Author Sushmita Banerjee and her husband Janbaz Khan

کولکتہ کی سٹیج لائٹس سے پکتیکا کے مقتل تک سشمیتا بینرجی کا ادھورا سفر

دی خیبر ٹائمز اسپیشل انویسٹی گیشن

ایک باغی روح اور تھیٹر کا جادو
یہ 1980ء کی دہائی کے اواخر کا کولکتہ تھا۔ شہر کی فضاؤں میں تھیٹر، آرٹ اور انقلاب کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ اسی ماحول میں ایک 25 سالہ بنگالی لڑکی، سشمیتا بندھوپادھیائے، اپنی خودمختار اور زندہ دل طبیعت کے ساتھ زندگی کے خواب بن رہی تھی۔ ایک متوسط ہندو گھرانے میں تین بھائیوں کی اکلوتی لاڈلی بہن، جس کیلئے زندگی کا مطلب تھیٹر کی روشنیاں اور فنونِ لطیفہ کا جادو تھا۔ لیکن تقدیر کے اسٹیج پر اس کیلئے ایک ایسا سکرپٹ لکھا جا رہا تھا، جس کا تصور بھی کسی مروجہ افسانے میں ممکن نہ تھا۔
ایک شام، تھیٹر کی ریہرسل کے دوران، سشمیتا کی نظریں ایک پروقار اور پرسرار افغان تاجر پر پڑیں۔ اس کا نام جانباز خان تھا، ایک ایسا شخص جو ہندوستان اور افغانستان کے درمیان خشک میوہ جات کی تجارت اور قرض کے کاروبار کے سلسلے میں کولکتہ میں مقیم تھا۔ جانباز کا تعلق افغانستان کے دور دراز، سنگلاخ اور روایات میں جکڑے صوبے پکتیکا سے تھا۔
دو مختلف دنیاؤں، دو بالکل متضاد ثقافتوں اور دو الگ مذاہب کے مابین ایک ایسی محبت پروان چڑھی جس کا انجام کسی طوفان سے کم نہیں ہونا تھا۔ سشمیتا کی ہندو برادری اور جانباز کا مسلم پس منظر، یہ رشتہ سماجی طور پر ایک بارود کا ڈھیر تھا جس پر چنگاری گر چکی تھی۔
جب معاشرے کی دیواریں اونچی ہو جائیں، تو محبت اپنے راستے خود تراشتی ہے۔ لیکن یہ راستے اکثر مقتل کی طرف لے جاتے ہیں۔
خاندان کی شدید ترین مخالفت کو ہوا میں اڑاتے ہوئے، 2 جولائی 1988ء کو سشمیتا نے ایک انتہائی جرات مندانہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے جانباز خان کے ساتھ خفیہ طور پر نکاح کر لیا۔ جب یہ راز کھلا تو کولکتہ کے اس متوسط گھرانے میں جیسے زلزلہ آ گیا۔ خاندان نے علیحدگی کا مطالبہ کیا، لیکن سشمیتا نے اپنے خون کے رشتوں کے بجائے اپنی محبت کو چنا۔ انہوں نے نہ صرف اپنا گھر چھوڑا بلکہ مذہب کو بھی خیرباد کہہ کر اسلام قبول کر کے ایک نیا نام اختیار کر لیا: سیدہ کمالہ۔
1989ء کی ایک دھندلی صبح، وہ اپنے شوہر کا ہاتھ تھامے کابل روانہ ہو گئیں، یہ سوچے بغیر کہ یہ سفر انہیں زندگی کے ایسے موڑ پر لے جائے گا جہاں ہر قدم پر موت ان کا استقبال کرے گی۔
پکتیکا کا پہلا صدمہ: خوابوں کا بکھرنا
جب سشمیتا پکتیکا کے ایک دور دراز روایتی گاؤں پاٹیا پہنچیں، تو وہاں کی سنگلاخ زمین نے ان کا استقبال ایک ایسے سچ سے کیا جس نے ان کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ انہیں معلوم ہوا کہ جانباز خان وہاں پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس کی پہلی بیوی گلگوٹی اور بچے اسی گھر میں مقیم تھے۔ کولکتہ کی شہری، آزاد فضاؤں میں سانس لینے والی سشمیتا کیلئے یہ انکشاف کسی ذہنی قیامت سے کم نہ تھا۔
لیکن وہ ہار ماننے والی عورت نہیں تھیں۔ صدمے کے گہرے گھونٹ پی کر انہوں نے اسی مشترکہ خاندانی نظام میں اپنی جگہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ کچھ ہی عرصے بعد جانباز خان انہیں اسی اجنبی دیس، اجنبی زبان (پشتو) اور کڑی روایات کے درمیان تنہا چھوڑ کر کاروبار کے سلسلے میں واپس کولکتہ لوٹ گیا۔ سشمیتا اب برقعے کی پابندیوں، مردانہ تسلط اور ایک بالکل نئی ثقافت کے حصار میں قید ہو چکی تھیں۔

سشمیتا کا طالبان کے سامنے پہلی سرکشی
1990ء کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی افغانستان پر طالبان کا کنٹرول بڑھنے لگا۔ سشمیتا نے اس گھٹن زدہ ماحول میں بھی اپنے اندر کی آزاد روح کو مرنے نہیں دیا۔ دائیگی اور نسوانی امراض کی بنیادی تربیت رکھنے کے باعث انہوں نے اپنے مٹی کے گھر میں ہی خواتین کیلئے ایک خفیہ دواخانہ (کلینک) قائم کر لیا۔ ایک ایسے خطے میں جہاں خواتین کیلئے کسی مرد معالج کے پاس جانا گناہ سمجھا جاتا تھا، سشمیتا وہاں کی مظلوم عورتوں کیلئے ایک مسیحا بن کر ابھریں۔
لیکن یہی مسیحائی ان کا سب سے بڑا جرم بن گئی۔ ایک دن طالبان کے عسکریت پسند ان کے کلینک پر انہیں دھماکنے آئے، ایک عورت کا یوں خود مختار ہو کر کاروبار چلانا ان کے نظامِ حکومت کیلئے ایک کھلی بغاوت تھا۔
طالبان کے الزامات سشمیتا کا موقف اور ردِعمل
کاروبار چلانا اور “بداخلاق عورت” کا لیبل “میں صرف تڑپتی ہوئی عورتوں کا علاج کر رہی ہوں”
برقعے کی خلاف ورزی اور ننگا چہرہ برقعے کے بجائے سادہ لباس اور چہرہ کھلا رکھنا
مردوں سے بلا جھجھک گفتگو معاشرتی قدغنوں کو تسلیم کرنے سے صاف انکار
اس سرکشی کی سزا انہیں سرِعام کوڑے مار کر دی گئی۔ نگرانی سخت کر دی گئی، سائے ان کا پیچھا کرنے لگے، اور پکتیکا کی وہ مٹی جو کبھی محبت کا گہوارا لگتی تھی، اب ان کیلئے ایک وسیع قید خانہ بن چکی تھی۔
مٹی کی دیوار میں سوراخ اور موت کی عدالت
1994ء میں سشمیتا نے پہلی بار فرار کی کوشش کی، لیکن پاسپورٹ نہ ہونے کے سبب اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے سے انہیں واپس بھیج دیا گیا، جہاں ان کے سسرالیوں نے انہیں دوبارہ پکتیکا لاکر گھر میں نظر بند کر دیا۔ تشدد کا ایک نیا دور شروع ہوا، مگر ان کا حوصلہ فولاد کا تھا۔
1995ء کی ایک تپتی رات، جب ان کا خاندان سمیت پورا گاؤں گہری نیند سو رہا تھا، سشمیتا نے اپنے ہاتھوں سے اپنے کمرے کی موٹی مٹی کی دیوار کو آہستہ آہستہ کھودنا شروع کیا۔ ناخنوں اور معمولی اوزاروں سے مٹی ہٹاتے ہوئے انہوں نے ایک سوراخ کیا اور رات کی سیاہی میں کابل کی طرف پیدل نکل پڑیں، ایک ایسا سفر جو تقریباً 200 کلومیٹر طویل اور بارودی سرنگوں سے بھرا تھا۔
مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ کابل کے قریب طالبان کے ایک گشتی دستے نے انہیں دھر لیا۔ 15 مسلح جنگجوؤں نے انہیں گھیر رکھا تھا۔ انہیں فوری طور پر طالبان کی مذہبی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں انہیں عورت کی حیثیت کے منافی سرگرمیوں پر سزائے موت سنا دی گئی۔ 22 جولائی 1995ء کی صبح ان کی پھانسی کیلئے مقرر ہوئی۔
سشمیتا نے اس ہولناک صبح کو یاد کرتے ہوئے بعد میں بتایا تھا:
سشمیتا کہتی ہے کہ صبح ساڑھے دس بجے مجھے ایک کمرے میں لایا گیا، جہاں میرے جلاد بنے پندرہ طالبان جنگجو قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ موت میرے سامنے کھڑی تھی، لیکن میں نے طے کر لیا تھا کہ میں گولی پیٹھ پر نہیں، سینے پر کھاؤں گی۔
عین اس وقت جب جلاد آگے بڑھے، سشمیتا نے ناقابلِ یقین جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہیں موجود ایک گارڈ کا اسلحہ چھین لیا اور ان کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئیں۔ اسی دوران گاؤں کے ایک مقامی معتبر (ملک) نے، جو ان کی طبی خدمات کا معترف تھا، عدالت میں مداخلت کی اور انہیں عارضی مہلت دلوانے میں کامیاب ہو گیا۔ اسی رات، سرحدوں کے محافظوں کو چکما دیتے ہوئے، وہ کابل میں بھارتی سفارت خانے پہنچیں اور 12 اگست 1995ء کو کولکتہ جانے والی پرواز میں سوار ہو گئیں۔
جب وہ کولکتہ ایئرپورٹ پر اتریں تو تیز بارش ہو رہی تھی۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، میں نے بارش کو اپنے جسم پر گرنے دیا، تاکہ یہ میرا سارا درد بہا لے جائے۔

