Infographic map of Afghanistan highlighting Kabul, Badakhshan, Kandahar, and the Pak-Afghan border analysis for 5 years of Taliban rule.

طالبان اقتدار کے 5 سال: چیلنجز اور پاک افغان تعلقات

دی خیبر ٹائمز: خصوصی رپورٹ

افغانستان میں افغان طالبان کے اقتدار کو پانچ برس مکمل ہو چکے ہیں۔ کابل سے لے کر بدخشان اور قندھار تک فتح کا جشن منایا گیا، لیکن جشن کے ان ہنگاموں کے پیچھے سوالات کی ایک طویل قطار موجود ہے کہ ان پانچ سالوں میں افغان عوام نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اگرچہ خواتین کی تعلیم، روزگار پر پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے تحفظات اپنی جگہ قائم ہیں، لیکن اس وقت سب سے زیادہ اہم سوال افغانستان کے اندرونی استحکام اور اس کے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ آئندہ تعلقات کی سمت کا ہے۔
طالبان کی حکومت کے حوالے سے عام تاثر یہ تھا کہ ان کے اندرونی کنٹرول کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں ہے، لیکن حال ہی میں صوبہ بدخشان میں ابھرنے والی باغی تحریک نے اس تاثر کو گہرا دھچکا پہنچایا۔ طالبان کے اپنے سابق کمانڈر اور زابل کے سابق ڈپٹی گورنر جمعہ خان فاتح نے بدخشان کی سونے اور دیگر قیمتی معدنیات کی کانوں پر مقامی حقوق کے تحفظ، اور وہاں غیر مقامی اہلکاروں کی تعیناتی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ یہ محض ایک معاشی یا انتظامی تنازع نہیں تھا، بلکہ بدخشان کی تاجک اکثریت اور طالبان کے مرکزی پشتون نظام کے درمیان نسلی کشیدگی کا مظہر بھی تھا۔ اس بحران کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے سمیٹنے کیلئے افغان فوج کے تاجک النسل سربراہ قاری فصیح الدین فطرت کو خود میدان میں اترنا پڑا۔ اگرچہ جمعہ خان فاتح کی گرفتاری اور سرینڈر کے بعد طالبان نے اس محاذ پر فی الوقت قابو پا لیا ہے، لیکن یہ سوال اب بھی زیرِ گردش ہے کہ کیا بدخشان کا یہ محاذ ہمیشہ کیلئے ٹھنڈا ہو چکا ہے یا مقامی عوام کا احساسِ محرومی آئندہ کسی نئے طوفان کو جنم دے گا۔

دوسری جانب افغانستان سے باہر بیٹھی مخالف تنظیمیں خواہ وہ احمد مسعود کی این آر ایف ہو، جنرل سمیع سادات کا یونائیٹڈ فرنٹ ہو یا امراللہ صالح کے گروہ مسلسل سیاسی اور میڈیا تحرک دکھا رہے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ تمام گروہ مل کر بھی فی الوقت طالبان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران طالبان نے ثابت کیا ہے کہ ملک کے اندرونی انتظامی اور عسکری ڈھانچے پر ان کا کنٹرول خاصا مضبوط ہے اور مخالفین فی الحال کسی بڑی تبدیلی کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
اس تمام تر منظرنامے میں سب سے نازک پہلو پاک افغان تعلقات کا ہے۔ گزشتہ دس ماہ سے زائد عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں بند ہیں اور دوطرفہ تجارت معطل ہے۔ پاکستان میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں اور ان میں افغان سرزمین کے استعمال پر اسلام آباد کے شدید تحفظات نے حالات کو کشیدہ کر رکھا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ یا ان کی کمزوری پاکستان کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔ اگر طالبان کی حکومت گرتی ہے یا ان کے اندرونی دھڑوں (حقانی اور قندھاری) کے درمیان خانہ جنگی چھڑتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑے گا، اور نتیجے میں ایک بار پھر تشدد اور لاکھوں افغان مہاجرین کی ہجرت کی نئی لہر پاکستان کا رخ کریگی۔ لہٰذا پاکستان کا مسئلہ طالبان کے نظام سے نہیں، بلکہ ان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی، حافظ گل بہادر اور بی ایل اے جیسے گروہوں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں۔

اسی کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے پردے کے پیچھے سفارتی آمد و رفت بھی جاری ہے۔ کابل سے ذرائع کے مطابق طالبان حکومت پاکستان کو تحریری ضمانت دینے پر راضی ہو چکی ہے، لیکن یہاں بنیادی اختلاف الفاظ کے انتخاب پر آ کر اٹک گیا ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ معاہدے کی دستاویز میں پاکستان پر حملہ آور گروہوں کیلئے فتنہ الخوارج یا دہشتگرد کی واضح اصطلاح استعمال کی جائے، جبکہ طالبان صرف ٹی ٹی پی (TTP) کے نام تک محدود رہنے پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ نکتہ اس لئے حساس ہے کیونکہ وہاں ٹی ٹی پی کے علاوہ حافظ گل بہادر گروپ، لشکرِ اسلام اور اتحاد المجاہدین جیسے کئی دیگر گروہ بھی متحرک ہیں۔

اس ڈائیلاگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے علاقائی سطح پر نئی صف بندیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ چین ایک بار پھر بیجنگ میں دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے سرگرم ہے۔ دوسری طرف، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے حالیہ مکہ معاہدے کا اثر بھی پاک افغان تعلقات پر پڑنے کی قوی امید ہے۔ چونکہ ریاض اور انقرہ دونوں کے افغان طالبان کے ساتھ بہتر تعلقات موجود ہیں، اس لئے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ قطر اور استنبول کے سابقہ مذاکراتی ادوار کی طرح، یہ دونوں مسلم ممالک اسلام آباد اور کابل کے درمیان جاری اس جمود کو توڑنے میں اہم ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

طالبان اقتدار کے پانچ سال بعد یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ افغانستان کے موجودہ سیاسی ڈھانچے کو بائی پاس کرنا یا اسے زبردستی تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم، کابل کی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی برادری میں تنہائی ختم کرنے اور اپنے ہمسایوں بالخصوص پاکستان کے تحفظات دور کئے بغیر وہ ایک پائیدار نظام نہیں چلا سکتے۔ آنے والے ہفتے انتہائی اہم ہیں جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا چین، سعودی عرب اور ترکیہ کی سفارتی ثالثی پاک افغان برف پگھلانے میں کامیاب ہوتی ہے یا خطہ مزید غیر یقینی کا شکار رہے گا۔

5 Years of Taliban Rule: Internal Strains, Pak-Afghan Friction, and Regional Diplomacy
As the Afghan Taliban mark five years in power, the milestone presents a complex picture of firm internal control juxtaposed with deep economic isolation and lingering regional security tensions. While the Taliban celebrated their anniversary in Kabul, critical questions remain regarding the regime’s long-term stability and its evolving relations with neighboring countries particularly Pakistan.

1. Internal Strains: The Badakhshan Revolt

While anti-Taliban opposition groups operating abroad such as Ahmad Massoud’s National Resistance Front (NRF) and General Sami Sadat’s United Front currently lack the ground strength to challenge Kabul, internal dissension within the Taliban’s own ranks has posed a more immediate test.
  • The Revolt of Juma Khan Fateh: A former Taliban commander and deputy governor of Zabul, Juma Khan Fateh, launched a localized rebellion in Badakhshan. The conflict stemmed from grievances over local mining rights (gold and mineral extraction) and opposition to the deployment of non-local (predominantly Pashtun) Taliban personnel in a Tajik-majority province.
  • Resolution and Implication: To prevent ethnic escalation between Tajiks and Pashtuns, the Taliban dispatched Armed Forces Chief Qari Fasihuddin Fitrat (himself a Tajik from Badakhshan) to negotiate. Fateh eventually surrendered and was transferred to face trial. Though Kabul managed to contain the revolt, the incident highlights underlying regional and ethnic friction that could resurface if local grievances remain unaddressed.

2. Pak-Afghan Friction & Security Imperatives

Relations between Islamabad and Kabul remain severely strained, marked by over ten months of border closures and suspended trade due to cross-border militant attacks in Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan.
  • Pakistan’s Strategic Stance: Security analysts emphasize that regime change or the collapse of the Taliban government is not in Pakistan’s interest. A power vacuum or civil war between Taliban factions (e.g., Kandahari vs. Haqqani leadership) would trigger widespread instability, violent spillovers, and another massive influx of Afghan refugees into Pakistan.
  • Core Demand: Pakistan’s primary demand is not political change in Kabul, but verifiable action ensuring Afghan territory is not used by hostile militant groups including the TTP, Hafiz Gul Bahadur Group, and the BLA.

3. The Terminological ImpasseDiplomatic efforts to secure written counter-terrorism assurances from Kabul have hit a linguistic and political roadblock:

  • Pakistan’s Position: Islamabad insists that formal agreements explicitly designate hostiles as “Fitna al-Khawarij” or “terrorist organizations” to cover the full spectrum of active militant factions (such as Lashkar-e-Islam and Ittehad-ul-Mujahideen).
  • Taliban’s Stance: The Afghan Taliban are willing to provide written commitments only regarding the TTP by name, resisting broader terminology that could complicate their internal narrative or domestic alliances.

4. Regional Mediation: China and the Mecca Accord

To break the deadlock, key regional stakeholders are stepping in:
  • China’s Initiative: Beijing continues active diplomatic shuttle diplomacy to bring Islamabad and Kabul back to the negotiation table to protect regional economic and infrastructural interests.
  • The Trilateral Axis: The recently concluded “Mecca Accord” between Pakistan, Saudi Arabia, and Turkey offers a new diplomatic channel. Given Riyadh and Ankara’s favorable leverage and diplomatic ties with the Afghan leadership, these nations are well-positioned to act as credible mediators similar to previous rounds in Doha and Istanbul to help thaw relations between Pakistan and Afghanistan.

Conclusion

Five years into Taliban rule, the regime’s territorial hold on Afghanistan appears secure against armed opposition. However, sustainable stability remains unattainable without resolving cross-border security issues and addressing internal economic and governance grievances. The coming months will determine whether regional diplomacy led by China, Saudi Arabia, and Turkey can successfully bridge the trust deficit between Islamabad and Kabul.