A photojournalist's photograph shows four armed Afghan men in traditional clothing and tactical gear walking along a rocky mountain path. They carry rifles and an RPG. In the background are snow-capped mountains, a village, and smoke rising from a small, damaged fort flying a white Taliban flag. Watermark "THE KHYBER TIMES".

امارتِ اسلامی کا ’ہنی مون پیریڈ‘ ختم؟: بدخشان کی دراڑیں اور طالبان کا بڑھتا ہوا داخلی و علاقائی بحران

دی خیبرٹائمز: خصوصی تحقیق و تحریر 

افغانستان میں امارتِ اسلامی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ سال بعد کابل کی حکومت کا یہ دعویٰ مسلسل کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے کہ ملک میں کوئی منظم مخالف باقی نہیں رہا۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران دو اہم شمال مشرقی صوبوں بالخصوص بدخشان میں شروع ہونے والی مسلح جھڑپوں اور بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ نے صورتِ حال کا ایک بالکل مختلف اور ناہموار رخ سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ طالبان کے سخت گیر نظریات، خواتین اور لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے جیسے شدید اقدامات، اور داخلی انتظامیہ میں غیر مساوی تقسیم نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں افغان عوام اور موجودہ حکومت کے درمیان ہنی مون پیریڈ اب ختم ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔
یہ چیلنجز صرف عسکری نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے داخلی سیاسی خلیج، عوامی بددلی اور ایک سنگین علاقائی اعتباری بحران کی گہری پرچھائیاں موجود ہیں۔
گزشتہ دنوں بدخشان کے ضلع یفتلِ سفلیٰ پر طالبان مخالف فورسز کا عارضی قبضہ امارتِ اسلامی کے سیکورٹی ڈسپنسیشن میں پہلی واضح دراڑ کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ اس واقعے کے چند ہی دنوں بعد جنگ کا دائرہ زیباک تک پھیل گیا، جہاں “افغانستان فریڈم فرنٹ”(AFF) نے مبینہ طور پر ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی کی۔ 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس جھڑپ کے دوران طالبان کے دو ڈرونز گرانے کے ادعائے نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اپوزیشن گروپس اب محض ہٹ اینڈ رن (مارو اور بھاگ جاؤ) کے روایتی طریقوں سے نکل کر لاجسٹکس، انٹیلی جنس اور جدید تکنیکی صلاحیتوں کا استعمال کر رہے ہیں۔
اس مزاحمت کی قیادت افغان نیشنل آرمی کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف اور سابق عبوری وزیر دفاع جنرل محمد یاسین ضیاء کر رہے ہیں۔ یہاں تاریخ کا ایک دلچسپ الٹ پھیر سامنے آیا ہے، جنرل یاسین ضیاء، جو ماضی میں افغان ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے طالبان کے خلاف آپریشنز کی قیادت کرتے تھے، آج خود ایک شورش پسند کی حیثیت سے طالبان کے موجودہ چیف آف جنرل اسٹاف قاری فصیح الدین فطرت (جن کا تعلق بھی بدخشان سے ہے) کے مقابل ہیں۔ کردار بدل چکے ہیں، لیکن ہدف اور علاقائی جغرافیہ وہی ہے۔
اگرچہ سینئر افغان صحافیوں جیسے سمیع یوسزئی کی تجزیاتی رپورٹس یہ تقاضا کرتی ہیں کہ بدخشان میں کسی بڑے پیمانے کی افراتفری کے دعووں کو احتیاط کی نظر سے دیکھا جائے اور آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جائے، لیکن زیباک اور گردونواح میں طالبان کے ہیلی کاپٹروں کا نہ اتر پانا اور مقامی انتظامی چیلنجز اس بات کا ثبوت ہیں کہ شمال مشرق میں سیکیورٹی صورتِ حال معمول کے مطابق نہیں ہے۔

عسکری تحرک سے کہیں زیادہ خطرناک طالبان کے اندرونی ڈھانچے میں بننے والی دراڑیں ہیں۔ ذرائع اور میدانی رپورٹس کے مطابق بدخشانی اور نان پشتون طالبان کمانڈروں کے اندر قندھار اور ہلمند کے نیٹ ورکس کے بے جا اثر و رسوخ کو لے کر سخت ناگواری پائی جاتی ہے۔
کلیدی سیکیورٹی عہدوں پر تعیناتیوں، انتظامی اختیارات کی قندھار میں تمرکز اور بدخشان کے قیمتی معدنی وسائل کی تقسیم پر مقامی طالبان میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ تاریخی طور پر شورشیں صرف باہر سے آنے والے حملوں سے نہیں بنتیں، بلکہ وہ تب پھلتی پھولتی ہیں جب حکمران طبقے کی اندرونی ہم آہنگی ٹوٹتی ہے، انٹیلی جنس معلومات لیک ہوتی ہیں اور مقامی آبادی اپنے ہی حکمرانوں کا دفاع کرنے سے پیچھے ہٹنے لگتی ہے۔
افغانستان کے عام شہریوں میں ابتدا میں جو امن و امان کی امیدیں وابستہ تھیں، وہ اب سخت گیر پالیسیوں کے بوجھ تلے دب چکی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کے روزگار کے مواقع ختم کرنا اور معاشرتی آزادیوں پر کڑی بندشیں ایسے اقدامات ہیں جن کے بارے میں شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ امارتِ اسلامی نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔
عوام کی ایک بڑی تعداد کا احساس یہ ہے کہ بدامنی کا ختم ہونا خوش آئند تھا، مگر اس کی قیمت مکمل معاشرتی اور معاشی جامد کی صورت میں ادا نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی آبادی میں غیر مقامی (خارجی) طالبان فورسز کی موجودگی پر عدم اطمینان اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔

علاقائی اعتباری بحران: سفارتی اشتعال انگیزیاں اور دہشتگردی کے خدشات
داخلی چیلنجز کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کا علاقائی محاذ پر اعتبار مسلسل مجروح ہو رہا ہے۔ تین حالیہ پیش رفتیں اس سفارتی تنہائی کی عکاسی کرتی ہیں:
* ازبکستان کے ساتھ سفارتی کشیدگی: طالبان کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے وزیر خالد حنفی کا سمرقند اور بخارا جیسے تاریخی اور علمی اسلامی مراکز کے بارے میں یہ بیان کہ وہاں “صرف اسلام کا نام رہ گیا ہے”، تاشقند کیلئے شدید اشتعال انگیزی کا باعث بنا۔ تاشقند نے اس بیان کو گمراہ کن قرار دے کر باضابطہ احتجاج کیا۔ ایک ایسے پڑوسی کو ناراض کرنا جس نے طالبان کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے تھے، ایک سنگین سفارتی غلطی سمجھی جا رہی ہے۔
* چینی مفادات پر سیکیورٹی کے سوالات: طالبان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے چین کے شہریوں پر ہونے والے حملوں کا ملبہ غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر ڈالنا، ان کے داخلی سیکیورٹی فریم ورک کی ناکامی کا جواب نہیں دے پاتا۔ بیجنگ افغانستان میں معدنیات اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کا خواہش مند ہے، مگر اپنے شہریوں کو تحفظ نہ ملنے کی وجہ سے تمام منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔
* بین الاقوامی سیکیورٹی خدشات: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے داعش خراسان کے خطرے سے متعلق انتباہ کو ذبیح اللہ مجاہد نے اگرچہ مسترد کیا، مگر اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور مارچ 2024ء کا ماسکو حملہ اس بات کا مظہر ہیں کہ داعش اور دیگر 20 کے قریب عسکریت پسند گروپس (بشمول ٹی ٹی پی، ٹی آئی پی، القاعدہ، آئی ایم یو) وغیرہ کی افغان سرزمین پر موجودگی ایک کڑوی حقیقت ہے۔
یفتل نے طالبان کے سیکیورٹی نظام کی کمزوری کو ظاہر کیا تھا، جبکہ زیباک میں ہونے والی کارروائی نے اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے عزم اور استعداد کا پتا دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب طالبان شورش کی قیادت کر رہے تھے اور افغان ریاست دفاع پر تھی، آج طالبان ریاست چلا رہے ہیں اور خود کو اسی نوعیت کی گوریلا حکمتِ عملی کے سامنے پاتے ہیں جس کا وہ کبھی حصہ تھے۔
اگر امارتِ اسلامی نے اپنی اندرونی ناانصافیوں کا ازالہ نہ کیا، خواتین کی تعلیم اور بنیادی حقوق پر نظرِ ثانی نہ کی، اور اپنے ہمسایہ ممالک کو سیکیورٹی کے بارے میں زبانی تردیدوں کے بجائے عملی اقدامات سے مطمئن نہ کیا، تو بدخشان جیسے دور دراز اضلاع سے اٹھنے والی یہ چنگاریاں ایک وسیع تر داخلی و علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ افغان عوام اب توجیہات کے نہیں، بلکہ ایک مستحکم، جواب دہ اور جامع ریاست کے حق دار ہیں۔

Exclussive Summery: 

  • Escalating Armed Resistance: Recent coordinated attacks in Badakhshan’s Yaftal and Zebak districts by the Afghanistan Freedom Front (AFF) signal a shift from basic hit-and-run tactics to sophisticated resistance, exposing clear vulnerabilities in the Taliban’s military apparatus.

  • Internal Factional Friction: Discontent is mounting among local Badakhshi Taliban due to the heavy centralization of political power, key appointments, and mineral wealth distribution by Kandahari and Helmandi networks.

  • Fading Public Goodwill: The Taliban’s initial “honeymoon period” with the public is drawing to a close, driven by restrictive social policies—particularly the ban on girls’ education—and growing resentment toward non-local Taliban forces.

  • Regional Credibility Deficit: Unnecessary diplomatic missteps (such as insulting Uzbek cultural heritage), an inability to protect Chinese nationals and investments, and persistent skepticism from Russia and the UN regarding ISIS-K highlight Kabul’s deepening regional isolation.

Ultimately, the former insurgency is discovering the heavy burdens of governing, facing a dual challenge of internal fragmentation and mounting external pressure.