Books, shoes and personal belongings scattered after a blast at a school in Kabul’s Dasht-e-Barchi area.

کابل: نجی اسکول میں پراسرار دھماکہ، 48 بچے زخمی، تحقیقات جاری

کابل ۔ مانیٹرنگ ڈیسک
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ہزارہ اکثریت والے علاقے دشتِ برچی میں واقع ایک نجی اسکول میں شدید دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 48 بچے زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ کابل کے 18ویں پولیس ڈسٹرکٹ کے علاقے مہدیہ میں واقع “شمع ہدایت” اسکول میں شام کے وقت پیش آیا۔ کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمی بچوں کو طبی امداد کیلئے مختلف ہسپتالوں منتقل کیا۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ بچوں کی اکثریت کو معمولی چوٹیں آئی ہیں، تاہم بعض مقامی ذرائع نے زخمیوں کی حالتتشویشناک بتا رہے ہیں۔ فی الحال کسی بھی گروپ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سیکیورٹی حکام واقعے کی مختلف زوایوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ طالبان انتظامیہ اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ کوئی باقاعدہ بم دھماکہ تھا یا اسکول کا کوئی بچہ نادانی میں کوئی کھلونا بم یا بارودی مواد اسکول کے اندر لے آیا تھا جو حادثاتی طور پر پھٹ گیا۔
واضح رہے کہ دشتِ برچی کا علاقہ ماضی میں بھی شیعہ اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے تعلیمی اداروں اور مساجد پر دہشتگردانہ حملوں کی زد میں رہا ہے۔

Summary

At least 48 children were injured in a powerful blast at a private school in Kabul’s Hazara-majority Dasht-e-Barchi area. Kabul police confirmed the incident and said the injured were taken to hospitals. No group has claimed responsibility, while authorities are investigating whether it was a deliberate bombing or an accidental explosion involving explosive material.