خصوصی تحریر: مہویش تسلیم
تاریخ، تجارت اور تہذیبوں کے سنگم پر آباد یہ بازار کبھی شاہراہِ ریشم کے کارواں کا پڑاؤ تھا، اور آج بھی اپنی گلیوں میں بالی ووڈ کے سنہرے دور کی یادیں سموئے ہوئے ہے
شام کا دھندلکا اترتے ہی پشاور کے اندرونِ شہر کی فضا بدل جاتی ہے۔ چپلی کباب اور تکے کی خوشبو گلیوں میں رچ بس جاتی ہے، قہوہ خانوں سے برتنوں کی کھنک اور گاہکوں کی گفتگو کی آوازیں ابھرتی ہیں، اور صدیوں پرانی جھروکوں اور لکڑی کی بالکونیوں والی عمارتیں گویا سرگوشیوں میں کوئی پرانا قصہ سنا رہی ہوں۔ یہ ہے تاریخی قصہ خوانی بازار پشاور کا وہ قلب جسے کبھی انگریز حکمرانوں نے “وسطی ایشیا کا پکاڈیلی” کہہ کر خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ یہ بازار محض خرید و فروخت کی جگہ نہیں بلکہ ایک زندہ کتاب ہے جس کے ہر ورق پر تاریخ، تجارت، فن اور بے شمار انسانوں کی داستانیں رقم ہیں، اج بھی یہاں ہر آنے جانے والے کو ان کی تاریخ یاد کرانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
پشاور: ایشیا کا زندہ ترین قدیم شہر
قصہ خوانی بازار کی کہانی سمجھنے کیلئے پہلے پشاور کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ بازار اسی قدیم شہر کے دل میں دھڑکتا ہے۔ درۂ خیبر کے دہانے پر واقع پشاور کو اکثر مؤرخین ایشیا کا قدیم ترین مسلسل آباد شہر قرار دیتے ہیں، جس کی تاریخ کم و بیش تین ہزار برس پرانی ہے۔ گندھارا تہذیب کے اس گہوارے کا قدیم نام “پُرشاپورہ”، یعنی “انسانوں کا شہر” تھا۔
برصغیر کے دروازے پر واقع ہونے کے باعث یہ شہر ہمیشہ فاتحین، درویشوں اور تاجروں کی راہ گزر رہا۔ ہخامنشیوں، سکندرِ اعظم کی افواج اور موریہ خاندان کے بعد کشان بادشاہ کنشک کے دور میں پشاور کو دارالحکومت کا درجہ ملا، جہاں بدھ مت کے عظیم الشان استوپے اور خانقاہیں تعمیر ہوئیں۔ اس کے بعد ہند شاہی، غزنوی، مغل، درانی، سکھ اور بالآخر انگریز ادوار میں یہ شہر مسلسل آباد اور متحرک رہا۔ ہر دور نے اپنے نقوش چھوڑے: مغلوں نے مسجد مہابت خان اور قلعہ بالا حصار جیسی شاندار عمارتیں تعمیر کیں، سکھوں نے قلعہ جمرود بنوایا، اور انگریزوں نے چوک یادگار اور گھنٹہ گھر جیسی نشانیاں چھوڑیں۔ اسی متنوع اور ہنگامہ خیز ماضی کے بیچ قصہ خوانی بازار نے جنم لیا۔
قصہ خوانی نام کے پیچھے کی کہانی
“قصہ خوانی” کا لفظی مطلب ہے “قصے سنانے کی جگہ” اور یہ نام کسی شاعرانہ تصور سے نہیں بلکہ ایک حقیقی، صدیوں پرانی روایت سے نکلا ہے۔ شاہراہِ ریشم کی ایک اہم شاخ پر واقع ہونے کے باعث پشاور، وسطی ایشیا، افغانستان، ایران اور چین سے آنے والے تجارتی قافلوں کا سب سے بڑا پڑاؤ رہا۔ یہ قافلے کئی کئی دنوں کی مسافت اور کاروبار کے بعد شام ڈھلے اسی بازار کی سراؤں اور مہمان خانوں میں قیام کرتے۔
رات کو الاؤ روشن ہوتے، قہوے کے دور چلتے، اور تھکے ہارے مسافر اپنے اپنے دیس کے حالات، سفر کے خطرات، محبت اور جنگ کے قصے ایک دوسرے کو سناتے۔ انہی محفلوں سے پیشہ ور قصہ گو بھی ابھرے، جو فن کے ساتھ داستانیں سناتے: کبھی شاہنامے کے رستم و سہراب کی جنگی داستان، کبھی پشتو کی مشہور رومانوی حکایت “آدم خان و درخانئی” کی محبت کی کہانی، تو کبھی بادشاہوں کی سخاوت اور پریوں کے طلسماتی قصے۔ یہ داستان گو اکثر بازار کی بالاخانوں میں بیٹھ کر گھنٹوں سامعین کو مسحور رکھتے۔ انیسویں صدی کے وسط میں پشاور کے برطانوی کمشنر سر ہربرٹ ایڈورڈز اس بازار کی رونق اور ہنگامہ خیزی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسے لندن کے مشہور پکاڈیلی سرکس سے تشبیہ دیتے ہوئے وسطی ایشیا کا پکاڈیلی قرار دیا۔
