پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں صوبائی محکمۂ اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر مولوی صدیق اللہ قریشی کے قتل کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ طالبان زرائع کے مطابق قتل کے الزام میں گرفتار مشتبہ شخص نے ابتدائی تفتیش کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ اس کا تعلق داعش خراسان (ISKP) سے ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ بیان مشتبہ شخص نے اپنی ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران دیا۔ تاہم طالبان حکام نے ابھی تک سرکاری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی تفتیشی نتائج عوام کے سامنے پیش کئے گئے ہیں۔
مولوی صدیق اللہ قریشی کو چند روز قبل بدخشان کے دارالحکومت فیض آباد میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ طالبان حکومت کے صوبائی محکمۂ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ تھے اور مقامی انتظامی و میڈیا امور میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ حملہ آور موقع سے فرار ہوگیا تھا، تاہم طالبان سیکیورٹی اداروں نے بعد میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا۔
طالبان اہلکار کے مطابق گرفتار ملزم نے ابتدائی بیان میں خود کو داعش خراسان (ISKP) کا رکن قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کار اس دعوے کی مختلف پہلوؤں سے جانچ کر رہے ہیں، جن میں ملزم کے روابط، سفری ریکارڈ، مواصلاتی رابطے اور ممکنہ سہولت کار بھی شامل ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ ملزم نے اکیلے کارروائی کی یا اس کے ساتھ کوئی منظم نیٹ ورک بھی موجود تھا۔
ابھی تک داعش خراسان یا کسی اور تنظیم نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ طالبان حکومت نے بھی باضابطہ طور پر اس حملے کا الزام کسی گروہ پر عائد نہیں کیا ہے۔
تاہم اگر تفتیش میں ملزم کے داعش خراسان سے تعلق کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ طالبان حکومت کیلئے ایک اہم سیکیورٹی چیلنج تصور کیا جائیگا، کیونکہ طالبان گزشتہ چند برسوں سے داعش خراسان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
بدخشان افغانستان کا ایک حساس سرحدی صوبہ ہے جو تاجکستان، چین اور پاکستان کے قریب واقع ہے۔ یہ صوبہ جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں یہاں طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیوں اور داعش خراسان کی موجودگی سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
سینیئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس قتل میں داعش خراسان کا کردار ثابت ہوتا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ طالبان کی سخت کارروائیوں کے باوجود تنظیم بعض علاقوں میں خفیہ نیٹ ورک برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔ دوسری جانب بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ابتدائی اعترافی بیان کو حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق اور مکمل عدالتی کارروائی ضروری ہوتی ہے۔
طالبان حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مزید گرفتاریوں کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا گیا۔ سرکاری تفتیش مکمل ہونے تک قتل کی اصل منصوبہ بندی، ممکنہ سہولت کاروں اور حملے کے محرکات سے متعلق کئی اہم سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔
دی خیبر ٹائمز نوٹ: اس خبر میں شامل داعش خراسان سے متعلق دعویٰ طالبان کے ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار کے بیان پر مبنی ہے۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی داعش خراسان نے تاحال اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
Short Summary
A suspect arrested over the killing of Badakhshan’s Taliban-appointed Director of Information and Culture, Mawlawi Sediqullah Quraishi, has reportedly claimed during initial interrogation that he is a member of ISIS-K (ISKP), according to Taliban sources. The Taliban have not officially confirmed the claim, and ISKP has not taken responsibility for the attack. Authorities say the investigation is ongoing to verify the suspect’s alleged links and determine whether others were involved. Analysts caution that the confession alone is not conclusive evidence and requires independent verification.




