تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ
جنوبی و وسطی ایشیا میں دہشتگردی کے بدلتے ہوئے متحرک عمل کے تحت، داعش خراسان (ISKP) نے اپنے آپریشنل ایجنڈے اور پروپیگنڈا بیانئے میں ایک غیر معمولی اور بنیادی تبدیلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تنظیم نے بیجنگ کو اپنے روایتی اور حریف دشمنوں (امریکہ، روس اور علاقائی حکومتوں) کی صف میں شامل کرتے ہوئے، اس کے خلاف باضابطہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ تحقیقاتی رپورٹ داعش خراسان کے تنظیمی ڈھانچے، اس کے اہم کمانڈروں کے نیٹ ورک، چین کو ہدف بنانے کے تزویراتی محرکات، افریقہ تک مسلح کارروائیوں کی توسیع، اور ترکستان اسلامک پارٹی (TIP) کی درپیش تنظیمی و نظریاتی کشمکش کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے۔
داعش خراسان کا تنظیمی ڈھانچہ، اہم کمانڈرز اور آپریشنل نیٹ ورک
داعش خراسان کی تنظیم کاری ایک باقاعدہ و درجہ بدرجہ ساخت پر مبنی ہے، جس کی قیادت ایک مرکزی شوریٰ کونسل اور ایک امیر کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تنظیم صوبائی سطح کے کمانڈروں اور تکنیکی شعبوں (بشمول لاجسٹکس، مالیات، انٹیلی جنس اور میڈیا) کے ناظمین کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کو چلاتی ہے۔ جون 2020 میں ثناء اللہ غفاری (عرف شہاب المہاجر) کی بطور ساتویں امیر تقرری کے بعد تنظیم نے روایتی دیہی علاقوں کے بجائے پیچیدہ شہری گوریلا جنگ اور بین الاقوامی آپریشنل نیٹ ورکس پر توجہ مرکوز کی۔
ثنا اللہ غفاری، جو 28 اکتوبر 1994 کو کابل میں پیدا ہوئے، کابل یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری کے حامل ہیں اور ان کا خاندانی پس منظر گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی سے جڑا ہوا ہے۔ وہ ماضی میں حقانی نیٹ ورک سے بھی وابستہ رہے اور بعد میں داعش مرکزی کی ہدایت پر خراسان کے امیر بنے۔ غفاری کے زیرِ اہتمام داعش کے “الصدق آفس” کی نگرانی بھی کی جاتی ہے، جو جنوبی و وسطی ایشیا میں داعش کے مقاصد اور ترسیلِ زر کو مربوط کرتا ہے۔
داعش خراسان کے امراء اور قیادت کی ارتقائی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے حافظ سعید خان اورکزئی 2015 سے جولائی 2016 تک اس کے امیر رہے، جو ٹی ٹی پی کے سابق کمانڈر تھے اور انہوں نے پاک افغان سرحدی علاقوں سے ابتدائی کیڈرز کی بھرتی کی۔ 26 جولائی 2016 کو وہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔ ان کے بعد عبدالحسیب لوگری (ابو عمیر عبدالحسیب) جولائی 2016 سے اپریل 2017 تک اس منصب پر رہے جنہوں نے کابل میں فوجی ہسپتال پر حملے اور شہری علاقوں میں نیٹ ورک کو وسعت دی، اور 27 اپریل 2017 کو ننگرہار میں امریکی چھاپے میں مارے گئے۔ اپریل 2017 سے جولائی 2017 تک عبدالرحمٰن غالب (ابو سعید باجوڑی) باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے قائد رہے جو مختصر دورِ قیادت کے دوران 11 جولائی 2017 کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔ پھر جولائی 2017 سے اگست 2018 تک ابو سعد اورکزئی (ابو سعد انہابی) نے ننگرہار اور کنڑ میں روایتی جنگی مراکز کا تحفظ کیا اور 25 اگست 2018 کو امریکی و افغان زمینی چھاپے میں مارے گئے۔
اگست 2018 سے اپریل 2019 تک ضیاء الحق (ابو عمر الخراسانی) اس عہدے پر رہے جنہیں ناکافی آپریشنل کارکردگی کی بنا پر داعش مرکزی نے برطرف کر دیا اور وہ 2020 میں افغان افواج کے ہاتھوں گرفتار ہو کر بعد میں طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ اپریل 2019 سے اپریل 2020 تک مولوی اسلم فاروقی (مولوی عبداللہ اورکزئی) نے پاکستان کے اورکزئی/خیبر ایجنسی نیٹ ورک کے سربراہ کے طور پر کام کیا، جو اپریل 2020 میں افغان سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور جنوری 2022 میں ہلاک ہوئے۔ اپریل 2020 سے تاحال ثناء اللہ غفاری (شہاب المہاجر) کنڑ اور بلوچستان کے سرحدی خطے میں نقل و حرکت کرتے ہوئے کابل ایئرپورٹ حملے (2021)، مساجد و سفارت خانوں پر حملے اور چین مخالف مہم کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر سرگرم ہیں۔
اہم نچلے اور آپریشنل کمانڈروں میں قاری فاتح شامل ہیں جو داعش خراسان کے سابق ملٹری چیف اور انٹیلی جنس ہیڈ تھے اور کابل میں روسی و پاکستانی سفارت خانوں اور چینی شہریوں کے ہوٹل پر حملوں کے منصوبہ ساز تھے (فروری 2023 میں طالبان کے انٹیلی جنس آپریشن میں ہلاک ہوئے)۔ مولوی رجب اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل سینئر کمانڈر ہیں جو کابل اور گرد و نواح میں سلیپر سیلز کی منظوری دیتے ہیں۔ سلطان عزیز اعظم داعش کے بااثر ترجمان رہے جو العزائم میڈیا کے ذریعے بھرتی اور پروپیگنڈے کی نگرانی کرتے تھے۔ ابو عثمان کشمیری مقبوضہ کشمیر میں خلئے کے امیر اور بین الاقوامی کوآرڈینیٹر تھے جو فروری 2023 میں ہلاک ہوئے۔ ابو سعد محمد الخراسانی شوریٰ کونسل کے ارشد رکن اور نظریاتی رہنما تھے جو اپریل 2023 میں صوبہ بلخ میں مارے گئے۔ انجینئر عمر اور ڈاکٹر حسین بالترتیب کابل کے نائب امیر اور ہرات کے ملٹری قوم پرست کمانڈر تھے جو 2023 میں طالبان انٹیلی جنس کے آپریشنز میں ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ محمد شریف اللہ (عرف جعفر) اگست 2021 کے کابل ایئرپورٹ خودکش حملے کے روٹ پلانر اور لاجسٹک انچارج تھے۔ داعش خراسان کی مالیاتی سرگرمیاں ایک جانب داعش مرکزی کی گرانٹس اور دوسری جانب مقامی سطح پر معدنیات کی بلیک مارکیٹ، بھتہ خوری، حوالہ اور کرپٹو کرنسی نیٹ ورکس پر منحصر ہیں۔
چین کے خلاف داعش خراسان کی تیز تر کارروائیوں کے بنیادی محرکات
بیجنگ کے خلاف مسلح کارروائیوں اور پروپیگنڈے میں شدت لانا داعش خراسان کا ایک سوچا سمجھا تزویراتی قدم ہے، جس کا مقصد اپنے وجود کو خطے کے سب سے زیادہ متحرک اور خطرہ بننے والے گروہ کے طور پر ثابت کرنا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ابھرتی ہوئی معاشی اور فوجی سپر پاور کے طور پر چین کے مفادات پر حملہ کرنا داعش کو عالمی ذرائع ابلاغ میں فوری اور وسیع کوریج فراہم کرتا ہے۔ یہ کوریج تنظیم کیلئے آکسیجن کی مانند ہے، جو وسطی ایشیائی ممالک سے نچلے درجے کے جنگجوؤں کی بھرتی اور فنڈنگ میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
علاوہ ازیں، اس حکمت عملی کا ایک بڑا مقصد افغان طالبان کی حکمرانی اور دینی ساکھ کو کمزور کرنا ہے۔ طالبان حکومت نے بیجنگ کے ساتھ قریبی سفارتی، سیکیورٹی اور معاشی تعلقات استوار کر رکھے ہیں، اور داعش اپنے پروپیگنڈے میں یہ بیانیہ پیش کرتی ہے کہ طالبان نے دین اور اویغور مسلمانوں کا سودا کر لیا ہے اور وہ ایک کافر و ملحد طاقت کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ بیجنگ کی جانب سے صوبہ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے خلاف اختیار کی گئی سخت سیکیورٹی پالیسیوں اور حراستی کیمپوں کو داعش اپنے پروپیگنڈے کے مرکز میں رکھتی ہے، تاکہ القاعدہ اور طالبان کی اس معاملے پر خاموشی کے برعکس اویغور جنگجوؤں اور ہمدردوں کو اپنی طرف مائل کیا جا سکے۔ ساتھ ہی، داعش خراسان چین کی معاشی توسیع پسندی بالخصوص بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) اور معدنیاتی سرمایہ کاری کو معاشی سامراجیت قرار دے کر اسے نشانہ بناتی ہے۔
چین مخالف مسلح کارروائیاں اور جغرافیائی دائرہ کار کا افریقہ تک پھیلاؤ
2025 تک داعش خراسان کی چین مخالف مسلح کارروائیاں بنیادی طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا تک محدود تھیں، تاہم مارچ 2026 میں اس دائرہ کار میں غیر معمولی تزویراتی وسعت دیکھی گئی۔ اس حوالے سے کئی اہم مسلح حملے ریکارڈ پر آئے ہیں: جون 2017 میں مستونگ (بلوچستان) میں 2 چینی لینگویج اساتذہ کو اغوا کے بعد ٹارگٹڈ قتل کیا گیا جس سے سی پیک کی سیکیورٹی کے حوالے سے بین الاقوامی خدشات ابھرے۔ 12 دسمبر 2022 کو کابل کے شہرِ نو میں واقع چینی تاجروں کی پناہ گاہ “کابل لونگان ہوٹل” کو بم دھماکوں اور فائرنگ سے نشانہ بنایا گیا جس کے ماسٹر مائنڈ قاری فاتح تھے۔ 11 جنوری 2023 کو کابل میں وزارتِ خارجہ کے داخلی راستے پر چینی وفد کی آمد کے وقت خودکش بم دھماکہ کیا گیا جس میں متعدد افغان شہری اور اہلکار ہلاک ہوئے۔ جنوری 2025 میں صوبہ تخار میں چینی کان کنی کا ملازم اور مقامی مترجم ٹارگٹڈ فائرنگ میں مارے گئے۔ جنوری 2026 میں کابل میں چینی شہریوں کے معروف ریستوران پر خودکش بم دھماکے میں 6 افغان اور 1 اویغور مسلم ہلاک ہوا، اور وائس آف خراسان میں سنکیانگ کی پالیسیوں کے خلاف انتقام کا رسمی اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد مارچ 2026 میں جمہوریہ کانگو (DRC) کے صوبہ ایتوری میں چینی ملکیتی سونے کی کان پر داعش وسطی افریقہ (ISCAP/ADF) کے جنگجوؤں کا شب خون پڑا، جو افریقہ میں چین کے اقتصادی اثاثوں کے خلاف مہم کی باقاعدہ توسیع کا نقطہ آغاز تھا۔
داعش مرکزی نے اپنے تمام علاقائی ولایتوں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی چین کے معاشی مفادات موجود ہیں، انہیں آسان ہدف سمجھ کر نشانہ بنایا جائے۔ پروپیگنڈا محاذ پر تنظیم اپنے ششماہی اور ماہانہ انگریزی مجلے “وائس آف خراسان” کو استعمال کرتی ہے، جو العزائم میڈیا فاؤنڈیشن کے ذریعے شائع ہوتا ہے۔ جنوری 2026 کے کابل ریستوران حملے کے بعد مجلے کے شمارہ 37 اور 38 میں شائع ہونے والے تفسیری مقالوں میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ یہ کارروائیاں سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے خلاف جبر کا براہِ راست بدلہ ہیں اور بیجنگ کے مفادات کو تحفظ دینے والا ہر شخص داعش کے نشانے پر ہوگا۔
ترکستان اسلامک پارٹی (TIP) کا خاموشی کا روزہ اور درپیش تنظیمی دباؤ
ترکستان اسلامک پارٹی (TIP)، جو اویغور مسلمانوں کی مسلح جدوجہد کی علمبردار رہی ہے، اس وقت اپنے قیام کے سنگین ترین سیاسی و آپریشنل بحران سے گزر رہی ہے۔ افغان طالبان کی حکومت نے بیجنگ کے ساتھ یہ باضابطہ سیکیورٹی معاہدہ کر رکھا ہے کہ افغان سرزمین کو چین کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس ضمانت پر عمل درآمد کیلئے طالبان انٹیلی جنس نے TIP کے جنگجوؤں کو واخان کوریڈور اور بدخشان سے نکال کر جنوبی و اندرونی حصوں میں منتقل کر دیا ہے اور ان کی عسکری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس نے TIP کو خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس شدید خارجی دباؤ اور الگ تھلگ پڑنے کے خطرے سے بچنے کیلئے، TIP نے جولائی 2025 میں اپنے تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی اور روایتی عالمی مذہبی بیانئے سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے قوم پرست علیحدگی پسند بیانئے کو فروغ دینا شروع کیا، تاکہ وہ اپنے کیس کو ایک مقامی آزادی کی تحریک کے طور پر پیش کر سکے۔ اس وقت TIP کے سامنے تین دشوار گزار راستے ہیں: اولاً طالبان اور القاعدہ کے ساتھ وفاداری برقرار رکھتے ہوئے افغانستان میں پناہ تو محفوظ رکھی جائے مگر چین کے خلاف عسکری سرگرمیاں ہمیشہ کیلئے منجمد کر دی جائیں، ثانیاً وہ سخت گیر اویغور عناصر جو طالبان کے روئے سے مایوس ہیں، وہ داعش خراسان میں شامل ہو جائیں جو بیجنگ کے خلاف کھلم کھلا جنگ لڑ رہی ہے؛ اور ثالثاً عالمی جہادیوں سے تعلق توڑ کر محض مشرقی ترکستان کی قومی آزادی کا ایجنڈا اپنایا جائے، حالانکہ اس صورت میں بھی انہیں طالبان کے سیکیورٹی حصار کا سامنا رہے گا۔
داعش خراسان اور TIP کے معکوس تعلقات اور بھرتی کا میکانزم
نظریاتی سطح پر داعش خراسان اور TIP کی باضابطہ قیادت کے درمیان کسی قسم کا رسمی تزویراتی اتحاد یا آپریشنل رابطہ موجود نہیں ہے، کیونکہ TIP افغان طالبان کے امیر کی بیعت اور القاعدہ سے وفاداری رکھتی ہے جبکہ داعش ان دونوں کو مرتد قرار دیتی ہے۔ باضابطہ رابطے کے عدم وجود کے باوجود، دونوں گروہوں کے درمیان ایک غیر مستقیم لیکن اثر انگیز تعلق پایا جاتا ہے۔ غیر رسمی طور پر TIP کے صفوں میں موجود کچھ افراد اس بات سے اندرونی طور پر مطمئن ہیں کہ داعش ان کی جگہ بیجنگ کو ہدف بنا رہی ہے تاکہ اویغور کا مقدمہ زندہ رہے، اور اس دوران TIP طالبان کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے آڈٹ سے بھی بچی رہتی ہے۔
دوسری طرف، داعش خراسان بڑی ہوشیاری سے TIP کی صفوں میں پائے جانے والے اضطراب کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اویغور زبان میں پروپیگنڈا لٹریچر اور ویڈیوز کی اشاعت کے ذریعے وہ ان ناخوش کیڈرز کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اپنی قیادت نے طالبان کے آگے گھٹنے ٹیک دئے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، TIP کے نوجوان اور سخت گیر جنگجو انفرادی یا چھوٹے گروہوں کی شکل میں داعش خراسان میں شامل ہو رہے ہیں۔
داعش خراسان کی جانب سے چین کو ہدف بنانے کی پالیسی محض ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ اس کی طویل المدتی تزویراتی بقا کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ بیجنگ پر حملے کر کے داعش نہ صرف بین الاقوامی میڈیا میں زندہ رہتی ہے بلکہ افغان طالبان کے سیکیورٹی و معاشی دعوؤں کا پول بھی کھولتی ہے۔ افریقہ میں چینی اثاثوں کو نشانہ بنانا اور وائس آف خراسان کے ذریعے سنکیانگ کے مسئلے کی تشهیر اس بات کا ثبوت ہے کہ داعش کا دائرہ اثر اب عالمگیر سطح پر پھیل چکا ہے۔ دوسری جانب، ترکستان اسلامک پارٹی کی قوم پرستی کی جانب منتقلی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ طالبان کے دباؤ نے اویغور عسکریت پسندی کو تقسیم کر دیا ہے، جہاں ایک حصہ طالبان کی چھتری تلے خاموش ہے تو دوسرا حصہ داعش خراسان کے پرچم تلے جمع ہو رہا ہے۔ یہ پیچیدہ صورت حال آنے والے وقت میں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور افریقہ میں چین کی معاشی سرمایہ کاری کیلئے ایک شدید اور دیرپا سیکیورٹی چیلنج کی شکل اختیار کرتی رہے گی۔
Executive Summary: ISKP’s Anti-China Strategy, Organizational Structure, and Complex Ties with the Turkistan Islamic PartyAmid shifting security dynamics in South and Central Asia, the Islamic State Khorasan Province (ISKP) has fundamentally altered its operational and propaganda focus by launching a formal campaign against Beijing, treating China alongside its traditional rivals (the United States, Russia, and regional governments).
1. Leadership Evolution and Operational Network
Since Sanaullah Ghafari (alias Shahab al-Muhajir) assumed leadership in June 2020, ISKP shifted from rural insurgency to urban guerrilla warfare and international networks. Ghafari oversees the “Al-Sadiq Office,” which coordinates regional objectives and funding. The group’s previous emirs such as Hafiz Saeed Khan, Abdul Hasib Logari, and Abdul Rauf Alokozai were largely eliminated through U.S. and Afghan operations between 2016 and 2020. Key operational commanders, including the late Qari Fateh, managed attacks on foreign embassies and Chinese nationals in Kabul, while financing relies on central IS grants, local extortion, mineral black markets, hawala, and cryptocurrencies.
2. Strategic Motives Behind Targeting China
Media Oxygen and Global Relevancy: Striking a global superpower provides ISKP with immediate media coverage, aiding in the recruitment of lower-tier fighters from Central Asia.
Undermining the Afghan Taliban: ISKP exploits the Taliban’s diplomatic and economic ties with Beijing, branding them as “apostates” who have sold out Islam and the Uyghur cause.
Exploiting the Uyghur Cause: ISKP capitalizes on China’s security policies in Xinjiang, presenting itself as the sole champion of oppressed Uyghurs compared to the silence of Al-Qaeda and the Taliban.
Opposing the Belt and Road Initiative (BRI): ISKP frames Chinese economic expansion and infrastructure projects as “economic imperialism.”
3. Geographic Expansion of Attacks
While anti-China attacks were initially restricted to Pakistan (e.g., the 2017 kidnapping and killing of two Chinese teachers in Mastung) and Afghanistan (such as the December 2022 attack on the Kabul Longan Hotel and the January 2026 blast at a Chinese restaurant in Kabul), the threat expanded globally. In March 2026, IS-Central African Province (ISCAP/ADF) attacked a Chinese-owned gold mine in Ituri, Democratic Republic of Congo (DRC), marking the expansion of anti-China operations into Africa. ISKP’s English-language magazine, Voice of Khorasan, regularly publishes propaganda rationalizing these attacks as retaliation for Xinjiang.
4. The Dilemma and Restructuring of the Turkistan Islamic Party (TIP)
The TIP, a historic vanguard of the Uyghur armed struggle, is facing a severe political and operational crisis. Bound by the Afghan Taliban’s security agreement with Beijing which bans using Afghan soil against China the Taliban relocated TIP fighters away from border regions (like Badakhshan and the Wakhan Corridor) and silenced their military activities.
In July 2025, TIP underwent structural reforms, shifting from a pan-Islamist jihadist narrative toward a nationalist-separatist framework to position itself as a local liberation movement. The group faces three difficult paths:
1. Remaining loyal to the Taliban and Al-Qaeda while permanently freezing anti-China military activities.
2. Defecting to ISKP for those unwilling to halt the armed struggle.
3. Abandoning global jihad entirely to pursue exclusive East Turkistan independence.
5. Inverse Relations and Recruitment Leakage
While no formal strategic alliance exists between ISKP and TIP due to profound ideological differences (with ISKP viewing the Taliban and their allies as apostates), an informal dynamic exists:
Passive Acceptance: Some rank-and-file TIP members privately welcome ISKP targeting Beijing, keeping the Uyghur issue alive globally while insulating TIP from Taliban scrutiny.
Recruitment Leakage: ISKP leverages Uyghur-language propaganda to attract frustrated, hardline TIP cadres who feel their leadership surrendered to the Taliban. Consequently, radicalized members are increasingly drifting individually or in small groups into ISKP’s ranks.
Conclusion
ISKP’s anti-China strategy has become central to its long-term survival, enabling it to challenge the Taliban’s governance legitimacy and expand its global footprint into Africa. Meanwhile, heavy Taliban pressure has split the Uyghur militant landscape, driving marginalized elements directly into the fold of ISKP and posing a persistent, long-term security challenge to Chinese investments across Asia and Africa.
About the Author
Nasir Dawar is a field journalist, researcher, and editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, and security developments in Khyber Pakhtunkhwa and the former FATA. He has closely followed the Afghan conflict and developments in Afghanistan, with a particular focus on militancy, cross border security, and Pakistan, Afghanistan relations.
Dawar has reported extensively from conflict affected areas and has developed a specialized research focus on militant movements, regional security dynamics, and Afghan affairs. He serves as the Editor of The Khyber Times.
Contact: dawarjan@gmail.com +92 3109020962




