"Dramatic mountain border crossing with barbed wire in the foreground, contrasting a modern, illuminated CPEC industrial highway with dark, shadowy mountain terrain."

پاک افغان تزویراتی بریک ڈاؤن، سی پیک ٹو کا مستقبل اور چین کا علاقائی کردار

تحریر: ناصر داوڑ
پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ ہمیشہ سے اسٹریٹجک عدم اعتماد، نوآبادیاتی سرحدی وراثت اور سرحد پار عسکریت پسندی کے بوجھ تلے دبی رہی ہے۔ اگست 2021 میں جب کابل پر طالبان نے دوبارہ کنٹرول حاصل کیا، تو اسلام آباد کے پالیسی سازوں کو امید تھی کہ اس تبدیلی سے مغربی بارڈر پر طویل المدتی استحکام آئیگا اور بھارت کا اثر و رسوخ محدود ہو جائے گا، مگر یہ تاریخی حساب کتاب تیزی سے غلط ثابت ہوا۔ دونوں پڑوسیوں کے مابین تعلقات ایک سنگین تزویراتی بریک ڈاؤن کا شکار ہوئے جو بالآخر سال 2026 میں ایک باضابطہ کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئے۔ اس جغرافیائی سیاسی تبدیلی نے نہ صرف دونوں ممالک کی سلامتی کو تباہ کر دیا ہے بلکہ بیجنگ کے اہم ترین علاقائی اقتصادی منصوبے، یعنی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے (CPEC Phase II) کے مستقبل کو بھی شدید شکوک و شبہات کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
اس کشیدگی کی جڑیں 1893 کے اس معاہدے میں پیوست ہیں جس کے تحت سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ اور امیر عبدالرحمٰن خان نے 2,640 کلومیٹر طویل سرحد کا تعین کیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی افغانستان نے اس سرحد کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور یہ تنازع سرد جنگ، افغان جہاد اور 1996 کی پہلی طالبان حکومت کے دوران بھی برقرار رہا۔ یہاں تک کہ نائن الیون کے بعد جب ٹی ٹی پی (TTP) کا ظہور ہوا، تو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین اسٹریٹجک اور نظریاتی اتحاد مزید گہرا ہو گیا۔ اگست 2021 میں طالبان کی واپسی کو پاکستان نے ایک امید کے طور پر دیکھا تھا، لیکن یہ خوش فہمی تب دم توڑ گئی جب کابل نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے صاف انکار کر دیا۔
آج تعلقات کے بگاڑ کی وجہ صرف وقتی واقعات نہیں بلکہ گہرے ساختی تضادات ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق مشرقی افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 6,000 سے 6,500 جنگجو موجود ہیں جو سرحد پار حملوں کا ذریعہ ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن پر لگائی گئی باڑ کو افغان طالبان ایک نوآبادیاتی لکیر قرار دیتے ہیں، جبکہ مہاجرین کی زبردستی بیدخلی، تجارتی راستوں کی بندش اور کرنسی کی اسمگلنگ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
فروری 2026 میں یہ سفارتی تناؤ باضابطہ عسکری تصادم میں بدل گیا۔ اسلام آباد میں ایک مسجد پر خودکش دھماکے کے ردعمل میں پاکستان نے 26 فروری 2026 کو آپریشن غضب الحق کے تحت کابل، قندھار اور بگرام سمیت سات صوبوں میں فضائی حملے کئے۔ اس کے جواب میں کابل نے آپریشن ردّ الظلم کے ذریعے پاکستان کے سیکیورٹی ہیڈ کوارٹرز کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ 16 مارچ 2026 کو کابل کے امید منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملے نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کی، جس میں اقوامِ متحدہ کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ جون اور جولائی 2026 میں بھی یہ سلسلہ نہ تھم سکا اور بارڈر جھڑپوں کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا۔
اس جنگ کو روکنے کیلئے ماضی میں کئی کوششیں کی گئیں۔ اکتوبر 2021 سے مئی 2022 تک کابل اور خوست میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات ہوں، یا جون 2022 میں قبائلی جرگہ، ہر بار نتیجہ صفر رہا۔ اکتوبر 2025 میں دوحہ اور استنبول کے متعدد راؤنڈز کے دوران ترکی اور قطر نے ثالثی کی کوشش کی، جہاں سیکیورٹی اصولوں پر بات تو ہوئی لیکن عمل درآمد پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اپریل 2026 میں ارمچی پروسیس کے تحت چین کی نگرانی میں ہونے والی بات چیت اور اس کے بعد مئی اور جون 2026 کے غیر رسمی ٹریک 1.5 سیشنز بھی اس آگ کو بجھانے میں ناکام رہے، کیونکہ سیکیورٹی اور خود مختاری کے متضاد بیانیوں کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نہیں نکل سکا۔ ان تمام مذاکرات میں کبھی سیکیورٹی نمائندوں، کبھی انٹیلی جنس چیفس اور کبھی سفارت کاروں نے حصہ لیا، لیکن فریقین اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ان عسکری کارروائیوں میں چین کی کوئی براہِ راست شمولیت نہیں ہے۔ بیجنگ کی پالیسی کسی بھی ملک کی خودمختاری میں فوجی مداخلت کے خلاف ہے، اور وہ بار بار تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا رہا ہے۔ چین کا اصل ہدف افغانستان میں امن کا قیام ہے تاکہ سی پیک ٹو کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ ستمبر 2025 میں جس سہ طرفہ معاہدے کے تحت سی پیک کو افغانستان تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، آج وہ ان سرحدی بندشوں اور تنازعات کی نذر ہو چکا ہے۔ چینی کمپنیاں اور سرمایہ کار اب سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کے باعث اپنے منصوبوں، بشمول مس عینک تانبے کے پروجیکٹ اور آمو دریا آئل پراجیکٹ، پر کام کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
یہاں طالبان کا رویہ ایک تضاد پیش کرتا ہے۔ وہ ٹی ٹی پی کو اپنے نظریاتی بھائی مانتے ہوئے پاکستان کے دباؤ کے باوجود انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن چین کے سب سے بڑے دشمن ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) یا (TIP) ترکستان اسلامک پارٹی کے خلاف انہوں نے انتہائی عملیت پسندی دکھائی ہے۔ بیجنگ کے خدشات دور کرنے کیلئے انہوں نے ایغور جنگجوؤں کو واخان راہداری سے نکال کر دیگر علاقوں میں منتقل کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے تعلقات صرف کاروباری لین دین پر مبنی ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے تین منظرنامے ابھرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ دونوں ممالک ایک مینیجڈ تصادم کی کیفیت میں رہیں گے جہاں مکمل جنگ اور مکمل امن دونوں ہی نہیں ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ ایک دائمی تزویراتی تعطل برقرار رہے گا جس سے معاشی ترقی رک جائیگی۔ تیسرا اور خطرناک ترین منظرنامہ یہ ہے کہ اگر پاکستان عسکری دباؤ بڑھاتا ہے تو کابل میں حکومتی گرفت کمزور ہوگی، جس کا فائدہ داعش خراسان (ISKP) جیسے گروہوں کو ملے گا اور پورا خطہ ایک نئے انتشار کا شکار ہو جائیگا۔ تزویراتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یکطرفہ فوجی کارروائی کے بجائے ایک کثیر الجہتی علاقائی ڈھانچہ ہے، جہاں معاشی ترغیبات کو سیکیورٹی پر فوقیت دی جائے۔ بصورتِ دیگر، ڈیورنڈ لائن پر لگی باڑ عسکریت پسندی کی ایک ایسی لکیر بنی رہے گی جس کے سائے میں ترقی کے تمام خواب دم توڑ جائیں گے۔

