بنوں اور اس کے گردونواح میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف ایک بڑا اور ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 شدت پسند کو ہلاک دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد ہلاک ہونے والے ان دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے خوارج کا تعلق بھارتی پراکسی ‘فتنہ الخوارج’ سے تھا اور وہ متعدد دہشتگرد کارروائیوں، حالیہ خودکش دھماکوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ بنوں میں حالیہ بدامنی کے بعد سکیورٹی اداروں اور پولیس نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے، اور عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، موجودہ آپریشن کی کامیابی کیلئے گزشتہ تین ماہ سے علاقے میں باقاعدہ میپنگ کا کام جاری تھا، تاکہشدت پسندوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اور خفیہ ٹھکانوں کی درست نشاندہی کی جا سکے یہی وجہ ہے کہ اب انتہائی ٹارگٹڈ انداز میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
شدت پسندوں کے خلاف جاری اس فیصلہ کن کارروائی کے پیش نظر بنوں اور گردونواح میں سکیورٹی خدشات کے باعث مواصلاتی نظام مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی معطلی کے ساتھ ساتھ پی ٹی سی ایل (PTCL) کا لوکل ایکسچینج بھی بند ہے، تاکہ دہشتگردوں کے باہمی رابطوں کو توڑا جا سکے۔
رواں سال بنوں میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث مقامی کاروباری زندگی شدید مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ جاری آپریشن کی وجہ سے عارضی طور پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ضرور ہوئی ہیں، تاہم مقامی تاجر برادری اور عام شہریوں نے اس آپریشن کا خیرمقدم کیا ہے۔
مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ بنوں میں چھوٹے بڑے کاروباروں اور عام شہریوں سے بڑے پیمانے پر بھتے وصول کئے جا رہے تھے، جس نے جینا محال کر دیا تھا۔ تاجروں کے مطابق، اگر اس کارروائی کے نتیجے میں شدت پسندوں اور بھتہ خوروں کا مکمل صفایا ہو جاتا ہے، تو عارضی کاروباری نقصان کوئی معنی نہیں رکھتا، اس سے نہ صرف کاروبار دوبارہ فروغ پائے گا بلکہ خطے کے عوام کو بھی طویل عرصے بعد سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔




