پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی کی طرف سے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے حکمرانوں کو عوامی مطالعے اور مذاکرات کیلئے مجبور کر دے گی۔
شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ تحریک انصاف نے کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے، تاہم حکومت کا رویہ منافقانہ ہے۔ وفاقی حکومت میڈیا اور ٹی وی چینلز کی حد تک تو مذاکرات کی باتیں کرتی ہے لیکن عملاً اس پر کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر حکومت حقیقی معنوں میں بات چیت کرنا چاہتی ہے تو پی ٹی آئی اس کیلئے پوری طرح تیار ہے، اور موجودہ حالات میں وفاقی حکومت کو آخر کار مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔ ہم اپنی حکمت عملی کے ذریعے انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
صوبائی خودمختاری کے دفاع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق کے پاس یہ اختیار نہیں رہتا کہ وہ صوبائی معاملات میں بلاجواز مداخلت کرے۔ پولیس ایکٹ صوبے کا خالصتاً داخلی اور آئینی اختیار ہے، اور صوبائی حکومت کی یہ پرخلوص خواہش ہے کہ پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک اور مکمل طور پر آزاد بنایا جائے، اسی مقصد کے تحت یہ قانون سازی کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی انتقام کی تمام حدیں پار کر چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالتوں کے واضح احکامات کی روشنی میں فوری طور پر ان کی صحت کے مطابق طبی سہولیات اور معیاری علاج فراہم کیا جائے۔




