An editorial illustration in a vintage comic book style. At the top center, large Urdu text reads "Khyber Pakhtunkhwa: Unrest at Peak, Parliament Silent". A complex collage of figures and scenes is depicted. In the center, a group of diverse Pakistani politicians is gathered, with one figure in a suit holding a paper that reads "NON-ISSUES گولی مارو" (NON-ISSUES, Shoot). Below them, more Urdu text states "Bodies of Martyrs, Economic Escape" and "Is the province at the mercy of God?". On the right, a hand holds a briefcase labeled "FACTORY OWNER", and another hand holds a notepad labeled "EXTORTION - bhata". Buildings in the background have signs in Urdu and English reading "FOR SALE" and "MOVE TO PUNJAB" (پنجاب کے لئے منتقل کریں). A circular chamber resembling parliament is at the top right. On the left, Khyber Pakhtunkhwa police and army personnel stand in ranks. Posters behind them honor "MARTYR OF YOUNG SOLDIERS". A police checkpost is visible on a mountain peak in the background. A Pakistani flag is present. The overall aesthetic is a gritty, hand-drawn comic panel with a muted color palette.

بدامنی کی آگ میں جلتا خیبر پختونخوا: شہدا کے لاشے، معاشی فرار اور مصلحت پسند سیاست

کیا صوبہ اللہ کے رحم و کرم پر ہے؟ سیکیورٹی چیلنجز، بکھری قیادت اور نان ایشوز پر الجھی قوم کا تحقیقی جائزہ

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ:

خیبر پختونخوا میں بدامنی، دہشتگردی اور خون ریزی کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے جو روز بروز مزید ہولناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آئے دن ہمارے سیکیورٹی اہلکار اور پولیس کے جوان نشانہ بن رہے ہیں اور ان کی لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ ایک واقعے کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا واقعہ رونما ہو رہا ہے، جس کے بعد اب صورتحال اس حد تک نازک ہو چکی ہے کہ عوام میں یہ تاثر شدت اختیار کر رہا ہے کہ یہ تاریخی اور غیور صوبہ اس وقت کسی واضح اور ٹھوس پالیسی کے بغیر محض اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

امن و امان کی اس مکمل تباہی کا راست اور سب سے مہلک اثر صوبے کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت بھتہ خوری اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، جہاں چھوٹے تاجروں سے لے کر بڑے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں تک، کوئی بھی شدت پسندوں کے خوف اور دھمکیوں سے محفوظ نہیں رہا۔ پشاور کے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ، ہری پور اور دیگر صنعتی علاقوں سے سرمائے کا تیز رفتار فرار جاری ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر صنعت کار اور کاروباری شخصیات صوبے سے اپنے ملکیتی اثاثے منتقل کر کے پنجاب، اسلام آباد یا بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر مقامی کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں، روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور عام شہری بدامنی کے ساتھ ساتھ معاشی ناکہ بندی کی دوہری چکی میں پس رہا ہے۔

کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کی مسجد پر ہونے والا حالیہ خودکش حملہ، جس کی ذمہ داری حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) نے قبول کی، محض ایک سیکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ ریاستی قلمرو پر ایک براہِ راست حملہ تھا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ دہشتگرد اب صرف دور دراز قبائلی اور دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے سیکیورٹی مراکز تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ اگرچہ سیکیورٹی ادارے اور پولیس کے جوان بے مثال قربانیاں دے کر اینٹی ٹیررازم آپریشنز کر رہے ہیں، لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مختلف انتظامی سطحوں پر پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کاری کی کمی، انٹیلی جنس شیئرنگ کے خلا اور آپریشنل اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ کئی اضلاع میں سرکاری عمل داری اس حد تک کمزور یا برائے نام رہ گئی ہے کہ شدت پسند گروہ اس کا پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