یہ بھی ایک نظر ملاحظہ کیجئے:

خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی!

____________________________________________

Executive Summary: The Strategic Breakdown of Pak-Afghan Relations (2026)

The bilateral relationship between Pakistan and Afghanistan has spiraled from historic mistrust into a full-scale “strategic breakdown” by 2026, characterized by open military conflict. This deterioration is primarily driven by the unresolved TTP (Tehreek-e-Taliban Pakistan) threat, border disputes over the Durand Line, and the failure of multiple diplomatic mediation efforts, including talks in Doha, Istanbul, and Urumqi.

Key Points:

  • Military Escalation: Following a series of cross-border attacks, Pakistan initiated “Operation Righteous Fury” in early 2026, leading to direct military confrontations and civilian casualties on both sides.

  • CPEC Phase II in Jeopardy: The regional instability has stalled China’s ambitious CPEC Phase II project. Major economic ventures, such as the Mes Aynak copper mine and various industrial zones, remain in limbo due to severe security concerns.

  • China’s Balancing Act: Beijing maintains a pragmatic, transactional relationship with the Afghan Taliban. While it successfully pressures Kabul to contain its own security threat (ETIM/Uyghurs), it avoids direct military involvement, opting for diplomatic pressure to protect its long-term economic interests.

  • The Future Outlook: The region is trapped in a structural deadlock. Taliban’s ideological support for the TTP prevents any genuine security cooperation. Experts warn that without moving beyond unilateral military operations toward a multilateral regional framework, the area faces prolonged conflict, potential rise of extremist groups like ISKP, and the total abandonment of regional connectivity goals.