English: Map graphic of Afghanistan titled 'The Afghan Front: Strategic Turmoil' highlighting conflict zones in Badakhshan, Nangarhar deployment, and Kabul against a rugged mountain military backdrop.

قندھار کا کنٹرول، بدخشاں کی بغاوت: امارتِ اسلامیہ کی حاکمیت اور ابھرتے عسکری چیلنجز

دی خیبر ٹائمز خصوصی تحقیق

اگست 2021 میں طالبان کی کابل واپسی کے بعد سے افغانستان کا سیاسی، سیکیورٹی اور اسٹریٹجک منظر نامہ ایک مسلسل ہیجان سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف امارتِ اسلامیہ ملک بھر پر اپنے مکمل انتظامی کنٹرول کا دعویٰ کرتی ہے، تو دوسری جانب جلاوطن عسکری قیادت، تحریکی صفوں میں ابھرتے ہوئے تعصبی و معاشی اختلافات، اور عالمی عسکریت پسند تنظیموں کی تحریص امارتِ اسلامیہ کی حاکمیت کیلئے شدید چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔
سابق افغان نیشنل آرمی کی معزول قیادت اور سابق انٹیلی جنس (NDS) کے اعلیٰ حکام پر مشتمل افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (AUF) نے جنرل سمیع سادات کی قیادت میں طالبان کے خلاف باقاعدہ عسکری تحریک کا اعلان کیا ہے۔ اگست 2026 میں اس گروہ کی جانب سے عملیاتِ محارب شروع کرنے کا دعویٰ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ اپوزیشن اب سیاسی مذاکرات کی تمام گنجائشیں ختم سمجھتی ہے۔

امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم جنرل سمیع سادات اگرچہ واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں لابنگ کے ذریعے طالبان کی بین الاقوامی تسلیم شدہ حیثیت کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم زمین پر ان کی عملی افادیت محدود نفاذ اور گوریلا طرز کی متفرق کارروائیوں تک ہی منحصر ہے۔ قندھار، ہلمند اور بدغیس میں ہونے والے بعض حملوں کی ذمہ داری قبول کر کے یہ جلاوطن قیادت یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ ملک کے اندر موجود زیرِ زمین سلیپر سیلز کی مالی اور عملیاتی معاونت کر سکتی ہے۔
طالبان کی نفسیاتی حالت کا جائزہ لیا جائے تو نیٹو فورسز کے خلاف دو دہائیوں تک جنگ لڑنے والی امارتِ اسلامیہ 150,000 سے زائد باقاعدہ فوج کے ہوتے ہوئے جلاوطن جرنیلوں سے خائف نظر نہیں آتی۔ تاہم، یہ گوریلا حملے کابل کے اس بنیادی دعوے کی نفی ضرور کرتے ہیں کہ ملک میں مکمل اور سراسری سیکیورٹی قائم ہو چکی ہے۔
امارتِ اسلامیہ کیلئے سب سے بڑا اندرونی چیلنج محض بیرونِ ملک اپوزیشن نہیں، بلکہ خود ان کی اپنی صفوں میں ابھرنے والے نسلی اور معاشی تنازعات ہیں۔ شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں مقیم مقامی تاجک طالبان کمانڈر جمعہ خان فاتح کا حالیہ واقعہ اسی گہری دراڑ کا مظہر ہے۔ بدخشاں میں سونے کی مقامی کانوں کے انتظامی کنٹرول پر کابل و قندھاری نژاد طالبان کی پیش قدمی، اور بدری 313 فورسز کی جانب سے مقامی آبادی پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی، جس میں جمعہ خان نے اپنے مقامی تاجک جنگجوؤں کے ساتھ مرکزی فورسز کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔
اگرچہ طالبان کے تاجک نژاد چیف آف اسٹاف قاری فصیح الدین فطرت کی سفارتی مداخلت کے بعد 17 اگست 2026 کو جمعہ خان نے ہتھیار ڈال دئے، لیکن طالبان کی تاریخ بالخصوص بلخاب کے ہزارہ کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کے واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ جمعہ خان کو اب کبھی ماضی کا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہوگا۔ کابل منتقل کئے جانے کے بعد انہیں غیر فعال یا نظر بند کر دیا جائے گا، جبکہ ان کے ساتھیوں کو غیر مسلح کر کے علاقے میں سخت سیکیورٹی نافذ کر دی گئی ہے۔ جو جنگجو طالبان کے انتقام سے خائف ہیں، ان کے قومی مقاومت محاذ (NRF) یا افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) میں شامل ہو کر پہاڑی سلسلوں میں روپوش ہونے کا قوی امکان ہے۔
تحلیلی اور اسٹریٹجک شواہد کا جائزہ لیا جائے تو فی الوقت امارتِ اسلامیہ کے مقابلے میں کوئی ایسا متبادل وجود نہیں رکھتا جو کابل میں حکومت سنبھالنے کی ساخت اور اہلیت رکھتا ہو۔ مخالف دھڑوں میں پھیلی عدم یکجہتی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ احمد مسعود کی قیادت میں قومی مقاومت محاذ (NRF) پنجشیر اور بدخشاں میں محض چند ہزار گوریلا جنگجوؤں تک محدود ہے، جبکہ یاسین ضیا کا ’افغانستان فریڈم فرنٹ‘ (AFF) پروان اور شمالی صوبوں کے شہری علاقوں میں سلیپر سیلز کے ذریعے محدود حملے ہی کر پاتا ہے۔ دوسری طرف سمیع سادات کا افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ سیاسی بیانئے کے علاوہ زمین پر کوئی جغرافیائی تسلط نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس، امارتِ اسلامیہ اپنے 34 صوبوں پر پھیلائی گئی باقاعدہ فوج، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور بھاری اسلحے کے بل بوتے پر ایک قائم شدہ مرکزی حاکمیت قائم کئے ہوئے ہیں۔
جہاں تک داعش خراسان (ISKP) کا تعلق ہے، وہ عقیدوی طور پر امارتِ اسلامیہ کی سب سے خونی حریف ہے۔ تاہم، ثناء اللہ غفاری کی زیرِ زمین تنظیم کسی بھی جغرافیائی خطے کا انتظامی کنٹرول سنبھالنے سے قاصر ہے، کیونکہ ان کے تکفیری نظریات اور مساجد و اقلیتوں پر حملوں کے باعث افغان عوام میں ان کیلئے شدید نفرت پائی جاتی ہے۔
مشرقی صوبے ننگرہار بالخصوص ضلع اچین میں طالبان اور داعش کے درمیان شدید لڑائی اور جانی نقصان ایک حقیقت ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر 25 طالبان کو یرغمال بناکر بے دردی سے مارنے کا دعوے میں حقیقت کم اور پروپیگنڈا ذیادہ ہے۔سیکیورٹی اور سائبر تجزیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان کی سیکیورٹی کو ناکام دکھانے کیلئے پرانی خبروں اور حالیہ جھڑپوں کو ملا کر یہ جھوٹ پھیلایا گیا ہے۔

افغانستان کی اس غیر مستحکم فضا میں خطے کی جیو پولیٹیکل کشمکش کا اثر بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ ممتاز افغان رہنما گلبدین حکمت یار نے حال ہی میں اس خطرے پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو علاقائی قوتوں بالخصوص بھارت اور پاکستان کے درمیان حساب کتاب بے باق کرنے کا میدان نہیں بننا چاہئے۔ ان کا موقف ہے کہ بھارت کو چاہئے کہ وہ اپنی کشمیر کی جنگ افغان سرزمین پر نہ لڑے اور نئی دہلی کو افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہئے، جبکہ کشمیر کا واحد حل حقِ خودارادیت ہے۔
حکمت یار کے بقول، افغانستان کو نہ تو امریکہ اور روس کے خلاف اور نہ ہی ایران و سعودی عرب یا بھارت و پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کا مرکز بنایا جانا چاہئے۔ ان کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر امارتِ اسلامیہ نے افغان سرزمین کو علاقائی رقابتوں سے پاک نہ رکھا، تو بیرونی مداخلت افغان سیکیورٹی کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔

تمام تر سیکیورٹی، سیاسی اور معاشی چیلنجز کے باوجود امارتِ اسلامیہ نہ صرف ان حالات کا مقابلہ کر رہی ہے، بلکہ حقیقت یہی ہے کہ اس وقت افغانستان میں طالبان کا کوئی مضبوط یا واضح متبادل موجود نہیں ہے۔ اگرچہ روس کے علاوہ کسی دوسرے ملک نے کابل کی عبوری حکومت کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا، لیکن اس سے نہ تو افغان ریاست کا نظام ٹھپ ہوا ہے اور نہ ہی عالمی برادری سے ان کا رابطہ کٹا ہے۔ آج بھی عالمی سطح پر افغان پاسپورٹ کارآمد ہے اور سفری و سفارتی ضرورتیں پوری کر رہا ہے، جبکہ گذشتہ دس مہینوں سے پاکستان کے علاوہ دیگر ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی آمدورفت بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیاں بھی مسلسل جاری ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ باضابطہ تسلیم کئے بغیر بھی دنیا عملی سطح پر طالبان حکومت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

Executive Summary: The Afghan Front  Strategic Turmoil
Core Assessment: Despite persistent guerrilla raids, internal ethnic friction, and active terrorist threats, the Islamic Emirate maintains an unquestioned grip on central power in Kabul, as no unified political or military alternative currently possesses the capacity to challenge their rule.
  • Exiled Opposition (AUF): General Sami Sadat’s Afghanistan United Front operates primarily via political lobbying from Washington alongside localized sleeper-cell strikes in southern and western districts. While incapable of holding territory, their operations undermine Kabul’s official narrative of absolute nationwide security.
  • Internal Friction (Badakhshan Crisis): The armed revolt of Tajik commander Juma Khan Fateh in Badakhshan reveals deep-seated ethnic and economic fault lines between local northern commanders and Kandahari leadership over gold mine revenues and centralized military authority.
  • ISKP Operational Reality: ISKP remains a deadly asymmetrical threat but lacks the popular backing or military strength to capture or govern any Afghan province. Viral claims regarding the execution of 25 Taliban fighters in Nangarhar are confirmed to be exaggerated media propaganda merging past casualty data with recent localized skirmishes.
  • Geopolitical & Practical Engagement: Although formal recognition remains paused globally (with Russia as a notable exception), practical statecraft continues. The functional use of the Afghan passport, active regional trade corridors, and ongoing international aid prove that regional powers prefer managing Taliban rule over risking chaotic state collapse.
  • Regional Proxy Warning: Afghan politician Gulbuddin Hekmatyar has explicitly warned against external interference, cautioning India and Pakistan against transferring their regional rivalries onto Afghan soil.