دی خیبر ٹائمز: خصوصی رپورٹ
پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل اور دیگر شعبہ جات کے طلباء کی مبینہ ملک بدری اور ویزا تجدید میں درپیش مشکلات نے ایک نیا سیاسی و سفارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ایک جانب جہاں سوشل میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس عمل پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، وہیں دفترِ خارجہ نے کسی بھی قسم کی عمومی پابندی کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کارروائی صرف ان افراد کے خلاف ہو رہی ہے جن کی دستاویزات میں کمی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران افغان طلباء کے معاملے پر پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تمام افغان طلباء کو نکالنے کا کوئی عمومی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق وہ تمام افغان طلباء جو پاکستان میں کسی مستند تعلیمی ادارے میں رجسٹرڈ ہیں اور جن کے پاس قانونی ویزا موجود ہے، وہ بلا خوف و خطر اپنی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جو افراد قانونی ویزا کے بغیر، وزٹ ویزا پر، یا غیر رجسٹرڈ اداروں کے ذریعے مقیم ہیں، انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت واپس جانا ہوگا۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے حوالے سے انہوں نے نشاندہی کی کہ طلباء کی اسناد یا ویزا میں موجود تکنیکی اور قانونی خامیوں کے باعث کارروائی کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ افغانستان ہمارا دشمن ملک نہیں ہے اور دونوں اقوام کے درمیان صدیوں پرانے تہذیبی تعلقات ہیں، تاہم سرحدی و اندرونی سیکیورٹی اور دہشتگردی کے تحفظات کی بنیاد پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
اسلام آباد میں قائم افغان سفارتخانے اور کابل کی عبوری حکومت نے اس معاملے پر اپنے شدید تحفظات سے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا ہے۔ افغان سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل کے سینکڑوں طلباء و طالبات سالہا سال سے پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور تعلیمی سال کے وسط میں اس طرح کے اقدامات سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔ افغان انتظامیہ نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ تعلیم جیسے انسانی معاملے کو سیاسی و سیکیورٹی کشیدگی سے الگ رکھا جائے اور طلباء کو ویزوں کی تجدید اور اسناد کی قانونی کارروائی مکمل کرنے کیلئے مناسب وقت اور سہولت فراہم کی جائے۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور فیس بک اور ٹک ٹوک پر افغان میڈیکل طلباء کی مبینہ بے دخلی کے خلاف ایک منظم مہم دیکھنے میں آئی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور شہریوں نے ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں بہاولپور اور دیگر شہروں سے قانونی ویزا رکھنے والے بعض طلباء کو بھی واپس بھیجنے کا دعویٰ کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے، لہٰذا زیرِ تعلیم طلباء، بالخصوص میڈیکل اسٹوڈنٹس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے تاکہ پاکستان اور افغانستان عوام کے درمیان موجود تاریخی اور عوامی تعلقات متاثر نہ ہوں۔
سیاسی سطح پر جماعتِ اسلامی نے افغان طلباء کے ساتھ کئے جانے والے سلوک اور ملک بدری کے اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے مرکزی رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلباء و طالبات پر اچانک پابندیاں عائد کرنا اور انہیں ہراساں کرنا اسلامی اخوت اور جیو پولیٹیکل بصیرت کے منافی ہے۔
جماعتِ اسلامی نے وفاقی حکومت اور وزراتِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں، PMDC اور وزراتِ تعلیم کے ذریعے طلباء کے انتظامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور کسی بھی طالب علم کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں درپیش موجودہ تناؤ کے باوجود تعلیمی و انسانی شعبوں کو تحفظ فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دفترِ خارجہ کے واضح بیان کے بعد اب گیند انتظامی اداروں جیسے کہ PMDC، ایف آئی اے اور وزراتِ داخلہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان افغان طلباء کی قانونی دستاویزات کی شفاف اور تیز تر تصدیق یقینی بنائیں تاکہ بلاوجہ کی کوئی بھی طالبعلم پریشانی سے بچ سکے۔
EXCLUSIVE SUMMARY: Afghan Medical Students’ Visa Crisis in Pakistan – Foreign Office Clarification, Diplomatic Concerns, and Political Backlash
- Foreign Office Position: Pakistan’s Ministry of Foreign Affairs has refuted claims of a “blanket ban” on Afghan students, clarifying that students enrolled in valid degree programs with valid visas are fully permitted to complete their education. Action is strictly limited to individuals residing on visit visas, lacking legal documentation, or possessing deficiencies in their PMDC (Pakistan Medical and Dental Council) registration.
- Kabul’s Diplomatic Concerns: The Afghan Embassy in Islamabad and the interim administration in Kabul have expressed deep concern, warning that mid-session actions put the academic future of hundreds of medical students at risk. They have urged Islamabad to separate educational and humanitarian matters from bilateral security friction and grant students adequate time to resolve visa renewals.
- Political Condemnation: Jamaat-e-Islami has strongly criticized the government’s stance, describing the harassment and abrupt deportation directives as contrary to Islamic brotherhood and geopolitical prudence. The party demanded an immediate policy review and a streamlined mechanism through the Ministry of Interior and PMDC to prevent academic disruption.
- Public & Social Media Backlash: Civil society activists, journalists, and online commentators have voiced strong opposition to reported deportations, highlighting instances where enrolled students faced procedural hurdles. Critics emphasized that Pakistan’s decades-long hospitality toward Afghan refugees should extend to international medical trainees through administrative flexibility.
- Strategic Outlook: While Pakistan maintains that border security and anti-terrorism protocols remain non-negotiable, experts emphasize that expedited, transparent verification by PMDC and immigration authorities is essential to resolve administrative backlogs and eliminate widespread panic among the student body.
- Nasir dawar Editor The Khyber Times & Researcher. Contact: dawarjan@gmail.com




