور جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے، وہ عملی طور پر خود کو محدود کررہا ہے۔ آج کا دور ملٹی میڈیا جرنلزم کا ہے، جہاں ایک شخص لکھ بھی سکتا ہے، ویڈیو بھی بنا سکتا ہے، پوڈکاسٹ بھی کرسکتا ہے اور سوشل میڈیا پر اپنا براہِ راست سامعین بھی بنا سکتا ہے۔ پاکستانی صحافیوں کیلئے اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انہیں کن پلیٹ فارمز پر کام کرنا چاہئے؟ موجودہ حالات میں یوٹیوب سب سے طاقتور پلیٹ فارم بنتا جارہا ہے۔ یہاں تجزیے، وی لاگز، انٹرویوز، ڈاکیومنٹریز اور پوڈکاسٹس کیلئے بڑی گنجائش موجود ہے۔ فیس بک اب بھی اردو صحافت کیلئے اہم پلیٹ فارم ہے، خاص طور پر مقامی خبروں اور لائیو سیشنز کیلئے۔ ٹک ٹاک نوجوان نسل تک پہنچنے کا تیز ترین ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ ایکس فوری خبروں اور سیاسی مباحثوں کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح انسٹاگرام، واٹس ایپ چینلز اور ذاتی ویب سائٹس بھی مستقبل کی صحافت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اب کامیاب صحافی وہ ہوگا جو صرف ایک پلیٹ فارم پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی قائم کرے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں اکثر سنجیدہ، علمی اور فکری لوگ پس منظر میں رہ جاتے ہیں، جبکہ شور مچانے والے، جذبات بھڑکانے والے اور غیر سنجیدہ عناصر زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا الگورتھم ہے، جو تحقیق، دلیل اور متوازن گفتگو کے بجائے جذباتی، متنازع اور اشتعال انگیز مواد کو زیادہ فروغ دیتا ہے۔ چیخنے، لڑنے، الزامات لگانے اور سنسنی پھیلانے والے مواد کو زیادہ ویوز ملتے ہیں، جبکہ سنجیدہ مواد اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف بہت سے پڑھے لکھے، باشعور اور سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا کو غیر سنجیدہ سمجھ کر اس سے دور رہتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ میدان غیر ذمہ دار لوگوں کیلئے خالی رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً عوامی بیانیہ اکثر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو معلومات اور تحقیق سے زیادہ جذبات فروخت کرتے ہیں۔ بعض عناصر لوگوں کو احساسِ محرومی میں مبتلا کرنے، انہیں غصے اور مایوسی کی طرف دھکیلنے اور جذباتی ردعمل پیدا کرنے کیلئے اشتعال انگیز الفاظ اور منفی بیانئے استعمال کرتے ہیں۔ دن رات ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جس کا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کرنا ہوتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ صحافت کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں بے اعتمادی، تقسیم اور نفسیاتی دباؤ کو بھی بڑھاتا ہے۔ تاہم اس صورتحال کا حل یہ نہیں کہ سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا چھوڑ دیں۔ اگر باشعور، تربیت یافتہ اور ذمہ دار لوگ جدید پلیٹ فارمز پر فعال نہیں ہوں گے تو پھر یہ میدان مکمل طور پر شور، نفرت اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی، سیاسی بیانیے، سماجی شعور اور معلومات کی ترسیل کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔ اس لئے صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر آنا چاہئے، مگر تحقیق، ذمہ داری اور اخلاقیات کے ساتھ۔ پاکستانی میڈیا اس وقت ایک بڑے انتقالی دور سے گزر رہا ہے۔ روایتی میڈیا کمزور ضرور ہورہا ہے، مگر صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں نئی شکل اختیار کررہی ہے۔ مستقبل ان صحافیوں کا ہے جو ٹیکنالوجی سیکھیں گے، ویڈیو، آڈیو اور تحریر تینوں پر عبور حاصل کریں گے، اپنی ذاتی ساکھ بنائیں گے اور جدید پلیٹ فارمز پر خود کو منظم انداز میں پیش کریں گے۔ اب صرف کسی ادارے کی نوکری پر انحصار کافی نہیں رہا۔ آج کامیاب وہی ہوگا جو خود کو ایک برانڈ، ایک پلیٹ فارم اور ایک مستقل آواز کے طور پر منوا سکے۔ وقت ہمیشہ اُنہی لوگوں اور اداروں کو زندہ رکھتا ہے جو خود کو حالات اور تقاضوں کے مطابق بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صرف ماضی کی شہرت، تجربہ یا نام کسی کی بقا کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایک وقت تھا جب “نوکیا” موبائل فون کی دنیا کا سب سے بڑا اور قابلِ اعتماد نام سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کے تقریباً ہر کونے میں اگر بہترین موبائل فون کا ذکر ہوتا تو نوکیا سرفہرست ہوتا، مگر وقت کے بدلتے تقاضوں، اسمارٹ ٹیکنالوجی اور نئی دنیا کے ساتھ خود کو مکمل طور پر ہم آہنگ نہ کرسکنے کے باعث وہ آہستہ آہستہ مارکیٹ سے غائب ہوگیا، اور اس کی جگہ نئے اور جدید اسمارٹ فونز نے لے لی۔ صحافت کی دنیا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اگر کوئی صحافی صرف ماضی کے تجربات، روایتی انداز اور پرانے نظام پر اصرار کرے گا، اور نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بدلتی میڈیا دنیا کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا، تو وہ بھی وقت کے ساتھ اسی طرح منظر سے غائب ہوجائے گا۔ آج کا دور اُنہی صحافیوں کا ہے جو سیکھنے، بدلنے اور وقت کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل دنیا تک؛ پاکستانی صحافیوں کیلئے نئے چیلنجز

تحریر: ناصر داوڑ
پاکستان میں صحافت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں میڈیا کی پوری ساخت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اخبار میں شائع ہونے والی خبر یا رات نو بجے کا نیوز بلیٹن عوام کیلئے حتمی سچ سمجھا جاتا تھا۔ صحافی معاشرے میں فکری رہنما تصور کئے جاتے تھے، اخبارات قومی مباحثے کی سمت متعین کرتے تھے اور ٹی وی چینلز عوامی رائے سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی شدید بحران کا شکار ہے، ہزاروں میڈیا ورکرز بے یقینی کا شکار ہیں، اور سوشل میڈیا نے معلومات، خبروں اور رائے سازی کے پورے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان میں صحافت ختم ہورہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ اس کی شکل تبدیل ہورہی ہے۔ ماضی میں صحافت کا مرکز اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی چینلز تھے، مگر اب صحافت موبائل فون، یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، پوڈکاسٹس اور ویب سائٹس میں منتقل ہورہی ہے۔ پہلے ادارے صحافی کو شناخت دیتے تھے، آج صحافی خود ایک ادارہ بنتا جارہا ہے۔ اب کسی بڑے چینل یا اخبار سے وابستگی ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی بلکہ ذاتی ساکھ، ڈیجیٹل موجودگی اور عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ زیادہ اہم بن چکا ہے۔
پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا زوال دراصل اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کی عادت تبدیل کردی۔ لوگ صبح اخبار خریدنے کے بجائے موبائل فون پر خبریں پڑھنے لگے۔ اشتہارات، جو اخبارات کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھے، گوگل اور فیس بک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہوگئے۔ نتیجتاً اخبارات مالی بحران کا شکار ہوگئے، صفحات کم ہوئے، تنخواہیں رُکیں اور صحافی فارغ کئے جانے لگے۔
اسی طرح 2002 کے بعد پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے عروج نے ایک نئی میڈیا انڈسٹری کو جنم دیا۔ جیو، اے آر وائی، دنیا، ایکسپریس، سما اور دیگر چینلز نے صحافت کو نئی رفتار دی، ہزاروں نوجوان اس شعبے میں آئے اور میڈیا ایک طاقتور صنعت بن گیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی الیکٹرانک میڈیا شدید مسائل کا شکار ہوگیا۔ اشتہارات میں کمی، ریٹنگ کی دوڑ، سیاسی دباؤ، ادارتی آزادی پر قدغنیں اور ڈیجیٹل میڈیا کی یلغار نے نیوز چینلز کی بنیادیں کمزور کردیں۔ اب نوجوان نسل ٹی وی اسکرین سے زیادہ موبائل اسکرین پر وقت گزارتی ہے۔ لوگ بریکنگ نیوز کیلئے ٹی وی آن کرنے کے بجائے یوٹیوب، ایکس، فیس بک یا واٹس ایپ کھولتے ہیں۔
اسی بحران کے باعث میڈیا انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں ہورہی ہیں۔ کئی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نوکریوں سے فارغ کیا جاچکا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ دور میں بے روزگار صحافی کی اصطلاح مکمل طور پر درست ہے؟ شاید پہلے یہ لفظ زیادہ مناسب تھا، مگر آج صورتحال مختلف ہے۔ اب صحافت صرف کسی اخبار یا ٹی وی چینل کی نوکری کا نام نہیں رہی۔ اگر کوئی صحافی روایتی میڈیا ادارے سے الگ ہوکر بھی یوٹیوب، فیس بک، ویب سائٹ، پوڈکاسٹ، ڈیجیٹل رپورٹنگ یا فری لانس جرنلزم کررہا ہے تو اسے مکمل طور پر بے روزگار کہنا درست نہیں ہوگا۔ آج زیادہ مناسب اصطلاح آزاد صحافی، ڈیجیٹل صحافی یا فری لانس جرنلسٹ ہوسکتی ہے۔
اصل مسئلہ بے روزگاری سے زیادہ ذہنی جمود کا ہے۔ موجودہ دور میں بے کار صحافی وہ نہیں جو کسی ادارے میں ملازم نہیں، بلکہ وہ ہے جو بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ صحافی جو اب بھی صرف روایتی نیوز روم کے انتظار میں بیٹھا رہے، نئی ٹیکنالوجی نہ سیکھے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور رہے اور جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے، وہ عملی طور پر خود کو محدود کررہا ہے۔ آج کا دور ملٹی میڈیا جرنلزم کا ہے، جہاں ایک شخص لکھ بھی سکتا ہے، ویڈیو بھی بنا سکتا ہے، پوڈکاسٹ بھی کرسکتا ہے اور سوشل میڈیا پر اپنا براہِ راست سامعین بھی بنا سکتا ہے۔
پاکستانی صحافیوں کیلئے اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انہیں کن پلیٹ فارمز پر کام کرنا چاہئے؟ موجودہ حالات میں یوٹیوب سب سے طاقتور پلیٹ فارم بنتا جارہا ہے۔ یہاں تجزیے، وی لاگز، انٹرویوز، ڈاکیومنٹریز اور پوڈکاسٹس کیلئے بڑی گنجائش موجود ہے۔ فیس بک اب بھی اردو صحافت کیلئے اہم پلیٹ فارم ہے، خاص طور پر مقامی خبروں اور لائیو سیشنز کیلئے۔ ٹک ٹاک نوجوان نسل تک پہنچنے کا تیز ترین ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ ایکس فوری خبروں اور سیاسی مباحثوں کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح انسٹاگرام، واٹس ایپ چینلز اور ذاتی ویب سائٹس بھی مستقبل کی صحافت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اب کامیاب صحافی وہ ہوگا جو صرف ایک پلیٹ فارم پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی قائم کرے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں اکثر سنجیدہ، علمی اور فکری لوگ پس منظر میں رہ جاتے ہیں، جبکہ شور مچانے والے، جذبات بھڑکانے والے اور غیر سنجیدہ عناصر زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا الگورتھم ہے، جو تحقیق، دلیل اور متوازن گفتگو کے بجائے جذباتی، متنازع اور اشتعال انگیز مواد کو زیادہ فروغ دیتا ہے۔ چیخنے، لڑنے، الزامات لگانے اور سنسنی پھیلانے والے مواد کو زیادہ ویوز ملتے ہیں، جبکہ سنجیدہ مواد اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔
دوسری طرف بہت سے پڑھے لکھے، باشعور اور سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا کو غیر سنجیدہ سمجھ کر اس سے دور رہتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ میدان غیر ذمہ دار لوگوں کیلئے خالی رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً عوامی بیانیہ اکثر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو معلومات اور تحقیق سے زیادہ جذبات فروخت کرتے ہیں۔ بعض عناصر لوگوں کو احساسِ محرومی میں مبتلا کرنے، انہیں غصے اور مایوسی کی طرف دھکیلنے اور جذباتی ردعمل پیدا کرنے کیلئے اشتعال انگیز الفاظ اور منفی بیانئے استعمال کرتے ہیں۔ دن رات ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جس کا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کرنا ہوتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ صحافت کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں بے اعتمادی، تقسیم اور نفسیاتی دباؤ کو بھی بڑھاتا ہے۔
تاہم اس صورتحال کا حل یہ نہیں کہ سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا چھوڑ دیں۔ اگر باشعور، تربیت یافتہ اور ذمہ دار لوگ جدید پلیٹ فارمز پر فعال نہیں ہوں گے تو پھر یہ میدان مکمل طور پر شور، نفرت اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی، سیاسی بیانیے، سماجی شعور اور معلومات کی ترسیل کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔ اس لئے صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر آنا چاہئے، مگر تحقیق، ذمہ داری اور اخلاقیات کے ساتھ۔
پاکستانی میڈیا اس وقت ایک بڑے انتقالی دور سے گزر رہا ہے۔ روایتی میڈیا کمزور ضرور ہورہا ہے، مگر صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں نئی شکل اختیار کررہی ہے۔ مستقبل ان صحافیوں کا ہے جو ٹیکنالوجی سیکھیں گے، ویڈیو، آڈیو اور تحریر تینوں پر عبور حاصل کریں گے، اپنی ذاتی ساکھ بنائیں گے اور جدید پلیٹ فارمز پر خود کو منظم انداز میں پیش کریں گے۔ اب صرف کسی ادارے کی نوکری پر انحصار کافی نہیں رہا۔ آج کامیاب وہی ہوگا جو خود کو ایک برانڈ، ایک پلیٹ فارم اور ایک مستقل آواز کے طور پر منوا سکے۔
وقت ہمیشہ اُنہی لوگوں اور اداروں کو زندہ رکھتا ہے جو خود کو حالات اور تقاضوں کے مطابق بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صرف ماضی کی شہرت، تجربہ یا نام کسی کی بقا کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایک وقت تھا جب “نوکیا” موبائل فون کی دنیا کا سب سے بڑا اور قابلِ اعتماد نام سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کے تقریباً ہر کونے میں اگر بہترین موبائل فون کا ذکر ہوتا تو نوکیا سرفہرست ہوتا، مگر وقت کے بدلتے تقاضوں، اسمارٹ ٹیکنالوجی اور نئی دنیا کے ساتھ خود کو مکمل طور پر ہم آہنگ نہ کرسکنے کے باعث وہ آہستہ آہستہ مارکیٹ سے غائب ہوگیا، اور اس کی جگہ نئے اور جدید اسمارٹ فونز نے لے لی۔ صحافت کی دنیا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اگر کوئی صحافی صرف ماضی کے تجربات، روایتی انداز اور پرانے نظام پر اصرار کرے گا، اور نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بدلتی میڈیا دنیا کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا، تو وہ بھی وقت کے ساتھ اسی طرح منظر سے غائب ہوجائے گا۔ آج کا دور اُنہی صحافیوں کا ہے جو سیکھنے، بدلنے اور وقت کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