قلم بطور ہتھیار اور بالی وڈ کا سحر
ہندوستان واپسی پر سشمیتا ایک قومی ہیرو بن چکی تھیں۔ انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے اپنے خوف کو قلم کی زبان دی۔ 1997ء میں ان کی آپ بیتی “کابلی والار بنگالی بو” (کابلی والے کی بنگالی بیوی) شائع ہوئی تو اس نے فروخت کے تمام ریکارڈ توڑ دئے۔ 7 لاکھ سے زائد نسخے فروخت ہوئے اور دنیا نے پہلی بار طالبان کے جبر کو ایک عورت کی آنکھ سے دیکھا۔
2003ء میں اس کتاب کو بالی وڈ فلم “Escape from Taliban” میں تبدیل کیا گیا، جس میں منیشا کوئرالہ نے سشمیتا کا لازوال کردار ادا کیا۔ سشمیتا اب شہرت کی بلندیوں پر تھیں، محفوظ تھیں اور اپنے وطن میں تھیں۔ لیکن کہانی کا سب سے بڑا اور ہولناک سسپنس ابھی باقی تھا۔
مقتل کی پکار: 2013ء کی مہلک واپسی
برسوں گزر گئے، لیکن پکتیکا کی مٹی کی خوشبو اور اپنے شوہر جانباز خان کی محبت سشمیتا کے دل سے نہ نکل سکی۔ جانباز خان سے دوبارہ رابطہ ہوا اور انہوں نے سشمیتا کو یقین دلایا کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔ جنوری 2013ء میں، سشمیتا نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے ان کے خاندان کے رونگٹے کھڑے کر دئے۔ انہوں نے پکتیکا واپس جانے کا اعلان کیا۔
ان کے بھائی گوپال بینرجی اور پبلشر سوپن کمار نے ان کے ہاتھ جوڑے، منتیں کیں کہ وہاں جانا خودکشی کے مترادف ہے، لیکن سشمیتا نے مسکرا کر کہا، اب وہاں طالبان کمزور ہو چکے ہیں، میں اپنی گود لی ہوئی بیٹی اور شوہر کے ساتھ رہوں گی اور افغان خواتین پر ایک نئی کتاب لکھوں گی۔
وہ یہ بھول گئیں کہ 2013ء کا پکتیکا 1995ء سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکا تھا۔ یہ اب صرف طالبان کا نہیں، بلکہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے ایک انتہائی متشدد منحرف دھڑے “فدائی محاذ” کا ہولناک گڑھ بن چکا تھا، جس کی کمان ملا نجیب اللہ عرف عمر خطاب کے ہاتھ میں تھی۔

آخری پیغام اور دہشت کی رات
4 ستمبر 2013ء کی شام، سشمیتا نے فیس بک پر ہندوستان میں موجود اپنی ایک قریبی دوست شالنی کو ایک انتہائی مختصر اور پراسرار میسج بھیجا:
“کل کابل، پرسوں انڈیا۔”
اس میسج سے صاف ظاہر تھا کہ پکتیکا پہنچنے کے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اور وہ وہاں سے نکلنے کی ہنگامی پلاننگ کر چکی تھیں۔ لیکن وہ “کل” سشمیتا کی زندگی میں کبھی نہ آ سکا۔
اسی رات ٹھیک بارہ بجے، آدھی رات کے سناٹے میں، 6 مسلح نقاب پوش جاں باز خان کے گھر کی 12 فٹ اونچی مٹی کی چاردیواری پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے جانباز خان کے کمرے کا دروازہ توڑا، ان کی کنپٹی پر بندوق رکھی، آنکھوں پر پٹی باندھی اور ہاتھ پیچھے باندھ کر زمین پر گرا دیا۔ حملہ آوروں نے جانباز کے کان میں سرگوشی کی: “اگر آواز نکالی تو فوراً بھیجا اڑا دیں گے۔”
حملہ آور سیدھے سشمیتا کے کمرے کی طرف بڑھے۔ سشمیتا کو نیند سے بیدار کر کے گھسیٹتے ہوئے رات کے اندھیرے میں باہر لے جایا گیا۔ رات کے قریباً تین بجے، پاٹیا گاؤں کے مضافات میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اٹھی۔