دہشتگردی کے اس بھیانک ناسور سے نمٹنے کیلئے جس قومی یکجہتی، ہم آہنگی اور تمام اداروں کے ایک پیج پر ہونے کی ضرورت تھی، اس کا دور دور تک پتا نہیں ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومت کی تمام تر توانائیاں اور سیاسی تحرک وفاق مخالف احتجاج اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے صوبائی سیکیورٹی اور عوام کی جانی و مالی حفاظت ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت اپنے سیاسی اتحاد کو بچانے اور اسلام آباد میں اپنے اقتدار کو دوام دینے کے چکر میں خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی فریم ورک کی طرف وہ توجہ نہیں دے رہی جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح سیکیورٹی ادارے یکطرفہ آپریشنل اقدامات کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں سول ایڈمنسٹریشن اور سیاسی قیادت کی طرف سے وہ یکسوئی اور سیاسی چھتری میسر نہیں جو کسی بھی جنگ کو جیتنے کیلئے بنیادی شرط ہوتی ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں ہماری پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کی خاموشی انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں اور مذہبی و قومی جماعتوں کے رویوں میں شدت پسندوں کیلئے ایک نام نہاد “نرم گوشہ” یا سیاسی مصلحت پسندی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ عام لوگ اس بات پر سراپا احتجاج اور پریشان ہیں کہ جب ریاست کے پاس تمام تر طاقت اور وسائل موجود ہیں تو شدت پسند روز بروز اتنے منظم اور طاقتور کیسے ہوتے جا رہے ہیں۔ قوم کو اصل مسائل یعنی امن و امان، بھتہ خوری اور معاشی تباہی سے ہٹا کر محض نان ایشوز اور سیاسی ڈرامے بازیوں میں الجھا دیا گیا ہے۔ خود صوبائی حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کے اندر بھی گلے شکوے اور دھڑے بندیاں نمایاں ہیں، لیکن عوامی بقا کے اس سنجیدہ مسئلے پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔

خیبر پختونخوا کی اس ابتر صورتحال کو ملک کے مجموعی سیکیورٹی منظر نامے اور جغرافیائی سیاسی صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایک طرف جہاں خیبر پختونخوا جلا ہوا ہے، وہیں بلوچستان میں بھی بدامنی نے مکمل ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور کالعدم تنظیمیں مسلسل ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان کی مغربی سرحد پر کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ چکی ہے اور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات شدید کھٹاس کا شکار ہیں۔ ان تمام کڑیوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ سوال انتہائی اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ محض ہماری اندرونی انتظامی ناکامی ہے یا پھر پاکستان کو مغربی سرحدوں اور اندرونی طور پر مستقلاً غیر مستحکم رکھنے کیلئے کسی بڑے بیرونی کھیل اور ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ؟

خیبر پختونخوا اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں محض مذمتی بیانات، اخباری خبروں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے حالات پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔ کوہاٹ کا سانحہ اور روزانہ گرنے والے شہدا کے لاشے تمام اربابِ اختیار سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے۔ اگر اب بھی وفاق، صوبہ اور سیکیورٹی ادارے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر ایک واضح، یکسو اور متفقہ لائحہ عمل پر عمل پیرا نہ ہوئے تو بدامنی کی یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی جہاں سے واپسی کی کوئی راہ نہیں بچے گی۔

Executive Summary: Rising Instability, Economic Exodus, and Governance Failure in Khyber Pakhtunkhwa

* Escalating Security Crisis: Khyber Pakhtunkhwa faces an unchecked surge in terror attacks targeting security forces and police personnel. The persistent loss of lives has reinforced a widespread public perception that the province has been left without a coherent counter-terrorism policy.
* Economic Breakdown & Capital Flight: Soaring extortion (bhatta) targeting small merchants and major industrialists has triggered a rapid capital flight. Business owners are abandoning industrial hubs like Hayatabad and Haripur to relocate to Punjab, Islamabad, or abroad, leaving the local economy crippled and employment opportunities depleted.
* Operational Vulnerabilities & Coordination Gaps: The suicide attack on the Kohat Police Lines mosque claimed by the Hafiz Gul Bahadur group’s Ittihad-ul-Mujahideen Pakistan (IMP) exposed critical security breaches in high-security zones. The incident highlights operational rifts, intelligence-sharing vacuums, and institutional friction between police and security agencies.
* Political Apathy & Misplaced Priorities: Parliament and political leadership remain largely passive, with certain political factions exhibiting a “soft corner” for militants. The provincial government’s primary focus remains locked on political agitations and party leadership release rather than provincial security, while federal-provincial friction prevents a unified counter-terrorism strategy.
* Regional & Geopolitical Dimensions: The crisis in KP runs parallel to worsening instability in Balochistan and deteriorating diplomatic relations with Afghanistan’s Taliban administration. This alignment raises concerns over a broader hybrid warfare strategy aimed at permanently destabilizing Pakistan’s western border region.

About Author: Nasir Dawar Editor The Khyber Times and researcher. Contact: dawarjan@gmail.com