خصوصی تحریر: ناصر داوڑ
افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد جنوبی اور وسطی ایشیا کی جیو پولیٹیکل فضا میں شدت پسند تنظیم “داعش خراسان” ایک انتہائی مہلک اور خطرہ ساز قوت کے طور پر ابھری ہے۔ تنظیم کی اس عسکری تابناکی اور عالمی سرحدوں تک پہنچنے کے پیچھے دو بنیادی شخصیات کی قیادت، حکمت عملی اور مالیاتی سرپرستی کارفرما ہے: تنظیم کا مرکزی امیر ثنااللہ غفاری المعروف بہ شہاب المہاجر اور اس کا عملیاتی و مالیاتی سربراہ عبیداللہ المعروف مولوی رجب / صلاح الدین۔ امریکی محکمہ خارجہ کے پروگرام “ریوارڈز فار جسٹس” نے ان دونوں کمانڈروں کی گرفتاری یا معلومات کی فراہمی پر مجموعی طور پر 18 ملین ڈالر (ثنااللہ غفاری کیلئے 8 ملین اور عبیداللہ کیلئے 10 ملین ڈالر ) کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔
داعش خراسان کے ساتویں امیر ثنااللہ غفاری 28 اکتوبر 1994 کو کابل کے ضلع شکر درہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتون قوم کے خروٹی قبیلے سے ہے، جبکہ ان کا خاندانی پس منظر تجارتی اور مذہبی تھا جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار تجارت سے وابستہ رہا۔ ان کے والد، عبد الجبار خان، ماضی میں گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی سے وابستہ رہے اور انہوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ لیا، جس کی بدولت غفاری کو مذہبی اور جہادی ماحول ورثے میں ملا۔
انہوں نے ابتدائی مذہبی تعلیم کابل کے غفاری مدرسے سے حاصل کی اور بعد ازاں 2012 سے 2014 کے دوران کابل یونیورسٹی سے آئی ٹی میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی وہ معروف سلفی عالم دین ابو عبیداللہ متوکل کے فکری اثرات میں آئے اور روایتی حنفی پس منظر سے نکل کر سلفی نقطہ نظر کی جانب راغب ہوئے۔ اسی دور میں وہ افغان مزاحمتی تحریک امارتِ اسلامی افغانستان سے جڑے “حقانی نیٹ ورک” کے ساتھ بھی منسلک ہو گئے۔
غفاری کا عسکری ارتقاء روایتی دیہی جہادی سوچ کے برعکس جدید تکنیکی اور شہری جنگی مہارتوں کا مرکب تھا۔ انہوں نے 2010 میں حقانی نیٹ ورک سے عسکری سفر کا آغاز کیا، جہاں ان کی آئی ٹی اور تکنیکی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں شمالی وزیرستان بلا کر خصوصی عسکری و میڈیا کی تربیت دی گئی۔ 2015 میں وہ داعش کی مرکزی قیادت کے ہاتھ پر بیعت کر کے عراق اور شام کے میدانِ جنگ تک پہنچے، جہاں انہوں نے 35 افغان جنگجوؤں کے خصوصی کمانڈو دستے کی قیادت کی۔
جون 2020 میں داعش نے انہیں آئی ایس کے کا امیر اور “الـصادق آفس” کا سربراہ مقرر کیا۔ امیر بنتے ہی انہوں نے دیہی کنٹرول کی پالیسی ترک کر کے شہروں میں خونی حملوں کی حکمت عملی اپنائی، جن میں اگست 2020 کا جلال آباد جیل حملہ (جس سے 280 تجربہ کار داعشی فرار ہوئے)، اگست 2021 کا کابل ایئرپورٹ حملہ، اور مارچ 2024 کا ماسکو کروکوس سٹی ہال حملہ شامل ہیں۔ طالبان انٹیلی جنس کے ایک آپریشن میں زخمی ہونے کے بعد وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور اس وقت بلوچستان کے سرحدی علاقے میں روپوش سمجھے جاتے ہیں۔
عبیداللہ المعروف مولوی رجب: بم دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ سے عالمی فنانشل چیف تک
اگر ثنااللہ غفاری داعش خراسان کا عسکری دماغ ہیں تو عبیداللہ اس خوفناک مشینری کا شریان اور معاشی انجن ہیں۔ تنظیم کے اندر انہیں مولوی رجب، مولوی رجب صلاح الدین، یا صرف “صلاح الدین” کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کا ابتدائی خاندانی پس منظر انٹیلی جنس اداروں کی محرمانہ (Classified) دستاویزات کا حصہ ہے، تاہم ان کا “مولوی” کا رتبہ پانا اور دینی و فقہی علوم پر عبور رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ تنظیم کے اندر مذہبی و نظریاتی وزن بھی رکھتے ہیں۔
