اسلام آباد میں مذاکرات کے پیشِ نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ، ریڈ زون سیل، ملک بھر میں سخت اقدامات نافذ

اسلام آباد:
متوقع اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے ہیں، جبکہ اسلام آباد کو عملاً ایک محفوظ زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے حساس ترین علاقے ریڈ زون کو مکمل یا جزوی طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جہاں داخلے کے لئے خصوصی اجازت نامہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس، ایوانِ صدر، وزیر اعظم ہاؤس اور اہم سفارتی مشنز کے اطراف سیکیورٹی حصار مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں، جہاں سیکیورٹی اہلکار گاڑیوں اور شہریوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، بشمول اسلام آباد پولیس، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے، جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی، ڈرون مانیٹرنگ اور اسنیفر ڈاگز کی مدد سے سرچ آپریشن شامل ہیں۔ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری ردعمل کے لئے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔
ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لئے خصوصی ٹریفک پلان بھی جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت بعض اہم شاہراہوں کو عارضی طور پر بند یا محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور سیکیورٹی اداروں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز، ہوٹلز اور اہم سرکاری عمارتوں پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات نہ صرف غیر ملکی وفود کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے کئےگئے ہیں بلکہ ایک پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی مقصد ہے، تاکہ مذاکرات بغیر کسی رکاوٹ کے کامیابی سے جاری رہ سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے سخت سیکیورٹی اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اور پاکستان ایک ذمہ دار میزبان کے طور پر اپنی سفارتی ساکھ کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