یوں صدیوں کی زبانی روایت نے اس بازار کو ایسا نام دیا جو آج تک زندہ ہے، اگرچہ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور جدید ذرائع ابلاغ کے آنے سے پیشہ ور قصہ گوئی کا فن تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں خیبرپختونخوا حکومت نے اس تاریخی بازار کی رنگوں اور عمارت پر تحریری کئے گئے تاریخوں کو نمایاں کرکے اس کی تاریخی ساخت کو زندہ کرنے کی ایک کوشش کی، جس سے ایک بار تھوڑا بہت پرانا تاریخ کو زندہ کردیا۔
شہدائے قصہ خوانی: 23 اپریل 1930: جب بازار خون میں نہلایا گیا
قصہ خوانی بازار کی تاریخ صرف رومانوی داستانوں تک محدود نہیں بلکہ اس نے برصغیر کی جدوجہدِ آزادی کا ایک نہایت المناک باب بھی رقم کیا۔ 23 اپریل 1930 کو خان عبدالغفار خان کی عدم تشدد پر مبنی تحریک خدائی خدمتگار سے وابستہ کارکنوں کے خلاف کارروائی کے دوران بکتر بند گاڑیوں میں سوار برطانوی ہندوستانی فوج نے پرامن اور غیر مسلح مظاہرین پر اندھادھند فائرنگ کر دی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے، جبکہ غیر سرکاری ذرائع ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔ مختلف مورخین نے صحیح اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے، مگر ہم اس کو صرف کوشش ہی کہہ سکتے ہیں، صحیح اعداد و شمار شائد کسی کو بھی معلوم نہیں، تاہم قصہ خوانی کا یہ سانحہ تاریخ میں قتلِ عام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس سانحہ نے تحریکِ آزادیٔ ہند کو نئی قوت بخشی اور صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کو آزادی کی جدوجہد کے نقشے پر نمایاں کر دیا۔
قصہ خوانی بازار کی روح دراصل تجارت سے جڑی ہے۔ صدیوں تک یہ بازار، اور اس سے متصل گورکھٹری کا قدیم مقام، جو کبھی گوتم بدھ کے پیالے کی جگہ اور پھر مغل دور کی عظیم سرائے کے طور پر مشہور ہوا، چین، وسطی ایشیا، ایران اور افغانستان سے آنے والے کارواں سراؤں کا مرکز رہے۔ اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں پر لدے یہ قافلے ریشم، مصالحہ جات، خشک میوہ جات، قالین اور نمکین چمڑے جیسی اشیاء لے کر آتے اور یہاں سے ہندوستان کے میدانی علاقوں کی جانب روانہ ہوتے۔ یوں پشاور، اور خاص طور پر قصہ خوانی بازار، شاہراہِ ریشم اور جرنیلی سڑک (گرینڈ ٹرنک روڈ) کے سنگم پر ایک عالمی تجارتی گزرگاہ کی حیثیت اختیار کر گیا۔
اسی تجارتی روایت کی ایک شاندار مثال بازار سے متصل محلہ سیٹھیاں میں آج بھی قائم سیٹھی حویلیاں ہیں۔ سیٹھی خاندان، جن کا کاروبار ایران، افغانستان، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک پھیلا ہوا تھا، نے انیسویں صدی کے آخر میں یہ حویلیاں تعمیر کروائیں۔ ان کے نقش و نگار، رنگین شیشے کا کام اور لکڑی کی نفیس کندہ کاری میں وسطی ایشیائی اور بخارا کے طرزِ تعمیر کی جھلک نمایاں ہے، گویا یہ عمارتیں خود اس بات کی گواہ ہیں کہ تجارت نے کس طرح دور دراز ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا۔
قصہ خوانی کا ایک اور باب! جس کی جڑیں بالی ووڈ تک پہنچ گئے ہیں۔
