کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اس حوالے سے این ڈی ایم کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ نے اپنے ایک سخت بیان میں ان گرفتاریوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا ہے، محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم سندھ کی قیادت شمالی وزیرستان کے علاقے درپہ خیل میں ملک سیف اللہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف ایک پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی تھی لیکن انتظامیہ نے جمہوری حق تسلیم کرنے کے بجائے قیادت کو ہی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس طرح کے جبر سے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کئے گئے تمام صوبائی عہدیداروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے کیونکہ وہ صرف اپنے علاقے میں ہونے والی ناانصافیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، پارٹی ذرائع کے مطابق ان گرفتاریوں کے باوجود امن اور انصاف کے لئے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔




