Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi speaking at a grand Jirga against federal tax implementation in merged districts.

صوبائی ایکشن پلان پر عمل ہو تو 4 ماہ میں امن آسکتا ہے، خیبرپختونخوا کا مالی مقدمہ لڑنے اسلام آباد میں جرگہ کریں گے، جرگے سے خطاب

وفاق نے ضم اضلاع پر ٹیکس واپس نہ لیا تو شدید ردعمل ہوگا، بدامنی اور بھتہ خوری کے باعث برائے نام سرمایہ کار بھی چلے جائیں گے: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

پشاور ( دی خیبر ٹائمز پولیٹیکل ڈیسک ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاق نے ضم شدہ اضلاع میں ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ فوری واپس نہ لیا تو اس کے خلاف شدید ترین عوامی ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضم اضلاع میں کسی قسم کا ٹیکس نہیں لے رہی۔
وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف منعقدہ ایک بڑے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر کھل کر بات کی۔
وزیر اعلیٰ نے صوبے کے تجارتی ماحول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ،
ملاکنڈ ڈویژن کو ریلیف اور سیاسی یکجہتی
وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے ملاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس آن سروسز واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے صوبائی مسائل پر یکجہتی دکھانے پر تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اب سیاسی کلچر تبدیل ہو رہا ہے اور عوامی مفاد کے مسائل پر تمام قیادت اکٹھی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق سے اس سنگین معاملے پر بات چیت کیلئے ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی تشکیل دیا جائے گا۔
صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ، ہم نے دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کیلئے ایک جامع صوبائی ایکشن پلان تیار کیا ہے۔
اگر اس صوبائی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے تو صرف 4 ماہ میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ صوبے میں امن و امان کے پائیدار قیام سے متعلق تفصیلی مشاورت کیلئے بہت جلد ایک الگ جرگہ بھی منعقد کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا کا مالی مقدمہ مضبوط انداز میں لڑنے کیلئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ایک بڑے جرگے کا انعقاد کیا جائے گا۔ اپنے سیاسی حریفوں اور ناقدین کو جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، اگر میں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتا کرنا ہوتا تو ابھی تک بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات ہو جاتی۔ ہم عوامی طاقت سے اقتدار میں آئے ہیں، عوام ہی ہماری پہلی اور آخری ترجیح ہیں۔ میرا کوئی بھی فیصلہ صرف میرے عوام ہی واپس لے سکتے ہیں، کیونکہ اگر کوئی فیصلہ عوام کو پسند نہ آئے تو وہ اسے مسترد کر دیتے ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ ان علاقوں میں پہلے ہی بدامنی اور بھتہ خوری کے باعث کاروباری طبقہ اور عام لوگ شدید پریشان ہیں اور یہاں سے شفٹ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اگر اس مخدوش صورتحال میں وفاق کی طرف سے ٹیکسز کا نفاذ برقرار رکھا گیا، تو ان علاقوں میں جو برائے نام سرمایہ کار رہ گئے ہیں، وہ بھی یہاں سے کوچ کر جائیں گے، جس سے معاشی تباہی پھیلے گی۔

English Summary:

Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi has warned of a severe public reaction if the federal government does not withdraw its decision to enforce taxes in the merged districts, clarifying that the provincial government itself is not levying any taxes there. He highlighted that lawlessness and extortion are already forcing residents to relocate, and enforcing additional taxes would drive away the few remaining nominal investors, leading to total economic collapse in these areas.

To provide relief, the KP government has decided to withdraw the Sales Tax on Services in the Malakand Division. The Chief Minister announced that a high-level delegation will be formed to negotiate with the federal government, and a major jirga will be held in Islamabad to fight the province’s financial case. On security, he stated that the provincial government has developed a Provincial Action Plan against terrorism, which can restore peace within four months if fully implemented. He concluded by emphasizing his unwavering commitment to the public, stating that he refuses to compromise on provincial rights.