پکتیکا کا المناک انکشاف
5 ستمبر 2013ء کی صبح، جب سورج کی پہلی کرن نے پکتیکا کے صدر مقام شرن کے نواحی گاؤں “سرائے قلعہ” کو چھوا، تو ایک مقامی مدرسے کے قریب سڑک کنارے مقامی لوگوں کو ایک لاش ملی۔ عورت کا جسم گولیوں سے چھلنی تھا۔
جب پولیس نے تفتیش کی تو پورے جنوبی ایشیا میں کہرام مچ گیا۔ یہ لاش کسی گمنام افغان خاتون کی نہیں تھی، یہ سشمیتا بینرجی کی تھی، وہ عورت جس نے 18 سال پہلے طالبان کو چکما دے کر دنیا کو حیران کر دیا تھا، اس بار اسی مٹی نے اسے ہمیشہ کیلئے اپنے اندر جذب کر لیا تھا۔ ان کے جسم پر 20 سے زائد گولیوں کے نشانات تھے۔
دی خیبر ٹائمز انویسٹی گیشن: قاتل کون؟ ایک ان سلجھی گتھی
سشمیتا بینرجی کا قتل آج بھی ایک ایسا معمہ ہے جس کے پیچھے کئی ہولناک نظریات چھپے ہوئے ہیں اور دی خیبر ٹائمز کی تحقیقات کے مطابق اس کیس کے تین اہم رخ ہیں:
1. فدائی محاذ کا اعتراف: 14 ستمبر کو طالبان کے منحرف گروپ فدائی محاذ کے ترجمان قاری حمزہ نے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سشمیتا ایک “بھارتی جاسوس” تھیں اور انہوں نے اپنی کتابوں کے ذریعے اسلام اور طالبان کی توہین کی تھی۔
2. حقانی نیٹ ورک کا سایہ: افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اندرونی رپورٹس کے مطابق، یہ قتل فدائی محاذ نے نہیں بلکہ پاکستان نواز حقانی نیٹ ورک کے کارندوں نے انجام دیا تھا، کیونکہ وہ خطے میں کسی بھی بھارتی شہری کی موجودگی کو برداشت کرنے کے حق میں نہیں تھے۔
3. گھریلو سازش کا شبہ: سب سے بڑا سسپنس کولکتہ میں سشمیتا کے اپنے خاندان نے کھڑا کیا۔ ان کے بھائی گوپال بینرجی نے جانباز خان کے بیانات میں واضح تضادات کی نشان دہی کی۔ رپورٹس کے مطابق جانباز خان اپنے مقتول بھائی کی بیوہ سے دوسری شادی کرنا چاہتا تھا اور سشمیتا کی جائیداد اور ان کی واپسی کا وقت اس خاندانی غیرت یا گھریلو سازش کا حصہ ہو سکتا ہے، جس میں جانباز خان رات بھر محفوظ رہا جبکہ سشمیتا کو چن کر مارا گیا۔
المئے پر آخری ستم یہ ہوا کہ جانباز خان نے سشمیتا کی میت کو بھارت بھیجنے کے بجائے خاموشی سے افغانستان کی اسی سنگلاخ مٹی میں دفن کر دیا، باوجود اس کے کہ حکومتِ ہند اور ان کا خاندان مسلسل ان کی میت کی واپسی کا تقاضا کرتا رہا۔
وہ عورت جس نے اپنی زندگی میں بندوقوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے وطن کی مٹی کا حق ادا کیا تھا، موت کے بعد بھی اپنے وطن کی مٹی کو ترستی رہ گئی۔ سشمیتا بینرجی کی کہانی ایک ایسی آواز کی کہانی ہے جسے خاموش کرنے کیلئے بیس گولیوں کا سہارا لینا پڑا، لیکن ان کا لکھا ہوا ایک ایک حرف آج بھی پکتیکا کی ہواؤں میں گونجتا ہے۔

—————————————————————————————————

Exclusive Summery:
The Kolkata Romance & The Afghan Shock (1988–1989)
The Bond: Sushmita, a fiercely independent Hindu theater artist from Kolkata, fell in love with Janbaz Khan, an Afghan businessman.
The Sacrifice: Defying her family, she converted to Islam (renamed Sayeeda Kamala), secretly married him, and moved to Paktika, Afghanistan, in 1989.
The Betrayal: Upon arrival, she suffered a massive shock Janbaz was already married to another woman and left Sushmita behind with his conservative, patriarchal family to return to his business in India.
Rebellion & The Daring Escape (1990–1995)
The Defiance: Under the rising shadow of the Taliban, Sushmita refused to stay hidden. She opened a secret medical clinic for village women and repeatedly defied strict dress codes, earning public floggings from militants.
The Death Sentence: In 1995, after a failed flight, she was captured by the Taliban and sentenced to death.
The Escape: On the eve of her execution, she courageously stole a guard’s weapon to hold off her captors, dug a hole through her room’s mud wall in the dead of night, and successfully fled back to India.
The Legacy: Back home, she wrote the massive bestseller Kabuliwalar Bengali Bou, which was adapted into the 2003 Bollywood movie Escape from Taliban.
The Fatal Return & Unsolved Mystery (2013)
The Return: Driven by love for her husband and a desire to write a new book on Afghan women, she fatally decided to return to Paktika in 2013, believing the region was safer.
The Execution: On September 4, 2013, masked gunmen breached her home, bound her husband, dragged her into the night, and shot her over 20 times.
The Enigma: While a Taliban splinter group (Fدائی محاذ) claimed responsibility, accusing her of being an Indian spy, investigative leads also point toward the Haqqani Network or a dark domestic conspiracy involving family property.
The Ultimate Irony: The woman who once risked everything to touch the soil of her homeland was buried in the cold, rocky earth of Afghanistan, never to return to India.