قصہ خوانی بازار سے جڑی ایک اور حیران کن کہانی بھارتی فلم انڈسٹری بالی ووڈ سے متعلق ہے، جسے شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں: بالی ووڈ کے سنہرے دور کے کئی سب سے بڑے ستارے دراصل اسی بازار کی گلیوں میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔
اسی بازار سے متصل محلہ ڈھکی دلگراں میں واقع کپور حویلی، بھارتی سنیما کے مشہور کپور خاندان کا آبائی گھر ہے۔ یہ عالی شان پانچ منزلہ حویلی، جس میں چالیس کے قریب کمرے تھے اور جس کے مہرابی دروازوں پر نفیس پھولدار نقش و نگار بنے ہوئے تھے، 1918 سے 1922 کے درمیان دیوان بشیشورناتھ کپور نے تعمیر کروائی۔ ان کے بیٹے پرتھوی راج کپور نے بھارتی فلم انڈسٹری میں قدم رکھ کر خاندان کی اداکاری کی روایت کی بنیاد رکھی۔ 14 دسمبر 1924 کو اسی حویلی میں پرتھوی راج کے ہاں راج کپور کی پیدائش ہوئی، جو آگے چل کر بھارتی سنیما کے سب سے بڑے نام بنے۔ ان کے چچا ترلوک کپور بھی اسی گھر میں پیدا ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ نوے کی دہائی میں جب راج کپور کے بھائی ششی کپور اور ان کے بیٹوں رشی و رندھیر کپور نے اس آبائی حویلی کا دورہ کیا تو عقیدت کے طور پر وہاں کے صحن سے کچھ مٹی بھی ساتھ بھارت لے گئے۔ کپور حویلی کو 2016 میں پاکستانی حکومت نے قومی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔
اسی بازار سے چند سو میٹر کے فاصلے پر محلہ خداداد میں بھارتی سنیما کے ایک اور بے تاج بادشاہ، دلیپ کمار (اصل نام محمد یوسف خان) کا آبائی گھر واقع ہے، جہاں وہ 1922 میں پیدا ہوئے۔ سو سال سے زائد پرانی یہ عمارت 2014 میں اس وقت کی نواز شریف حکومت کے دور میں قومی ثقافتی ورثہ قرار دی جا چکی ہے۔ 1997 میں جب پاکستان نے دلیپ کمار کو ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز، نشانِ امتیاز، سے نوازا تو وہ اپنے اسی آبائی گھر کی زیارت کے خواہش مند تھے، مگر عوام کے بے پناہ ہجوم کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ان کی اہلیہ، اداکارہ سائرہ بانو، نے بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ دلیپ کمار کو اپنے آبائی گھر سے گہرا جذباتی لگاؤ تھا اور بچپن کی یادیں بیان کرتے ہوئے وہ اکثر جذباتی ہو جاتے تھے۔
اسی محلے میں شاہ رخ خان کے والد، تاج محمد خان، کا آبائی گھر بھی موجود ہے، جس پر فی الحال ان کی ایک کزن کی خاندان رہائش پذیر ہے ۔ خود شاہ رخ خان ستر کی دہائی میں دو مرتبہ اس گھر کی زیارت کر چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں لیجنڈز کے آبائی گھر ایک دوسرے سے محض تین چار سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، گویا چند گلیوں کا یہ ٹکڑا بھارتی سنیما کی تاریخ کا ایک خاموش مگر اہم مرکز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً بھارتی صحافی اور محقق بھی ان مقامات کے بارے میں تحقیق و تجسس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