چیف فنانسر بننے سے قبل عبیداللہ کی اصل پہچان کابل اور ننگرہار میں آئی ایس کے کے سب سے زیادہ خطرناک اور خفیہ ‘اسٹرائیک سیلز’ (Attack Cells) کی سربراہی تھی۔ وہ کابل میں اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ، طالبان حکام پر حملوں اور بارود سے بھری گاڑیوں (VBIEDs) کے دھماکوں کے اصل ماسٹر مائنڈ رہے ہیں۔ انہوں نے جولائی 2016 کے کابل مظاہرے پر بم دھماکے لا ماسٹر مائنڈ رہاہے، جس میں مجموعی طور پر 80 ہلاکتیں اور مئی 2020 میں کابل کے میٹرنٹی ہسپتال پر وحشیانہ حملہ کروایا، جس میں ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کی اسی آپریشنل برتاری اور بے رحم نیٹ ورکنگ کی بنا پر انہیں داعش کی علاقائی نظامت الـصادیق آفس کی مالیاتی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
عبیداللہ نے بین الاقوامی معاشی پابندیوں کو ناکارہ بنانے کیلئے تین مضبوط بنیادوں پر اپنا مالیاتی نیٹ ورک قائم کیا:
1. ترکی پر مبنی حوالہ نیٹ ورک: انہوں نے اپنے قریبی معاونین “جیسے عصمت اللہ خلو زئی” کے ذریعے ترکی میں غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی کا ایک منظم نظام بنایا، جس کے ذریعے یورپ اور مشرق وسطیٰ سے آنے والی فنڈنگ کو افغانستان اور پاکستان منتقل کیا جاتا ہے۔
2. تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ (TBML): متحدہ عرب امارات (UAE) کو مرکز بنا کر پرتعیش اشیاء کی خریدو فروخت کا ایک بین الاقوامی بزنس ماڈل چلایا گیا، جس سے حاصل ہونے والے منافع سے عسکری سرگرمیوں کی مالی اعانت کی گئی۔
3. انسانی اسمگلنگ کے کوریڈورز: عبیداللہ کا نیٹ ورک جنگجوؤں اور قاصدوں کو افغانستان سے ایران، ترکی اور آگے یورپ تک منتقل کرنے کیلئے انسانی اسمگلنگ کے راستے استعمال کرتا ہے، جس سے تنظیم کو مالی رقم اور سرحد پار رسائی دونوں حاصل ہوتی ہیں۔
ان ذرائع کے علاوہ انہوں نے کرپٹو کرنسی اور بلیک مارکیٹ کے استعمال سے فنڈز کی ترسیل کو مزید خفیہ بنایا۔ مارچ 2024 کے ماسکو حملہ کیس میں امریکی حکام نے عبیداللہ اور ان کے زیرِ انتظام الـصدیق آفس کو ہی فنڈز اور لوجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ نومبر 2021 میں امریکی حکومت نے انہیں عالمی دہشتگرد قرار دیتے ہوئے ان پر 10 ملین ڈالر کا انعام رکھا، جو کہ تنظیم کے امیر ثنااللہ غفاری کے انعام سے بھی 2 ملین ڈالر زیادہ ہے۔
ثنااللہ غفاری اور عبیداللہ کا باہمی تعلق آئی ایس کے کے اندر فکری و عسکری کمانڈ اور مالیاتی و لوجسٹک انجن کے کامل توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ غفاری تنظیم کا مجموعی وژن، سٹریٹجک منظوری اور عسکری ہدف طے کرتے ہیں، جبکہ عبیداللہ ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے رقم کی ترسیل، ہتھیاروں کی فراہمی اور آپریشنل سیلز کو تحرک فراہم کرتے ہیں۔
غفاری کے تیار کردہ کابل اور ننگرہار کے محفوظ ٹھکانوں (Safe Houses) کو عبیداللہ کا مالیاتی نیٹ ورک مسلسل ایندھن فراہم کرتا رہا ہے۔ جبکہ عبیداللہ کے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک نے تاجکستان، ازبکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں سے نئے جنگجوؤں کو تنظیم میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تجزیاتی رپورٹس اور تنظیم کے عسکری پس منظر کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ ثنااللہ غفاری کی تکنیکی و انجینئرنگ صلاحیتوں نے داعش خراسان کو گوریلا جنگ کے نئے دور میں داخل کیا، جبکہ عبیداللہ کے غیر روایتی معاشی فریم ورک نے شدید بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود تنظیم کو مالی طور پر مستحکم رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے ان دونوں پر مقرر کردہ 18 ملین ڈالر کا انعام اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب تک ان دونوں مرکزی کرداروں کو غیر مؤثر نہیں بنایا جاتا، تب تک نہ صرف پورا خطہ بلکہ امریکہ، یورپ اور روس داعش خراسان کے بیرونی حملوں کی زد میں رہیں گے۔
Executive Summary: ISIS-K’s Dual Threat & US Strategic Priorities
The Core Premise
Following the withdrawal of U.S. and allied forces from Afghanistan, ISIS-Khorasan (ISKP) has emerged as the most formidable and lethal security threat across South and Central Asia. The group’s strategic resilience and expanded global reach rely on a lethal synergy between two key commanders: Sanaullah Ghafari (Central Amir) and Obaidullah (Operational & Financial Chief). The U.S. Department of State’s Rewards for Justice program has placed a combined $18 million bounty on their heads ($8 million for Ghafari and $10 million for Obaidullah).
Key Figures & Operational Roles
1. Sanaullah Ghafari (Shahab al-Muhajir) — The Strategic & Urban Warfare Mastermind
-
Background & Education: Born in Kabul (1994) to a merchant Pashtun family (Kharoti tribe) with ties to Hezb-e-Islami. He holds an IT Engineering degree from Kabul University, bridging technical knowledge with religious extremist ideology influenced by Salafi scholars.
-
Tactical Evolution: Shifted from rural insurgency to aggressive, high-profile urban terrorism upon taking leadership in June 2020.
-
Key Operations: Directed major attacks including the August 2020 Jalalabad Prison break (freeing 280 militants), the August 2021 Kabul Airport bombing, and the March 2024 Moscow Crocus City Hall attack.
2. Obaidullah (Maulvi Rajab / Salahuddin) — The Financial Engine & Strike-Cell Chief
-
Background: Holds deep religious and jurisprudential credentials while heading ISKP’s regional Al-Sadiq Office finance council.
-
Operational History: Spearheaded notorious strike cells in Kabul and Nangarhar responsible for VIP assassinations and devastating VBIED attacks, such as the July 2016 Kabul protest bombing and the May 2020 Kabul Maternity Hospital attack.
-
Global Financial & Logistics Network: Built a tripartite system to bypass international sanctions:
-
Turkey-Based Hawala/Hundi Network: Funneling funds from Europe and the Middle East into South Asia.
-
Trade-Based Money Laundering (TBML): Utilizing UAE luxury goods trading as front businesses.
-
Human Trafficking Corridors: Moving operatives and funds across Iran, Turkey, and Europe.
-
Cryptocurrency Integration: Utilizing digital assets for non-traceable fund transfers.
-
Strategic Interdependence
┌────────────────────────────────────────────────────────┐
│ Sanaullah Ghafari │
│ • Strategic Direction & Target Selection │
│ • Technical & Engineering Capabilities │
└──────────────────────────┬─────────────────────────────┘
│ Mutual Synergy
┌──────────────────────────┴─────────────────────────────┐
│ Obaidullah │
│ • Financial Engine & Crypto/Hawala Laundering │
│ • Recruitment Corridors & Logistics Supply │
└────────────────────────────────────────────────────────┘
Strategic Conclusion
The U.S. bounty reflects a critical geopolitical reality: Ghafari provides technical leadership and strategic vision for urban warfare, while Obaidullah ensures financial liquidity and operational logistics. Until both nodes are neutralized, ISIS-K will remain a persistent, cross-border threat to regional stability, the U.S., Europe, and Central Asia.