ان تاریخی حویلیوں کی حالیہ کہانی امید اور مایوسی کے درمیان جھولتی رہی ہے۔ 2018 میں مرحوم اداکار رشی کپور کی خصوصی درخواست پر پاکستانی حکومت نے کپور حویلی کو عجائب گھر میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ 2021 میں محکمہ آثارِ قدیمہ خیبرپختونخوا نے دونوں حویلیوں کی سرکاری تحویل حاصل کر لی، اور جولائی 2025 میں صوبائی حکومت نے دونوں کی بحالی کیلئے تین کروڑ روپے سے زائد کی منظوری بھی دی۔ مگر افسوس کہ اپریل 2026 میں شدید بارشوں اور ایک زلزلے کے جھٹکوں نے پہلے سے کمزور کپور حویلی کی ایک دیوار منہدم کر دی، جس نے ایک بار پھر اس تاریخی ورثے کی بقا پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ ماہرینِ آثار قدیمہ اب فوری بحالی کے کام کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ یہ نایاب ورثہ مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے نہ مٹ جائے۔ مدھو بالا کے آبائی گھر کا محلِ وقوع البتہ آج تک واضح طور پر معلوم نہیں ہو سکا، جبکہ مورخین بتاتے ہیں، کہ ان کا مکان بھی شائد یہیں آس پاس موجود ہے۔ بالی ووڈ اسٹار امجد خان (گھبڑ سنگھ) بھی پشاور کا رہائشی تھے، جن کا ابائی گھر یہاں سے دور نوے کلی میں تھے، جو آج اس کو خالی پلاٹ یا کھنڈر بن کر رہ گیا ہے، لیکن قارئین کو معلوم ہو کہ امجد خان بھی اسی شہر پشاور کے نوی کلی کا رہائشی تھے۔
آج کا قصہ خوانی بازار: پرانی روح، نیا لباس
وقت کے ساتھ قصہ خوانی بازار کے بیشتر قدیم قہوہ خانے اب جوتوں، کپڑوں اور روزمرہ اشیاء کی دکانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، مگر ایک دو قدیمی قہوہ خانے آج بھی اپنی اصل حالت میں بحال ہیں جہاں مقامی افراد اور سیاح روایتی قہوے کی چسکیاں لیتے ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بازار کی تزئین و آرائش پر بھی کام ہوا ہے: لٹکتی بجلی کی تاریں ہٹا دی گئی ہیں اور سیاحوں کے بیٹھنے کیلئے بینچ نصب کیے گئے ہیں۔ اسی طرح متصل سیٹھی ہاؤس کو مکمل عجائب گھر کی شکل دی جا چکی ہے، اور گھنٹہ گھر سے گورکھتری تک تقریباً پانچ ہزار میٹر طویل تاریخی راستے پر مغلیہ، سکھ اور انگریز دور کی پچاسی سے زائد عمارتوں کی تزئین و آرائش مکمل ہو چکی ہے۔ چپلی کباب، تکہ اور خشک میوہ جات کی مہک آج بھی اس بازار کی پہچان ہے، اور شام ڈھلتے ہی یہاں کی گہما گہمی کسی نئے آنے والے کو یہ باور کرا دیتی ہے کہ صدیوں پرانی روایت نے ابھی مکمل طور پر دم نہیں توڑا۔
قصہ خوانی بازار محض اینٹ، گارے اور لکڑی کی عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تاریخ، تہذیب اور انسانی تعلق کی ایک زندہ علامت ہے۔ یہاں کی ہر گلی میں تجارتی قافلوں، محبت اور جنگ کے قصوں، آزادی کی قربانیوں اور فن کی وہ کہانیاں پوشیدہ ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے سنیما کو متاثر کیا۔ کپور حویلی کی دراڑیں اور دلیپ کمار کے گھر کی خاموش دیواریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ تاریخ کو محفوظ رکھنا محض عمارتوں کو بچانا نہیں بلکہ ایک پوری تہذیبی یادداشت کو زندہ رکھنا ہے۔ جب تک قصہ خوانی بازار کے قہوہ خانوں سے قہوے کی خوشبو اٹھتی رہے گی اور اس کی تنگ گلیوں میں لوگوں کے قدموں کی چاپ گونجتی رہے گی، اس بازار کے قصے یونہی نسل در نسل زندہ رہیں گے۔
آخر میں ہم قصہ خوانی کے عظیم شہدا کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، اور ان کیلئے ہمیشہ دعاگو رہینگے، کیونکہ وہ امن محبت اور بھائی چارے کا پیامبر تھے، جن کا مقصد صرف اتحاد و یکجہتی تھا نہ کہ ریاست کی تقسیم۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ کسی ملک یا ریاست کے مخالف نہیں، بلکہ ٹو پھوٹ اور انتشار کے خلاف نبرد ازما تھے۔




